درویش اور چوہا
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی جنگل میں ایک عابد زاہد درویش رہتا تھا جو ہر وقت عبادت و ریاضت میں مشغول رہتا تھا۔ ان کے کرامات کا دور دور تک چرچا تھا کہ اعلی حضرت کا کام تو صرف ریاضت و عبادت ہے۔ دنیا داری سے دور دور تک تعلق نہیں ہے لیکن دنیا جہاں کی نعمتیں ہمیشہ ان کے قدموں میں بے شمار پڑی ہوتی ہیں۔ حضرت پہنچے ہوئے سرکار ہیں۔ جنگل کے تمام اسمانی و زمینی آفات سے محفوظ رہنے کی وجہ بھی اعلی حضرت کی ذاتی گرامی ہے۔ حضرت نہ صرف انسانوں بلکہ چرند و پرند پر یکساں مہربان ہیں۔ وہ مستجاب الدعوات ہیں جن کی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔
ایک روز درویش حسب معمول عبادت میں مشغول تھے کہ ان کی خدمت میں ایک چوہا حاضر ہوا جو ڈر کے مارے تھر تھر کانپ رہا تھا۔
درویش نے پوچھا کیا بات ہے میاں؟
چوہا بولا: حضور میری کوئی زندگی ہے، جب دیکھو بلی کھانے کو دوڑتی ہے!
درویش کو غریب چوہے پر رحم آیا۔
فرمایا
اگر تجھے بلی بنا دوں تو ؟
چوہا بولا
زندگی بھر مشکور رہوں گا۔
درویش نے دعا مانگی اور چوہے پر شفف کیا۔ چوہا یک دم بلی بن گیا۔
کئی روز بعد درویش نے ”خوفزدہ بلی“ کو دیکھا۔
پوچھا کیا ہوا؟
بلی بولی کہ آپ نے چوہے سے بلی بنا تو دیا۔ مگر اب کتے پیچھے پڑ گئے ہیں۔
۔ درویش نے پوچھا کیا چاہتا ہے تو ؟
بلی نے عرض کی کہ حضرت بس مجھے کتا بنا لیجیے۔
درویش نے کچھ سوچا، اس پر پھونک ماری اور وہ بلی سے کتا بن گیا۔
چند روز بعد کتا درویش کے آگے پسینے سے شرابور کھڑا دہائی دے رہا تھا کہ حضور جنگل کا بادشاہ دشمن بن چکا ہے، موت کا پروانہ جاری ہو چکا ہے۔ بس اب آپ ہی ہیں جو مجھے اس ظالم شیر سے بچا سکتے ہیں ورنہ میری زندگی کے دن گنے جا چکے ہیں۔
درویش نے کچھ سوچا۔ اس پر پھونک ماری تو چوہا حیران رہ گیا کہ وہ اب کتا نہیں بلکہ ایک طاقتور شیر بن چکا تھا۔
چوہے سے شیر بن جانے پر اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ وہ درویش کا شکریہ ادا کر کے دھاڑتے ہوئے جنگل کی طرف بڑھنے لگا۔ راستے میں دوسرے جانوروں کو پرانے بادشاہ کے ظلم و بربریت، شکار اور مار دھاڑ کے قصے سناتا ہوا تمام جانوروں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوا۔ ایک بڑی لشکر کے ساتھ پرانے بادشاہ پر حملہ اور ہوا اور جنگل کے پرانے بادشاہ کو شکست دیدی۔
تمام جانوروں نے اسے بلا مقابلہ نیا بادشاہ تسلیم کر کے سر جھکا لیا اور وہ بلا شرکت غیرے جنگل کا حکمران بن بیٹھا۔
خوشامدی ادب سے بیٹھنے لگے، ہر کوئی اس کے ہاں میں ہاں ملانے لگا۔ ہر کوئی اپنی وفاداری کا یقین دلاتا رہا اور اپنی بساط کے مطابق خدمت بجا لاتا رہا۔
نیا بادشاہ جنگل کے عوامی جانوروں کو کبھی کبھی دیدار کراتا تھا اور وقتاً فوقتاً تمام جانوروں کو بلا کر انہیں جنگل کے قانون اور دستور پر درس دیتا تھا۔
بادشاہ سلامت نے جنگل کے قوانین میں تمام جانوروں کے فلاح و بہبود کے لیے نئے قوانین متعارف کیے۔ ہر جانور کی کارکردگی پر دوسرے جانور کو نظر رکھنے کا حکم جاری کیا۔ چوہوں کو کاہل اور بدعنوان جانوروں کی مخبری پر لگا لیا۔ بلیوں کو دودھ اور گوشت کی حفاظت پر مامور کیا اور کتوں کو کار سرکار میں ٹانگ اڑانے والوں کی مرمت پر لگا لیا۔
گدھوں اور گھوڑوں کو کام میں جوت دیا۔ بیل، گدھے، گھوڑے اور بھینسے کے لیے یکساں کام اور یکساں مشاہرہ کا قانون پاس کیا جبکہ جنگل کو خوف و خطر سے پاک رکھنے کے لیے اعلان کیا کہ مابدولت بادشاہ سلامت اب جنگل میں کسی جانور پر حملہ نہیں کرے گا۔ البتہ بادشاہ سلامت کی ضروریات خوراک کی خاطر روزانہ کی بنیاد پر تمام جانور باری باری اپنی برادری سے ایک جانور بادشاہ کی خدمت میں پیش کریں گے۔ تاکہ بادشاہ کی کاروبار حکومت میں شکار کی وجہ سے خلل نہ پڑے اور باقی جانور بے خوف خطر زندگی گزار سکیں۔
تمام جانوروں نے تالیاں بجا کر بادشاہ سلامت کی جیے ہو کے نعرے لگائے اور خوشی سے ناچتے گاتے ہوئے جنگل میں پھیل گئے۔
دن گزرتے گئے۔ ایک دن ایک گدھا گاؤں میں اپنے مالک سے تنگ اکر آزاد زندگی گزارنے کی نیت سے جنگل کی طرف بھاگ نکلا۔ گدھا جنگل پہنچ کر اپنی برادری والوں سے ملا تو اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے کہ جنگل میں بھی گدھے روزانہ کام بھی کرتے ہیں اور پھر بھی گزارا مشکل ہوتا ہے۔ رات کو جب کام سے تھکے ہارے گھر لوٹتے ہیں تو شاہی دربار میں حاضری کے لیے جانا ہوتا ہے۔
دیہاتی گدھے نے جنگل کے گدھوں سے کہا کہ جس طرح کا ظلم و ستم تم برداشت کر رہے ہو اس سے تنگ اکر تو میں انسانوں کی بستی سے یہاں آیا ہوں۔ بلکہ انسان تو اس سے بھی اچھے تھے کہ کم از کم سر پر چھت اور دوسرے جانوروں سے تحفظ تو دیتے تھے۔
گدھے کی باتیں سن کر جنگل کے ایک جذباتی گدھے نے فوراً جاکر بادشاہ کی دربار میں شکایت کی کہ صاحب آپ کی راج نیتی سے تو انسانوں کی بستی بہتر ہے۔
چوہا شیر کو یہ گستاخی پسند بالکل نہیں آئی۔ سب سے پہلے تو اس نے چیر پھاڑ کر گدھے کا کام تمام کر ڈالا۔ لیکن انسان کا نام سنتے ہی اس کا ماتھا ٹھنکا کہ اس کے چوہے سے شیر بننے کا راز صرف ایک انسان (درویش) کو معلوم ہے اور اگر اس نے کسی کو بتا دیا تو ؟
یہ سوچ کر وہ گھبرا گیا اور درویش کو فارغ کرنے کے ارادے سے اس کی کٹیا کا رخ کیا۔
برسوں حکومت کرنے والا شیر وسوسے لئے درویش کے پاس پہنچا۔
درویش نے پوچھا
میاں کیسے آئے؟
اس نے کہا حضرت پاؤں چومنے۔
درویش اس کی نیت بھانپ چکا تھا۔ وہ ہنسا۔ ایک پھونک ماری اور اس سے پہلے کہ چوہا شیر درویش تک پہنچتا، وہ چوہا بن چکا تھا۔
نوٹ: یہ کہانی پشتو کے مشہور شاعر اور افغانستان کے قومی ترانے کے خالق جناب عبدالباری جھانی کی ایک نظم ”مژک شیر“ (چوہا شیر) کا نثری ترجمہ ہے۔


