پاکستان کھپے
دنیا میں میری آمد کے سانچے کا سال غالباً وہی ہے جب دار کی خشک ٹہنی بھٹو صاحب کا نصیب ٹھہری تھی۔ بچپن جنرل ضیاء کے دور کی نذر ہوا۔ سیاسی شعور کا یہ عالم تھا کہ جب باچا خان فوت ہوئے تو گھر میں سب سے پوچھتا رہا یہ کون صاحب تھے؟ چھ مہینے بعد جنرل ضیاء فوت ہوئے تو بھی کچھ اتا پتہ نہیں تھا کہ یہ صاحب کیونکر ہمارے حکمران بنے تھے؟ عرصہ بعد اس ستم ظریفی کا پتہ چلا کہ باچا خان کو نہ جاننے کی وجہ یہ تھی کہ میں بدقسمتی سے جنرل ضیا کو جانتا تھا۔
بینظیر بھٹو پاکستان آ کر سیاست میں متحرک ہوئیں تو پتہ چلا کہ کوئی بھٹو ہوتے تھے جو خلق خدا کے دلوں میں دھڑکتے تھے۔ جمہوری تماشا لگا تو قاضی حسین احمد، ولی خان، مولانا فضل الرحمن، نواز شریف، محمود خان اچکزئی، اجمل خٹک، نصیر اللہ بابر جیسے ناموں سے آشنا ہوئے۔ اپنے کرکٹنگ ہیرو عمران خان کو اصولی سیاست کا پرچم بلند کرتے پایا تو پہلی بار سیاست پر پیار آیا اور دل و جان ان کے کوچے میں چھوڑ آیا۔ بینظیر اور نواز شریف کے بیچ کشیدگی سے ملک کو بہت نقصان پہنچا لیکن ہم جیسوں کو تھوڑا بہت سیاسی شعور نصیب ہوا اور پتہ چلا کہ غلام اسحق خان جیسے کردار بھی ہوتے ہیں اور یہ کہ یہ کن کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ حالت اپنی یہ تھی کہ ہر حکومت کے آنے پر خوشی اور جانے پر سوا خوشی ہوتی۔
مشرف نے نواز شریف کو قید میں ڈال کر حکومت پر قبضہ کیا تو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال یہ مشاہدہ ایک دلچسپ تجربے کے طور پر زندگی کا حصہ بنا اور احساس ہوا کہ طاقت کچھ بھی کر سکتی ہے۔ طاقت کا نشہ کیا ہوتا ہے؟ اس کو مشرف کی صورت میں مجسم طور پر دیکھا۔ شیخ رشید، آفتاب شیرپاؤ، پرویز الہی اور فیصل صالح حیات جیسے کرداروں سے آشنائی ہوئی۔ شوکت عزیز کی صورت پاکستان میں امریکی اثر رسوخ کا عملی نمونہ دیکھا۔ نام نہاد وار آن ٹیرر کو اپنی جوانی کھاتے اور اپنی گلی کوچوں کو آگ کی نذر ہوتے دیکھا۔
مشرف کی رعونت سے جاں خلاصی کی امید افتخار چوہدری کی صورت نظر آئی تو ان کی گاڑی کے بیچ دیوانہ وار بھاگتا رہا۔ ریاست ہوگی ماں کی جیسی، جیسے نعروں کے رومان میں کھو گیا تو اپنے مستقبل سے بھی بے نیاز ہو گیا۔ افتخار چوہدری کے لئے نہ صرف نعرے لگائے بلکہ شاعری بھی کی۔
بینظیر جو پہلے ہی کچھ زیادہ پسند نہیں تھیں، افتخار چوہدری کی بحالی کی کھل کر حمایت نہ کرنے کے باعث اور ناپسندیدہ ہو گئیں۔ عمران خان کا عاشق تو میں تھا ہی، عدلیہ بحالی تحریک میں فعال کردار ادا کرنے اور مشرف کو کھل کر للکارنے پر نواز شریف صاحب بھی دل میں جگہ بنا گئے۔ بینظیر کی ذہانت اور قابلیت سے جب جب متاثر ہوتا، آصف زرداری پر بہت غصہ آتا۔ پروپیگنڈے کے زیر اثر دل میں یہ یقین راسخ ہو گیا کہ بینظیر اچھی سیاستدان ہیں لیکن زرداری نے اس کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ شومئی قسمت کہ جب پیچھے نظر دوڑاتا ہوں تو اپنے سیاسی شعور کے ان تمام مراحل میں تمام نعروں میں جو نعرہ سب سے نرالا، سب سے زوردار، سب سے توانا اور سب پر بھاری نظر آتا ہے وہ اسی آصف زرداری کی زبان سے ادا ہوا۔
پاکستان کھپے۔
پچھلے چند دنوں سے پاکستان کی بنیادوں کو منہدم کرنے کا جو مظاہرہ ایک سیاستدان کی جانب سے دیکھتا ہوں اور جس طرح عقل و خرد سے عاری لوگ اس بندے کے پیچھے دیوانے ہوئے پڑے ہیں، آصف زرداری پر پیار آنے لگا ہے۔ سفاکی سے قتل کی گئی اپنی بیوی کی لاش پر پاکستان نہ کھپے کے جواب میں پاکستان کھپے کا نعرہ کوئی جی دار بندہ ہی لگا سکتا ہے
پاکستان کھپے۔


