نفسیات کی رصد گاہ سے: زندگی کا عدم توازن اور ذہنی توازن


کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آج ہر شخص کسی نہ کسی شکل میں سٹریس، اینگزائٹی، ڈپریشن، خالی پن اور اداسی میں مبتلا ہے۔ لوگوں کے ہجوم، کھیل تماشے تفریح اور سوشلائزیشن کے مواقع کی دستیابی کے باوجود سٹریس کا رونا رو رہا ہے۔ ہر قسم کی شخصی آزادی کے با وجود ذہنی تنگی اور گھٹن کا شکار ہے۔ بے حساب تعلیمی ڈگریوں کے با وجود کم علمی، معدوم عقل اور تعصب اور حسد میں مبتلا ہے۔ سائنسی ایجادات کی تمام سہولیات اور آسائشوں سے مزین گھر لیکن کچھ کمی ہے۔

سوال ہے کہ یہ سٹریس، بے چینی، پریشانی کیوں اور ہر شخص کا ذہنی توازن کیوں بگڑ گیا ہے؟
نفسیات کے مطابق توازن یا بیلنس جسے ہارمنی
[Harmony]
کہا جاتا ہے

یہی ذہنی صحت کی ضمانت ہے۔ زندگی کے کسی بھی پہلو میں توازن کا نہ ہونا یا توازن کا کھو دینا ہماری زندگیوں میں ایک ایسا بے ہنگم پن پیدا کرتا ہے جو ہمارے ذہنی سکون میں پہلے خلل پیدا کرتا ہے پھر ہماری ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ ہم آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے ناکامی اور مایوسی کے سفر پر چل نکلتے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں سے اپنی ہی زندگی کی خوشیاں روٹھ جاتی ہیں۔

اس عدم توازن کی وجہ اول شدت پسندی ہے جو زندگی کے ہر پہلو پر محیط ہے اور توازن کی قاتل ہے اور بے اعتدالی کی جڑ ہے۔

مثلاً:
بچوں کی پرورش میں بے اعتدال رویے
زندگی کے ہر توازن اور عدم توازن کا سلسلہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔

ہم یہاں بھی اندھا دھند بے اعتدالی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ کوئی بھی راہ اپناتے وقت شعور کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ نو زائدہ کی آمد سے والدین کے روئیے ایسے بوکھلائے ہوتے ہیں نو مولود سے زیادہ والدین نومولود لگتے ہیں۔ یہ بوکھلاہٹیں تربیت، پرورش، تعلیمی اہداف اور سہولتوں کی فراہمی تک پھیلی ہو سکتی ہیں۔

مذہبی شدت پسندی نے تو جدید بچوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ والدین زبردستی اپنے عقائد، دینی تعلیم، پردہ، زبردستی مذہبی تقریبات میں شمولیت کے لئے لے کر جانا جبکہ جن سکولوں میں ہم انہیں بھیجتے ہیں یہ باتیں بچوں کے ذہنوں کو کنفیوز کرتی ہیں۔ حتی کہ ان مغربی ممالک میں مستقل رہائش کے ارادوں کے باوجود بچوں کو مخصوص مذہبی ڈریس کوڈ پر چلنے کے لئے مجبور کرنا جس کا لازمی نتیجہ بچوں کی بغاوت اور بچوں کا چھوٹی عمر میں ماں باپ سے الگ رہنے کے فیصلے جو شدت پسند اور انا کے مارے کنٹرول کی خواہش رکھنے والے والدین کے حصے میں غم، دکھ اور ڈپریشن کی صورت میں آتی ہے۔

اور اس نفسیاتی بے اعتدالی میں میں پلنے والا بچہ جب جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل لے کر سامنے آتا ہے تو یہی انا پرست نوزائیدہ والدین مسلسل سٹریس کا شکار ہوتے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی درمیانی راستہ نہیں اپنانے کو تیار نہیں ہوتا۔ یہ عدم توازن بچے کی ساری زندگی کے معاملات پر محیط ہوجاتا ہے۔ حتی کہ عقائد، نظریات اور تعلیمی کیریئر کے سلسلہ میں والدین کے تعین شدہ غیر حقیقی اہداف کو حاصل کرنے کے لئے عدم توازن کے راستے پر ہی چلتا ہوا ذہنی انتشار اور دیگر ذہنی، جسمانی اور معاشرتی بے اعتدالیوں کو اپنائے رہنے پر مجبور رہتا ہے۔

اس خطرناک عدم توازن کی سزا یہ والدین تو بھگتیں گے ہی ان کا بچہ جس کو وہ دنیا کا بہترین بچہ بنانے کے ارمان لے کر چلے تھے خود ہی ان ارمانوں کو عدم توازن کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ اور یوں یہ بچہ بھی اپنی آئندہ زندگی میں نا خوش ہی رہے گا۔ بچوں کی پرورش میں یا تو ہم انہیں اتنی زیادہ توجہ دیتے ہیں یعنی پیمپرڈ بنا دیتے ہیں اور اپنی حکمرانی اور ملکیت میں رکھتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کی وہ مہارتیں نہیں سیکھ پاتے جن سے وہ اپنی ترجیحات کا تعین کر کے آزاد اور خوش گوار خود کفیل زندگی گزار سکیں۔ ان میں اعتماد کی کمی تا عمر رہتی ہے۔ دوسری جانب والدین بچوں کو ان کی بنیادی نفسیاتی ضروریات کے لئے بھی وقت نہیں دیتے۔

اسی طرح اعتماد کے نام پر انہیں اتنا بے باک بنا دیا جاتا ہے کہ بنیادی اخلاقی ضابطے اور مہذب طرز گفتگو بھی نہیں سکھائی جاتی اور بدتمیزی اور جذبات کا غیر مناسب اظہار ان کی شخصیت کا شعار بن جاتا ہے۔ دوسری طرف شدید پریکٹس بچوں کو خاموش رہنے کی تلقین اور بولنے پر انتہائی پابندی اور بڑوں سے مکالمے اور رابطے کا فقدان جو خود ایک زہر قاتل ہے۔

بھیڑ چال کا حصہ بننا:

زمانے اور وقت کے ساتھ چلنا یقیناً عقلمندی ہے اور ارتقا کا تقاضا ہے لیکن بغیر سوچے سمجھے ہر روش کو اپنا لینا اور اس کے بغیر زندگی کو نامکمل اور کمتر سمجھنا بھیڑ چال کے زمرے میں آتا ہے جو ایک اوسط ذہن کا احساس کمتری اور شعوری پس ماندگی ہے جو

عدم توازن اور پھر ذہنی عدم توازن کا سبب ہے۔

شاپنگ مینیا :

ہم دیکھتے ہیں کہ بھیڑ چال کی وجہ سے ہی ہم شاپنگ مینیا کا شکار ہو کر اپنی گروسری کی کارٹ دوسروں کی کارٹ کو دیکھ کر بھرتے ہیں۔ جو بازار میں بکتا ہے ضرورت بلا ضرورت خریدنا ضروری سمجھتے ہیں۔ بازار جانے کی ضرورت بھی نہیں لیکن بازار جانے کو زندگی کا ضروری فریضہ سمجھ لیا ہے۔ نتیجتاً ہفتہ وار چھٹی کو ذہنی اور جسمانی سکون میں گزارنے کے بجائے بازاروں کی بے ہنگم اور غیر رومانوی رونق اور ٹریفک کے شور میں گزار کر ذہنی بے سکونی، بے چینی اور جسمانی تھکاوٹ بھی کارٹ میں ڈال لاتے ہیں۔

جس سے ہماری نیند، آرام اس بری طرح سے متاثر ہوتا ہے کہ ہماری جاب پرفارمینس بھی متاثر ہوتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ صرف گروسری کی خریداری کے لئے پورا گھر روانہ ہو جاتا ہے جس سے انسانی توانائی کا غیر منظم استعمال اور ضیاع کر کے وہ وقت جس میں دن کے سارے کام شام سے پہلے نمٹائے جا سکتے تھے اور بقیہ وقت گھر بیٹھ کر دوستانہ فضا میں بہترین فیملی ٹائم گزارا جا سکتا تھا وہ شاپنگ مینیا اور بازاروں کی نذر کر دیا گیا اب صرف ذہنی اور جسمانی سٹریس کے علاوہ کچھ نہیں۔

اسی کنزیومر ازم کے عدم توازن کی بدولت ہمارے مکان آرام دہ یوزر فرینڈلی گھر نہیں بلکہ آرٹ کے نمونے تو بن جاتے ہیں لیکن دوستانہ وقت گزارنے کی جگہ نہیں۔

کھلونے، گیجٹس اور گھر کا ساز و سامان اس زندگی میں اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ وہ بچوں اور بڑوں کے لئے اوور سٹمولیشن
Over Stimulation
کا باعث ہو گیا ہے جو نفسیات کے مطابق ہر شخص کی ارتکاز توجہ اور تخلیقی صلاحیتوں کو منفی انداز سے متاثر کر رہا ہے۔

روزانہ لمبی ڈرائیو، آئس کریم کھانے جانا، برگر کھانے کو نکل جانا تفریح کا باعث تو ہے اور لطف اندوز ہونے کا بہانہ لیکن
Too much fun is no fun
اور اس لطف اندوزی کی بہتات اور زیادتی سے ہر بچہ بڑا یہی کہتے سنا جا رہا ہے۔ ”بوریت ہو رہی ہے“
اس شدت آمیز اور بے اعتدال بہتات نے ہمیں جھیلوں کنارے، چاند کی چاندنی اور پہاڑوں کے دامنوں کے سکوت اور طمانیت سے محروم کر دیا ہے۔ اور فطرت کے نظاروں سے دوری بہت بڑی بے اعتدالی ہے۔

ہم روزانہ کی بنیاد پر لمبی ڈرائیو اور آئس کریم کھا کر بھی ٹھنڈے دماغ سے رات کو نہیں سوتے بلکہ نفسیات کی رصد گاہ بتاتی ہے کہ بچے بڑے رات کو کسی نہ کسی بات پر جھگڑا کر کے ہی سوتے ہیں اور صبح دفتر بھی یہی نامکمل جھگڑا لے کر جاتے ہیں اور باس اور کولیگ سے بھی ٹکرا کر ہی آتے ہیں۔

رسومات پر بے دریغ پیسے کا ضیاع، شادیوں کی طویل تقریبات پر وقت، سکون اور جسمانی انرجی کا غلط استعمال اور نتیجہ سٹریس جو ہماری اپنی بے اعتدالی کا نتیجہ ہے۔

توازن کا ایک اور پہلو آپ کی جذباتی دنیا سے بھی منسلک ہے جہاں ہم محبت، نفرت، ہمدردی، بے اعتنائی میل جول دوری نزدیکی اور اندرونی اور بیرونی دنیا کے کے معاملات میں شدت پسندی سے کام لیتے ہیں۔ کبھی ہم اپنے اندرونی خلفشاروں اور عدم تحفظات کو حد سے زیادہ دباتے رہتے ہیں جو کبھی ہمارے ریپرشن بن کر ذہنی صحت کے لئے خطرہ بن چکے ہیں یا دوسری سمت ہم اتنے بے بس ہو جاتے ہیں کہ نا مناسب طور پر اپنے خبط اور ہیجانات کو اپنے موڈ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اور موڈ ڈس آرڈر کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یا تو کسی غم کو بہت دیر تک مناتے رہتے ہیں یا اتنے سفاک ہو جاتے ہیں کہ لگتا ہے غم ہمیں چھو کر نہیں گزرا۔

اسی طرح برداشت اور عدم برداشت کا توازن کھو کر ہم اجتماعی طور پر بھوکے شیر بن گئے ہیں۔ اختلاف رائے اور زود حسی یا بے حسی دو متضاد صفات میں کوئی درمیانی راستہ اپنانا تو ہر کوئی بھول چکا ہے۔ کبھی

سوشل بٹر فلائی بننا ہمارا خبط بن جاتا ہے اپنی ہمت اور چادر سے بڑھ کر دعوتیں، تقریبات اور محفلیں ہمارا شعار بن جاتی ہیں۔ لیکن تنہائی سے ہم پھر بھی نبرد آزما رہتے ہیں۔ دوسری جانب ایسی گوشہ نشینی کہ بہت قریبی تعلقات نبھانے سے بھی نظریں چراتے ہیں۔

بڑے ہو کر بھی ہماری اپنی تعلیم اور کیریر سے متعلق اہداف بھی کچھ اسی طرح کے عدم توازن کا شکار ہیں۔ کبھی ہم اپنی صلاحیتوں، وسائل اور اوقات سے بڑھ کر غیر حقیقی اہداف مقرر کر لیتے ہیں جن کے پورا نہ ہونے پر دل دکھا دکھا تمام زندگی ناکامی کو گلے لگا رکھتے ہیں۔

اور دوسری جانب ہماری سستی کاہلی اور آرام طلبی ہمیں ترقی کے بہتر اہداف بنانے میں روکتی رہتی ہے۔ اور ہم اس کو سادگی، قناعت، صبر شکر اور قسمت جیسے الفاظ میں لپیٹ کر ایک غیر معیاری زندگی نہ صرف خود گزارتے ہیں۔

حقوق فرائض کا چولی دامن کا ساتھ ہے جیسے محاورے کتابوں میں پڑھتے ہیں لیکن ہماری عملی زندگیاں اس مہذب محاورے کے عملی اطلاق سے عاری ہیں اور ہم محض اپنے حقوق کی پاسداری اور دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی کر کے عدم توازن کا ماحول پیدا کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں۔

قصہ مختصر دو انتہائی پولیرٹیز میں رہنے سے پیدا ہونے والے عدم توازن کا حل صرف شعوری کوشش سے درمیانی راستہ پر چلنا ہے تب ہی مکمل توازن اور ذہنی توازن قائم ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS