بازیچہ اطفال اور بے لگام کلام


ٹی وی چینلز مشاہیر کی برسی کے موقع پر ان کی یاد تازہ کرنے کے لئے جو پروگرام ترتیب دیتے ہیں اس کا عنوان باندھتے ہیں ”آج تم یاد بے حساب آئے“ ہمیں بھی آج غالب بہت یاد آرہے ہیں نہ تو آج ان کی برسی ہے اور نہ ہی ان کی انگریز بہادر کی عدالت میں پیشی کی تاریخ۔ ہمیں تو یاد آئے ہیں ان کے اس شعر کی وجہ سے جو انہوں نے خبر نہیں کن حالات کی گردش کی بدولت کہا ہے۔

بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے میرے آگے
ہوتا ہے شب روز تماشا میرے آگے

ہم بھی ہر روز نیا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ابھی کل ہی جو واقعات گزرے انہوں نے ہمیں خاصا پاگل بنا دیا تھا کہ آج نئی مصیبتوں نے آن گھیرا ہے۔ وجہ بن گئی وہی عمران خان کی عدالت عالیہ میں پیشی۔ جس کے موقع پر جناب چیف جسٹس نے فرمایا ”انہیں عمران خان کو یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی“ بس یہ الفاظ ان کے منہ سے نکلے ہی تھے ایک ہاہاکار مچ گئی۔ کسی نے کہا وہ فادر آف لاء نہیں مدر ان لاء ہیں۔ ویسے یہ بات مولانا فضل الرحمان نے کہی ہے، ان کے انگریزی سے واقفیت اور ذومعنی ہونے کی داد دیے بغیر رہا نہیں جاتا۔
کسی نے کہا کہ نواز شریف، مریم نواز اور فریال تالپور وغیرہ کے عدالت میں پش ہونے پر وہ کبھی خوش نہیں ہوئے، ویسے ہم بھی کہتے ہیں کہ خدا نہ کرے یہ شخصیات جن کا ذکر ہوا کبھی ایسے حالات میں عدالت میں پیش ہوں جن میں عمران خان کو عدالت نے بلوایا تھا، مثلاً میاں نواز شریف صاحب جو اپنے برادر خورد کے صرف پچاس روپے کے بیان حلفی کی بناء پر برسوں سے لندن میں مزے لوٹ رہے ہیں۔ ان کی بدولت عدالت کو کیا خوشی ہوگی۔ اسی طرح ان کی صاحبزادی راجکماری مریم نواز جن کی پاکستان اور نہ ہی ملک سے باہر کوئی جائیداد ہے، وہ بے چاری تو اپنے ماں باپ یا بھائیوں کی جائیداد پر عیاشی کر رہی ہیں۔ ان کو عدالت بلائے تو کیوں کر۔ اسی پر خوشی کا اظہار چہ معنی دارد۔۔

اسی طرح جناب شہباز شریف حال وزیراعظم ان کا معاملہ تو عدالت عظمیٰ تک پہنچا ہی نہیں ان کو اور ان کے بچوں کو نچلی عدالت نے ہی منی لانڈرنگ کے کیس سے بری کر دیا۔ نہ وہ عدالت عالیہ گئے نہ عدالت کو کوئی خوشی ہوئی کہ ان کا معاملہ نچلی عدالت نے طے کر دیا تو پھر اعتراض کیسا۔ البتہ اگر ہم عدالت عظمیٰ کے چیف ہوتے جو اتنا ناممکن معاملہ ہے جتنا گاؤں کے اس غریب بچے کا جس نے اپنی ماں سے پوچھا تھا کہ گاؤں کا وڈیرا مر گیا تو اس کی جگہ کون لے گا، کون وڈیرا بنے گا۔ ماں بے چاری نے بچے کو سمجھایا تھا کہ گاؤں کے سب بڑے مر جائیں پھر بھی تمہاری باری وڈیرا بننے کی نہیں آئے گی۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ فرض کرنے میں کیا ہرج ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ انہونی ہو ہی جائے تو ہم اپنا رانجھا راضی کرنے کے لئے جناب وزیراعظم کو بلواتے اور اپنی خوشی کا اظہار کر دیتے۔ مگر یہاں پھر ایک پھڈا ہے کہ جناب شہباز شریف کے اپنے شاہنواز رانجھا موجود ہیں۔ وہ کہاں ہمیں رانجھا راضی کرنے دیتے کہ وہ تو عمران خان کے توشہ خانہ والے کیس میں مدعی ہیں اور اس کیس میں پہلے ہی عمران خان پر فرد جرم لگ چکی ہے۔ بات کہاں چلی جا رہی ہے۔

صبح کا بھولا اگر شام کو واپس آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے ہم تو شام سے پہلے لوٹ آئے ہیں۔ اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کی بیٹھک کی بات کرتے ہیں، جس میں کسی نے ایمرجنسی لگانے کی تجویز دی کسی نے عمران خان کی دوبارہ گرفتاری کی بات کی۔ کسی نے چیف جسٹس کے معلق ریفرنس کی بات کی۔ اب بات کرنے پر تو کوئی پہرہ نہیں لگا سکتا۔ کہ اللہ نے زبان کس لئے دی ہے۔ اگر کوئی بات نہیں کرنی تو لغو بر زبان۔ اب آپ لوگوں کا کیا خیال ہے، کہ مرزا غالب نے کیا ٹھیک نہیں فرمایا کہ ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے، اور کیا ہمیں اس وقت مرزا غالب جو یاد آئے ہیں کیا وہ برمحل نہیں۔

Facebook Comments HS