کیا عمران خان نے ”ریڈ لائن“ عبور کر دی؟
بالآخر حکومت نے 13 ماہ بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کو گرفتار کر ہی لیا تھا لیکن اگلے سپریم کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کو ”غیر قانونی“ قرار دے کر رہا کرنے کا حکم تو دے دیا لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں ”شب بسری“ کے لئے پولیس کے گیسٹ ہاؤس بھجوا دیا اس دوران ان سے 10 ملاقاتیوں کی اجازت بھی دے دی گئی سپریم کورٹ نے عمران خان کے لئے ان کے ”شایان شان“ اکاموڈیشن فراہم کرنے کی ضمانت حاصل کر لی عمران خان کی گرفتاری اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ سے ”القادر ٹرسٹ کرپشن کیس“ میں نیب نے گرفتار کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ سے عمران خان کی گرفتاری پر جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دی وہاں ان کی گرفتاری کو قانونی قرار دے دیا۔ اس دوران جہاں احتساب عدالت نے عمران خان کا 8 روز کا ریمانڈ بھی دے دیا وہاں توشہ خانہ کیس میں بھی عمران خان پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے، جہاں عمران خان مختلف حیلوں بہانوں پیش نہیں ہو رہے تھے۔ اب توشہ خانہ کیس فرد جرم کے مرحلے سے شہادتوں کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کے معاملہ کو دوبارہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھجوا دیا ہے۔ جہاں عمران خان کو بڑا ریلیف مل گیا ہے۔ عمران خان نے اپنی گرفتاری سے قبل سیاسی حکمت عملی کے تحت اسٹیبلشمنٹ کو ٹارگٹ بنایا تھا۔ انہوں نے ایک بار پھر انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک اعلیٰ افسر کے خلاف الزام تراشی کی تو فوج نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا فوج کی جانب سے عمران خان کو وارننگ دی گئی۔ پاک فوج کے ترجمان نے عمران خان کی طرف سے انٹیلی جنس ایجنسی کے اعلیٰ افسر کو ٹارگٹ بنانا بد نیتی پر مبنی من گھڑت الزام کو انتہائی افسوس ناک، قابل مذمت اور ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ ”پاک فوج بد نیتی پر مبنی بیانات اور پراپیگنڈہ کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔“
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے یہ ایک مستقل طرز عمل بن گیا ہے جس میں فوجی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے اشتعال انگیز اور سنسنی خیز پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ابھی اس بیان کی سیاہی بھی خشک نہ ہو پائی تھی کہ 9 مئی 2023 کا واقعہ پیش آ گیا۔ عمران خان جو ضمانتوں کے پیچھے چھپ رہے تھے، نیب نے موقع غنیمت جان کر انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتار تو لیا لیکن اسے عمران خان کی گرفتاری پر لینے کے دینے پڑ گئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کو قانونی قرار دے دیا لیکن آئی جی اسلام آباد پولیس اور سیکریٹری وزارت داخلہ کو عدالت کا تقدس مجروح کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دی۔ اس پر طرفہ تماشا یہ کہ سپریم کورٹ نے ایک دن میں ہی کارروائی کر کے عمران خان کو مشروط طور پر رہا کر دیا اور اگلے روز ان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ 9 مئی 2023 ء کو نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار کیا ہے تو فوری طور پر راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، لاہور اور دیگر شہروں پی ٹی کے مشتعل کارکنوں فوجی تنصیبات پر حملے شروع کر دیے۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ٹی ٹی پی نے جی ایچ کیو پر حملہ کیا تھا۔ دوسری بار پی ٹی آئی کے کارکنوں نے جی ایچ کیو کے مین گیٹ پر پتھراؤ کیا، لاہور میں کور کمانڈر کا گھر تباہ کر دیا میانوالی میں اس سیبر طیارے کا ماڈل نذر آتش کر دیا جس نے ہلواڑہ میں بمباری کر کے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا تھا۔ عمران خان کی گرفتاری پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کا پر امن احتجاج کرنے کا حق بنتا تھا لیکن جس طرح انہوں نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔
اگرچہ پی ٹی آئی کی قیادت پر تشدد ردعمل سے لا تعلقی کا اظہار کر رہی ہے لیکن اب تک جتنی آڈیوز منظر عام پر آئی ہیں، ان میں پی ٹی آئی کے کئی رہنما کارکنوں کو تشدد کی ترغیب دیتے نظر آئے۔ فوج کے ترجمان نے 9 مئی 2023 کے واقعات کو سیاہ باب قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ”جو کام ابدی دشمن 75 سال نہ کر سکا وہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد اقتدار کی ہوس میں مبتلا سیاسی لبادہ اوڑھے گروہ نے کر دکھایا“ ۔
فوج کے ترجمان نے کہا کہ ”فوجی تنصیبات پر حملوں کے پیچھے پی ٹی آئی کی شرپسند لیڈر شپ، ہے۔ مذموم منصوبہ بندی کے تحت حملے کیے گئے ہیں۔ منصوبہ سازوں اور سیاسی بلوائیوں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ سخت رد عمل کا اظہار کیا جائے گا“ ۔
سنہ 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے خود سوزی تو کی لیکن کسی نے فوجی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا۔ 12 اکتوبر 1999 ء کو فوجی انقلاب کے نتیجے میں نواز شریف کی حکومت ختم کر دی گئی لیکن کسی مسلم لیگی رہنما نے جی ایچ کیو یا کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر حملہ نہیں کروایا۔ 2007 ء میں بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا تو پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے سرکاری تنصیبات کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن کسی نے فوجی تنصیبات کا رخ نہیں کیا۔ 2017 ء میں نواز شریف کو نا اہل قرار دلوا کر ملکی سیاست سے باہر کر دیا گیا کم و بیش 5 سال سے نواز شریف کو ملکی سیاست سے آؤٹ کر رکھا ہے۔ مسلم لیگی قیادت نواز شریف کو سزا دلوانے والے جرنیلوں کی نشاندہی تو کرتی رہی ہے لیکن اپنے کسی کارکن کو فوج کے ادارے کے سامنے نہیں لا کھڑا کیا۔
لیکن پی ٹی آئی نے عمران خان کی گرفتاری پر جو کچھ کیا اس کی ملکی سیاست میں نظیر نہیں ملتی اور عمران خان نے ریڈ لائن عبور کر کے اپنے لئے سیاست میں بہتر مواقع محدود کر دیے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی ضمانت لے لی ہے۔ عدالت نے عمران خان کو پیر تک کسی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عمران خان سے پوچھا گیا کہ دوران قید ان کی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ملاقات ہوئی ہے تو انہوں نفی میں سر ہلایا لیکن جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ ڈٹے ہوئے ہیں یا ڈیل ہو گئی ہے، تو وہ مسکرا دیے۔ جب ان سے ان کی خاموشی بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے منہ پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ سیاسی تجزیہ کار اس کے اپنی اپنی مرضی کے مطلب نکال رہے ہیں۔

