خان، خون، خاک اور خاکی


PK326
پاکستان تحریک انصاف کے نوے فیصد سے زیادہ ووٹر نہیں جانتے ہوں گے کہ پی کے تین سو چھبیس کیا ہے؟
چلیں میں ان بچوں کو ایک کہانی سناتا ہوں۔

دو مارچ انیس سو اکیاسی کو کراچی سے پشاور جانے والی پاکستان ائر لاین کی فلائٹ نمبر Pk 326 وہ بدنصیب فلائٹ تھی جیسے پشاور لینڈنگ سے چند منٹ قبل کراچی کے نوجوان اسلام الدین عرف ٹیپو نے دو پنجابی نوجوانوں کی مدد سے ہائی جیک کر کے کابل پہنچا دیا تھا۔

ان پنجاب واسیوں کے نام تو مجھے یاد نہیں لیکن ان میں سے ایک اعوان برادری سے تھا۔ اس جہاز میں ایک سو پینتیس مسافر اور نو افراد پر مشتمل عملہ موجود تھا۔

دو ہزار اکیس میں لکھی کتاب
Bhutto Dynasty: The Struggle For Power In Pakistan

کے مصنف نے لکھا ہے کہ ٹیپو نے جہاز ہائی جیک کرنے کا پلان چند ماہ قبل بنایا تھا لیکن اسے مرتضی بھٹو نے یورپ میں موجود اپنے کسی راز دار سے کہلوایا تھا کہ ”تم جو کرنے جا رہے وہ مت کرنا“ یوں اس وقت پنجاب سے بلوائے تینوں نوجوانوں کو ٹیپو نے واپس بھیج دیا تھا۔

چند ماہ بعد ٹیپو نے کراچی یونیورسٹی میں جماعت اسلامی کے ایک ورکر کو قتل کر دیا اور پنجاب سے اعوان اور دوسرے لڑکے کو بلوا کر یہ واردات کر دی۔ جہاز کابل پہنچا تو مرتضی بھٹو اپنی کار میں آیا اور کار میں ہی ٹیپو سے ملا۔ اسے ایک عدد کلاشنکوف اور سیاسی قیدیوں کی لسٹ دی کہ انھیں رہا کروانا ہے۔

ٹیپو نے مسافروں کی لسٹ اور کوائف اس سے شیئر کیے تو بقول رائٹر، مرتضٰی بھٹو نے ان میں موجود ایک آرمی افسر میجر طارق رحیم کو پہچان لیا۔ یہ افسر بھٹو صاحب کے ساتھ کام چکا تھا اور مرتضٰی کو اچھی طرح جانتا تھا۔ دیگر کتب میں یہ پڑھا ہے کہ ٹیپو کو شک ہوا کہ وہ افسر لیفٹیننٹ جنرل گورنر رحیم الدین کا بیٹا ہے۔ اسے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا پھر گولی مار کر شدید زخمی کر کے جہاز کے پچھلے دروازے سے زمین پر پھینک دیا گیا۔ میجر طارق رحیم کا سر اونچائی سے گرنے کی وجہ سے شدید زخمی ہو گیا۔ ٹیپو نے کسی کو اس کے قریب نہیں آنے دیا اور وہ وہیں تڑپ تڑپ کر مر گیا اور وہ خون آلود مسافروں کی لسٹ کابل ائر پورٹ پر ہوا کے دوش پر اڑتی رہی لیکن جنرل ضیاء نے ہائی جیکرز کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔

جہاز نے دوبارہ اڑان بھری اور دمشق جا پہنچا۔ پھر ٹیپو نے مسافروں میں موجود چند امریکیوں کو الگ کیا اور دھمکی دی کہ اگر سیاسی قیدی رہا نہ ہوئے تو انھیں قتل کر دیا جائے گا۔ ضیاء الحق نے فوراً سب سیاسی قیدی رہا کر دیے۔ یوں کہانی ختم ہوئی۔ لیکن دوستو ایسا نہ ہوا۔

اسلام الدین ٹیپو انیس سو چوراسی میں ایک افغان کے قتل کے الزام میں کابل میں گرفتار ہوا اور فائرنگ اسکواڈ کی گولیوں سے چھنی کر دیا گیا۔ اس کی لاش کبھی پاکستان نہ لائی جا سکی اور وہ وہی کہیں دفن کر دیا گیا۔

دیگر دونوں نوجوان لیبیا جا پہنچے اور انیس سو اٹھاسی میں بے نظیر بھٹو کے دورہ لیبیا کے دوران قید کر دیے گئے۔ وہ چھ سال قید رہے پھر رہا ہوئے اور معمر قذافی کی موت کے بعد چھوٹی کشتی میں سمندر پار کر کے یورپ جا پہنچے اور اب دنوں مختلف ممالک میں سیاسی پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک کی اس کتاب کے مصنف سے ملاقات ہوئی بقول اس کے وہ اپنے کیے کو جوانی کا جوش اور غلطی قرار دیتا ہے اور سیاسی پناہ کا طلبگار ہے۔

کیا کہانی ختم ہوئی۔ نہیں ابھی اس میں نئے موڑ آنے ہیں۔

بیس ستمبر انیس سو چھیانوے میں محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی حکومت کے دوران کراچی کے ایک روڈ پر مرتضٰی بھٹو کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔

اب کون غلط۔ کون حق پر۔ یہ تو خدا جانے یا اس سارے واقعہ کے کردار۔ لیکن مرنے والے سب لوگ آج کہانیوں میں زندہ جبکہ دو زندہ لوگ ابھی گمنام ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو طارق رحیم لے ڈوبا۔

کہانی اب نو مئی دو ہزار تئیس تک آن پہنچی ہے۔ لاہور میں ہرطرف دھویں کے بادل ہیں۔ آج ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات پر حملہ کر دیا ہے۔ بلوائیوں میں سے ایک بڑی اہم وردی پہننے یوٹیوبر ٹک ٹاکر اور میڈیا کو انٹرویوز دے رہا ہے۔ ہم نے آنکھ کھولی تو سنا ”یہ میری وردی نہیں میرا کفن ہے“ لیکن اس وردی میں اس کا شہید مالک نہیں بلکہ ایک زندہ بلوائی تھا۔

طارق رحیم کی خون آلود لسٹ کابل سے اڑائی اور پھر نہ جانے کتنے لوگوں کے سر گئے۔ اب دیکھتے ہیں کہ کیا اب وقت بدل چکا ہے۔ لوگوں کی سوچ انداز یا آداب بدل چکے ہیں یا اب بھی اپنی بے توقیری برداشت نہیں ہوتی۔ ایک جملہ ٹریفک اہلکاروں سے اکثر سننے کو ملتا ہے کہ فلاں نے وردی پر ہاتھ ڈالا تھا تو یہ ہوا تو وہ ہوا۔ کیا یہ وردی بھی اس خون آلود لسٹ کی طرح آسیب بن کر خود پر ہاتھ ڈالنے یا ڈلوانے والوں کو ڈھونڈے گی؟

یہ کہانی تو یہاں ختم ہوئی۔ ماضی میں بھی لوگوں نے ہماری طرح سوچا تھا کہ کہانی ختم ہوئی۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ نہیں کہانی وہاں ختم نہیں ہوئی تھی۔ لیکن ایک بات اہم تھی۔ کراچی اور اندورن سندھ کے کردار آج زندہ نہیں لیکن پنجاب کے دونوں کردار آج بھی زندہ ہیں۔ اس بار کہانی میں پھر پنجاب کے کردار ہیں۔ شاید وہ اس بار بھی بچ جائیں۔

چلیں دیکھتے ہیں اس بار کہانی کیا رخ اختیار کرتی ہے۔ وقت کا انتظار کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس بار اس کہانی کے کرداروں کا انجام اس کہانی کے کرداروں جیسا نہ ہو خدا کرے اب تاریخ خود کو نہ دہرائے۔ ویسے سنا یہی ہے کہ خاکی کی عزت کرنے کو خاک کسی نہ کسی کو اوڑھنی ہوتی ہے۔ اس بار کہانی خ سے خوفناک ہے اس میں مزید چار خ ہیں۔ دیکھیں خان، خون، خاک اور خاکی کی اس کہانی کا کیا انجام ہوتا ہے؟

نوٹ۔ یاد رہے کہ یہ کہانی فکشن نہیں۔ میری تخلیق رائے یا سوچ نہیں۔ یہ سب دیگر لوگوں کی کتب میں لکھا پڑھا ہے۔ غلط یا سچ۔ لیکن یہ وجود رکھتی ہے ابھی۔

 

Facebook Comments HS