وہ چاہے نظم کا ٹکڑا ہو کہ نثر پارہ ہو

ہزارہ کے ساتھ علمی و ادبی شناسائی اور وابستگی زمانہ طالب علمی سے ہے اور اس کی وجہ یہاں کے خوب صورت لب و لہجے کے شاعر اور ایک مخلص انسان سلطان سکون صاحب ہیں جن پر ایم اے سطح کا تحقیقی و تنقیدی مقالہ ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کی نگرانی میں لکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس دوران ان کے ساتھ کئی ملاقاتیں ہوئیں، میں اسی مقالے کے لیے مواد جمع کرنے سلطان سکون اور ان کے اہل و عیال سے انٹرویو کرنے کے لیے ایوب میڈیکل کالج میں دوستوں کے پاس ٹھہرا ہوا تھا۔
ان دنوں ہزارہ کے شعرا سے واقفیت ڈاکٹر ایوب صابر کی کتاب ”ادبستان ہزارہ“ کے ذریعے ہوئی، جو یقیناً ان کی محنت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے کیوں کہ اس کتاب میں سو سے زائد شعرا کے کوائف مع نمائندہ کلام شامل ہیں۔ ڈاکٹر نذیر تبسم کا غیر مطبوعہ مقالہ ”سرحد کے غزل گو شعرا“ بھی شعبہ اردو جامعہ پشاور کی لائبریری سے پڑھنے کو ملا جس میں ہزارہ کے نمائندہ شعرا کے کلام کا تنقیدی مطالعہ شامل ہے۔
ایک طویل عرصے کے بعد ڈاکٹر عادل سعید قریشی اور محسن نذیر نے حرف اکادمی ہزارہ کے اہتمام ”شام نثر“ میں ڈاکٹر سید زبیر شاہ کو بطور صدر محفل، راقم کو مہمان خصوصی اور شکور جان خٹک کو بحیثیت مہمان اعزاز شرکت کی دعوت دی۔ ڈاکٹر سید عبد اللہ اور ڈاکٹر ایوب صابر جیسے ادبا کے خطے ہزارہ میں نثر سے متعلق عہد جدید میں کئی نام ذہن میں آتے ہیں ان میں نقاد اور محقق ڈاکٹر عامر سہیل، فکشن نگار سید ماجد شاہ اور افسانہ نگار و کالم نگار عادل سعید قریشی شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ایک ادبی تعلق قائم ہے اور ان کو پڑھنے کا موقع ملا ہے۔
اتوار کی صبح استاد محترم سید زبیر شاہ کی ہدایت پر روانہ ہوئے لیکن ان کا موڈ اس لیے آف تھا کہ میں چار منٹ جب کہ شکور جان پورے سترہ منٹ دیر سے پہنچا تھا حالانکہ ہم ٹھیک اسی وقت پشاور سے نکلے تھے جو وقت استاد محترم نے طے کیا تھا۔ دوران سفر خوش گوار موسم نے ان کا موڈ بھی اپنے جیسا بنا کر عزیز اعجاز کا یہ شعر چیلنج کر دیا :
؎ جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے
ڈاکٹر عادل سعید قریشی، محسن نذیر اور خورشید احمد عون نے گرم جوشی سے استقبال کیا اور ایک سمال ڈیم کی طرف لے گئے جس کے حسین نظاروں، نیلگوں پانی اور چارسو سرسبز درختوں سے ڈھکے پہاڑوں نے سفر کی کسالت ہوا کردی۔ محسن نذیر نے پرتکلف ظہرانے کا انتظام ایک چھوٹے سے پہاڑی کے دامن میں واقع اپنے گھر پر کیا تھا، اس گھر کا منظر بھی بالکل افسانے کے پلاٹ کی طرح تھا، سامنے ایک اونچی سرسبز ڈھلوان، اردگرد فیروزی رنگ کے خودرو پھول، ڈھلوان کے دوسری طرف جنگلات کا ایک طویل سلسلہ خوب صورت منظر پیش کر رہا تھا۔
زبیر شاہ صاحب نے کئی بار کہا کہ یہاں ایک رات گزارنے آئیں گے۔ چونکہ ایسے ارادے وہ بارہا ظاہر کر کے بھول چکے ہیں اس لیے اس کو فی الحال ریکارڈ پر لا کر تقدیر اور رزق کے چکر کے حوالے کرتے ہیں۔ کھانے کے بعد میری خواہش تھی کہ قیلولہ کیا جائے اور اس کے فضائل پر روشنی بھی ڈالی مگر کسی نے مہلت نہیں دی کہ پروگرام کا وقت قریب تھا۔ مختصر سے دورانیے میں ان دل کش نظاروں کو اپنے اندر جذب کرنے اور ڈاکٹر عادل سعید قریشی سے ان کے افسانوں کا مجموعہ ”چاند روتا سورج“ اور ”پاکستان اور پاکستانی ثقافت“ وصول کیا۔
سعید اشعر صاحب خود تو موجود نہیں تھے لیکن اپنی تخلیقات ”نظم کہانی“ ، ’ایلیا حسن تم کیسے ہو؟‘ میری غزلیں ’اور افسانوں کا مجموعہ ”ڈرائنگ روم“ ہماری نذر کرچکے تھے۔ محسن نذیر نے سید ماجد شاہ کے مختصر افسانوں کا مجموعہ ”ر“ اور پروفیسر نور کمال شاہ کا ”مزاحیات“ دیا۔ اسی طرح عمدہ مزاح نگار پروفیسر خورشید احمد عون نے ”کوچے سے ہم نکلے“ اور سہیل احمد صمیم کے نعتوں کا مجموعہ ”الی النور“ عطا کیا۔ ڈاکٹر سید زبیر شاہ نے اپنے افسانوں کا مجموعہ ”یخ بستہ دہلیز“ شکور جان نے اپنے مضامین کا مجموعہ ”بکھری سوچیں“ اور راقم نے ”فقیر خوش نوا“ احباب کی نذر کیا۔
کتابوں کے تبادلے، تصویروں کے سلسلے اور چائے کے بعد ہم احباب کی معیت میں ”شام نثر“ میں پہنچے جہاں سید ماجد شاہ صاحب اور دیگر احباب کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض فرحان انجم نے عمدگی سے انجام دیے۔ اس دوران حرف اکادمی کی طرف سے نثر کی ترویج و اشاعت کے لیے سنجیدہ کاوشوں سے جانکاری ملی۔ اس شام نثر کے دو خاص پہلو تھے اول سنجیدہ سامعین اور دوم عمدہ نثر پارے۔ ہمارے ہاں مشاعروں کا چلن عام ہے اور لوگ پسند بھی کرتے ہیں۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ نثر کی سماعت کے لیے مشاعرے سے زیادہ صبر برداشت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور تواتر کے ساتھ اس عمل سے گزرنا خاصا مشکل ہے لیکن یہاں صورت حال بے حد حوصلہ افزا بلکہ حیران کن تھی۔ دوسری طرف جن احباب نے نثر پارے پیش کیے ان کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ کیا معلوم حسرت موہانیؔ ایسی ہی کسی کیفیت سے دوچار ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہوں :
جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
نظم حسرت میں وہ مزا نہ رہا
محسن نذیر نے مائیکرو فکشن ”انصاف“ نئی لاش ”اور“ نظام ”کی عمدہ بنت پر داد سمیٹی۔ ایاز منظر نے“ خدا کا گھر ”نقل“ بلال مشتاق نے ”دھڑکا“ محمد ندیم نے ”آہنی گردن“ کی تازگی سے محفل کو تازگی بخشی۔ ان میں سے زیادہ تر نوآموز تھے لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ نئی صدی کا افسانہ لکھنے کا ہنر جانتے ہیں یقیناً اس میں سید ماجد شاہ اور ڈاکٹر عادل سعید قریشی کی تربیت شامل حال رہی ہے۔ افسانہ نگار اختر علی خان جدون نے ایک خوب صورت افسانہ ”انوکھی دادی کے پوتے“ سماعتوں کی نذر کیا۔
ڈاکٹر عادل سعید قریشی نے جادوئی حقیقت نگاری پر مبنی افسانہ ”شکریہ“ پیش کیا جب کہ سید ماجد شاہ نے استعماریت کو علامتی انداز میں ”حلقہ بہ گوش“ میں سمیٹا تھا اور پرندوں و جانوروں کی آوازوں سے جس طرح ایک نادر افسانہ بنا تھا وہ ان کی کہنہ مشقی پر دلالت کر رہا تھا۔ قاضی بختیار خان نے ہندکو افسانہ ”توتا تے خزانہ“ اور نوجوان غنی خان نے اپنے ناول ”کرمے کی سرائے“ سے اقتباس سنایا۔ خورشید احمد عون نے پرانی داستان کو مزاح نگاری میں لپیٹ کر محفل کو کشت زعفران بنایا۔
اس دوران اختر علی خان نے مہمانوں کو اپنے افسانوں کا مجموعہ ”داستاں سرائے کا چراغ“ ڈاکٹر محمد کاشف ضیا خان نے نعتیہ مجموعہ ”حرف ثنا“ اور جوان محقق محمد زمان معظم نے اکادمی ادبیات سے شائع ہونے والی کتاب ”ڈاکٹر ایوب صابر شخصیت اور فن“ سے نوازا۔ مہمان اعزاز شکور جان خٹک نے ایک عمدہ مضمون بہ عنوان ”سو باتوں کی ایک بات“ پڑھ کر سنایا۔ راقم نے خاکہ ”سید زادہ“ پیش کیا اور صاحب صدارت ڈاکٹر سید زبیر شاہ مابعد نوآبادیات کے موضوع اور شناخت کے بحران سے شناخت تک کا سفر طے کرنے والے کردار پر مشتمل افسانہ ”زندہ موہنجوداڑو“ پیش کیا۔ انھوں نے اس خطے میں ادب کی زرخیز روایت کو آگے بڑھانے والی نسل کو داد و تحسین سے نوازا اور حرف اکادمی کے منتظمین کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ان کی خدمات سراہا۔
حرف اکادمی کی طرف سے یہ شام جہاں ہمارے لیے بہت سی خوش گوار یادوں کا باعث بنا وہاں ”شام نثر“ کے ذریعے ہزارہ او ر پشاور کے ادبی رابطے مزید مضبوط بنانے کی ایک بہترین کوشش بھی تھی یقیناً اس قسم کے محافل سے ارد و ادب اور تخلیق کاروں کو بیش بہا فائدہ پہنچے گا۔ پروین شاکر کا یہ شعر برمحل ہے کہ :
اگر وجود میں آہنگ ہے تو وصل بھی ہے
وہ چاہے نظم کا ٹکڑا ہو کہ نثر پارہ ہو


Bahut khoob sir parh kar bahut acha laga …safar yaqeen bahut acha raha hoga bss ma oss din reh gaya ta ……kash chala jata