جناح ہاؤس
وطن عزیز میں ہونے والی حالیہ بدامنی کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی رائے دینا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ اس کی وجہ ایک سیاستدان تھا اور موجودہ سیاست جمہوریت کے نام پہ ایک دھبہ ہے۔ بہرحال حال جب حالات کچھ سنبھل رہے ہیں تو معروف شخصیات کے مختلف بیانئے سامنے آف رہے ہیں۔ ایک صاحب نے لکھا کہ کورکمانڈر ہاوٴس کو جناح ہاوٴس کا درجہ ملنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس بات پہ کوئی بھی شخص جسے تاریخ کا تھوڑا سا بھی علم ہو یقیناً ان کی سوچ پہ حیران ہو گا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ صاحب کو علم نہیں کہ کو کمانڈر ہاوٴس لاہور جناح ہاوٴس ہی ہے لیکن نجانے کیوں صاحب اس حقیقت کو قبول نہیں کرنا چاہ رہے۔
جناح ہاوٴس افشاں چوک کے قریب عزیز بھٹی روڈ اور طفیل روڈ، طفیل روڈ اور ناگی روڈ کے چوراہے پر واقع ہے۔ عام زبان میں مال آف لاہور کے بالکل سامنے واقع ہے جو اس وقت کور کمانڈر کی سرکاری رہائش گاہ ہے۔ تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ اصل میں یہ زمین شیو دیال کے پاس تھی۔ بعد ازاں اسے خواجہ نذیر احمد کو منتقل کر دیا گیا اور پھر ان کی اہلیہ بیگم نذیر کو بطور تحفہ منتقل کر دیا گیا۔ اس کے بعد اسے موہن لال بھسین کو منتقل کر دیا گیا جن سے اسے قائداعظم نے 1943 میں خریدا تھا۔
لاہور کنٹونمنٹ کے ایگزیکٹو افسر کی طرف سے پنجاب بورڈ آف ریونیو کے سیکرٹری کو لکھی گئی خبر میں کہا گیا ہے کہ جناح ہاؤس جس پر اصل میں برطانوی فوج نے قبضہ کیا تھا، 31 جنوری 1948 کو ڈی ریکوزیشن کر کے قائد اعظم کے نمائندے سید مراتب علی کو واپس کر دیا گیا۔ تاہم بعد میں اسے دوبارہ وزارت دفاع نے اپنے قبضے میں لے لیا اور فوج کے استعمال میں جاری ہے۔
بعض شواہد کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ 1950 میں یہ بنگلہ جی او سی 10 ڈویژن کی رہائش کے لئے بنگلہ ماہانہ کرایہ پر خصوصی اقدام کے طور پر دوبارہ لیز پر لیا گیا۔
فی الحال، بنگلہ کمانڈر 4 کور کی سرکاری رہائش کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بانی پاکستان کی بہن فاطمہ جناح کو جائیداد کے لیے 3,50,000 روپے ادا کیے۔ یاد رکھا جائے کہ یہ بنگلہ صرف سرکاری رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے کور کمانڈر کا تعلق اس سے اس وقت تک ہے جب تک وہ لاہور میں کور کمانڈر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے گا۔ پاکستانی فوج نے بنگلہ کب اور کیسے خریدا یہ الگ موضوع ہے بہرحال کور کمانڈر ہاوٴس قائداعظم کی ملکیت رہا ہے اور اسے آج بھی جناح ہاوٴس کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
بنگلہ محمد علی جناح نے خریدا تھا اور اس میں اس دور کی کئی یادیں آج بھی موجود ہیں جنہیں یقیناً پاکستانی فوج نے سنبھال کے رکھا ہوا تھا۔ اس وقت جہاں ملک اور تاریخ کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا گیا ہے ان حالات میں انتہائی معروف شخصیات کے تمسخرانہ بیانیے قابل مذمت ہیں اور عوام سے درخواست ہے کہ سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے سے پہلے تحقیق کرنے کی عادت اپنائیں ورنہ عین ممکن ہے آنے والے وقت میں کہہ دیا جائے کہ بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کا مغل حکمرانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

