مفلوج تربیت کے معذور بچے
آج سے تین سال پہلے جرمنی میں بچوں کا ایک انوکھا احتجاج ہوا جس میں بچوں کی طرف سے اپنے ہی والدین کے خلاف موبائل کے بے جا استعمال کی وجہ سے نظر انداز ہونے پر ریاست کو والدین کی اس حرکت پر نظر ثانی کرنے کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی۔ اس میں بچوں نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر والدین اور ریاست کو مخاطب کیا ہوا تھا۔ کچھ بچے تو اتنے چھوٹے تھے کہ چند والدین نے انہیں اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا تاکہ وہ بھی اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔
سیکھنے کی بات یہ تھی کہ بچوں کا جلوس بھی جاری تھا اور ٹریفک بھی رواں دواں تھی نہ ٹریفک بچوں کے اس انوکھے احتجاج کو روک رہی تھی اور نہ ہی یہ احتجاج ٹریفک اور ارد گرد کو کوئی نقصان پہنچا رہا تھا۔ تعلیم اور تربیت کا بس یہی فرق ہوتا ہے۔ حالانکہ ہمارے نزدیک یورپ ننگا اور فحش ہے لوگ بے دین ہیں اور یورپ نے ہماری کتابیں پڑھ کر ترقی بھی کی ہے۔ ہم احمقوں کی جنت میں رہنے والے منافق نصاب اور جھوٹی تاریخ پڑھ کرنا جانے کس کس خوش فہمی میں زندگی گزار رہے ہیں ہمارے اعمال ہماری تعلیمات کی سند ہوتے ہیں جس سے اندازہ کرنا آسان ہوجاتا ہے کہ ہماری تربیت کن اصولوں پر کی گئی ہے۔
چند دن پہلے میرے ملک میں جو تماشا ہوا یہ کوئی نئی بات نہیں ماضی میں بھی ایسے تماشے ہوتے رہے ہیں لیکن اس دفعہ اس میں ایک انوکھی بات یہ ہوئی جو اس سے پہلے شاید کبھی نہیں ہوئی۔ یعنی احتجاج کرتے ہوئے اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچانا خاص کر کور کمانڈر ہاؤس جو جناح ہاؤس بھی کہلاتا ہے۔ ویسے تو ہمارے لیے یہ بہت نارمل بات ہے، مثلاً اپنے ہی لوگوں کی گاڑیاں توڑنا، بجلی کے کھمبوں کو نقصان پہنچانا، سرکاری لائٹیں توڑنا، دوران احتجاج لوگوں کی چیزیں چرا کر لے جانا، بنکوں سے اے ٹم ایم مشینیں اکھاڑ کر لے جانا ہے وغیرہ وغیرہ۔
اس دفعہ تو حد ہو گئی مظاہرین نے سویلین سرکاری املاک تو کیا فوجی املاک تک نہ چھوڑیں اور اس پربھی دھاوا بول دیا وہ پاکستان کے سب سے طاقتور ادارے فوج پر بھی نہ ٹلے، لاہور کے کور کمانڈر کے گھر کو آگ لگا دی، وہاں پڑی سرکاری اشیاء کو مال غنیمت سمجھ کا اٹھا کر لے گئے۔ جس کے ہاتھ جو جو لگا وہ لے کر چل نکلے، کسی کے ہاتھ روٹی لگی، کسی کے ہاتھ بوٹی لگی، کوئی کچن کا سامان لے اڑا تو کوئی مور تک لے گیا۔ توبہ توبہ
دیکھیں احتجاج عوام کا سیاسی اور سماجی حق ہوتا ہے، بولنے کی آزادی سب کے پاس ہے اپنی آواز مقتدر حلقوں تک پہنچانا ریاست کے شہری کا بنیادی حق ہوتا ہے لیکن کیا جس ملک کی جنگ ہم لڑ رہے اس کی املاک اس ملک کی نہیں، کیا ادارے ملک کے نہیں، کیا فوج، کیا عدلیہ، کیا میڈیا اگر سب کچھ ریاست کاہے تو ریاست کس کی ہے بلاشبہ عوام کی ہے، جی ہاں ملک میں انصاف کے تقاضے مختلف ہو سکتے ہیں، امیر کے لیے اور اور غریب کے لیے اور ہیں لیکن کیا یہ طریقہ ہے انصاف لینے کا ؟ کہ اپنے ہی وطن کو آگ لگا دی جائے۔
ہم سب نے اپنے حصہ کا زہر اپنی ہی نسلوں کے ذہنوں میں گھولا ہے کبھی جہاد کے نام پر تو کبھی ریاست مدینہ کے نام پر ، کبھی چور چور کہنے پر تو کبھی دنیا پر حکمرانی کے اس بھونڈے اندازوں پر ۔ تاریخ گواہ ہے ہماری تلواریں ہم پر ہی چلی ہیں، ہمارے ہی خون سے ڈوبے ہوئے تیر ہم پر چلیں ہیں لیکن ہم اس قدر بدقسمت ہیں کہ ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ آج بھی الٹی سمت ہی بھاگ رہے ہیں۔ ہم سے زیادہ بدقسمت کون ہو گا جو اپنی ایمبولینسیں اور سکول ہی جلا دیں۔ پھر دنیا ہم پر تھوکے نہیں تو کیا کرے۔ ذہنی مفلوج نسل آج زومبیوں کی طرح ہر چیز کو تہس نہس کرنے پر تلی ہوئی ہے، وہ نہ تو کوئی اپنا دیکھتی ہے اور نا بیگانہ۔
حالت یہ ہو چکی ہے کہ جس کسی کو تھوڑی بہت سمجھ آجاتی ہے وہ اس ملک میں رہنا پسند نہیں کر رہا کم از کم اپنی زندگی میں تو کوئی جہنم نہیں رہنا چاہتا ہے۔ سیاست کی غلیظ گیم میں عام آدمی کو بالکل سمجھ نہیں آ رہی کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے۔ وہ بس اپنی پسند کا ٹی وی چینل دیکھتا ہے اور اس پر اپنی سیاسی پسند نا پسند کا نظریہ بنا کر بے سمت دوڑنا شروع کر دیتا ہے جن قوموں نے اپنے غلطیوں سے سیکھا نہیں ان پر جہالت عذاب سمجھ کر نازل ہو جاتی ہے اور پچھلے ستر پچھتر سالوں سے ہم پر یہ عذاب نازل ہو چکا ہے اور یہ کب رکے گا کچھ اندازہ نہیں یعنی سب کچھ کب درست ہو گا کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ خدا ہم پر رحم فرمائے۔
میں خود ہی تو اپنے پیچھا پڑا ہوں، میرا شمار بھی تو میرے دشمنوں میں ہے (نامعلوم)


