ماؤں کا عالمی دن اور ہمارے بوڑھے ہوتے ماں باپ جو کل تک جوان تھے
میں زندگی کے ایک عجیب مرحلے سے گزر رہا ہوں۔ میرا مشاہدہ مجھے اس رائے زنی پر اکساتا ہے کہ میرے تمام ہم عمر بھی جذباتی اور ذہنی ارتقاء کے اس عمل میں میرے شریک ہیں۔
میری زندگی ہستی کے اس موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں میرے اندر نہ بچپنے کی شوخی ہے اور نہ ہی وہ ٹھہراؤ جو ایک پیشہ ور آدمی کے مزاج کا خاصا ہوتا ہے۔
تبدیلی کا یہ عمل الجھنوں سے خالی بالکل بھی نہیں۔ میں رات دن کش مکش میں گھرا رہتا ہوں اور پیچیدگیوں کی اس ریل پیل میں وہ بھولی بسری اذیتیں بھی یاد آ کر ستاتی ہیں جن سے نمٹنا پہلے قدرے آسان ہوا کرتا تھا۔
میں چپکے چپکے اپنے ماں باپ کے اکا دکا سفید بال بھی گن لیتا ہوں جو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ جوں جوں میں جوان ہوتا جا رہا ہوں اسی رفتار سے میرے والدین بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرے ماں باپ اپنے خون سے میرے جسم کی آبیاری کر کے خود آہستہ آہستہ لیکن پیہم مرجھائے جا رہے ہیں۔ ایک جوان کو اس کے جسم کی ضرورت کے مطابق جس اضافی توانائی اور خون کی حاجت ہوتی ہے وہ توانائی اور خون اس کے ادھیڑ عمر ماں باپ کے کلیجے سے نکل کے آتا ہے۔ یہی فطرت کا طریقہ کہ ہم اس عظیم عطیے کو رد بھی نہیں کر سکتے۔
چترال میں یہ مفروضہ بڑا عام ہے کہ کچھ حشرات۔ جیسے بچھو اور مکڑی۔ میں بچے کی پیدائش کے وقت ماں کا پیٹ پھٹ جاتا ہے اور اسی پھٹے ہوئے پیٹ کے راستے نومولود دنیا میں داخل ہوتا ہے۔
یہ تصور انسانی ذہن کو کتنا اذیت ناک اور کرب ناک لگتا ہے کہ ایک بچہ پیدا ہوتے ہی ماں کو نگل جائے۔ مجھے انسان بھی اسی طرز پر عمل پیرا نظر آتا ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ کیڑے پیدا ہوتے ہی ماں کا خون پی جاتے ہیں اور انسان آہستہ آہستہ اپنے ماں باپ کا کلیجہ چبا جاتا ہے۔ شاید میری ماں کے بالوں میں چاندی اتر آئی ہے کیونکہ ان کے بالوں کی رنگینی میرے بالوں نے چھین لی ہے۔ شاید میرے ابو کے ماتھے پر جھریاں اسی لئے نمودار ہوئی ہیں کیونکہ میرے بے داغ چہرے کو نمو ان کے چہرے سے ملی ہے۔
شاید میں شہد کی اس مکھی کی طرح اپنے ماں باپ کا خون چوس رہا ہوں جو پھول کا رس چوس چوس کر اسے مرجھایا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔
لیکن مجھے یاد ہے اور میں بضد ہوں کہ ابھی کچھ سال پہلے ہی میرے ماں باپ جوان تھے۔
میری ماں کے چہرے کی جھریاں اور ابو کی نیم سفید داڑھی مجھے سونے نہیں دیتی، راتوں رات کسی کا چہرہ یوں کیسے بدل سکتا ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ میری جوانی اور ان کا ادھیڑ پن ایک ساتھ وارد ہوئے؟
اب تک تو زندگی صرف پیدائش کا نام تھی۔ پہلے میں خود پیدا ہوا۔ پھر چھوٹی بہن، پھر چچا زاد، پھر ماموں زاد، پھر آس پڑوس کے بچے پھر دوستوں کے بھائی بہن۔ ہر طرف جنم ہی جنم کا بول بالا تھا۔ موت کوئی دور کی شے معلوم ہوتی تھی۔ پتہ نہیں کیوں میں خود کو اور اپنے سگوں کو موت سے الگ محسوس کرتا تھا۔ اپنے جوان والدین اور موت جیسی بوڑھی چیز کو ایک ساتھ ذہن میں جگہ دینا نامعقول بلکہ نامناسب سا معلوم ہوتا تھا۔ لیکن اب میرے دوستوں کے والدین اس جہاں خراب سے جاتے جا رہے ہیں۔ اب مزید میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں موت کو پرایا کہہ کر منہ پرے کروں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے موت میرے پڑوس میں آ کر بس گئی ہے اور گنگنا رہی ہے
”اب نگاہوں سے بچ کے کہاں جائیں گے
ہم نے ان کے محلے میں گھر لے لیا ”۔
پس تحریر
(یہ تحریر دو سال پرانی ہے لیکن پھر بھی اب تک ادھوری ہے۔ میں دو سال کی انتھک کوشش کے باوجود اسے مکمل کرنے کی اذیت کو گوارا نہ کر سکا)


