کچھ ذکر اصغر خان اور عمر اصغر خان کا


دروازے پر دستک ہوئی، اگلے لمحے دفتر کا داخلی دروازہ کھلا، ایک وجیہ خوبرو شخص سفید شلوار قمیض سیاہ واسکٹ اور سیاہ پشاوری چپل پہنے میرے سامنے کھڑا تھا۔ میں… ہوں۔ آپ کے سامنے والے فلیٹ میں ہم نے آفس بنایا ہے۔ ابھی ٹیلیفون نہیں لگا، کیا میں آپ کے فون سے ایک لوکل کال کر سکتا ہوں! یہ 1988 کے موسم سرما کی بات ہے۔ میں ان سے ان کے آرٹیکلز کے توسط سے تو واقف تھا۔ اپنی تحریروں میں یہ ترقی پسند اور اپنے والد سے خاصے مختلف نظر آتے تھے۔ آج ان سے یہ مختصر سی ملاقات ہوئی۔ میں نے انہیں بتایا کہ آپ سے غائبانہ تعارف ہے تو خوش ہوئے۔ اب گاہے گاہے آتے جاتے علیک سلیک ہو جاتی، تفصیلی بات چیت کا موقع نہ بن سکا۔

ایک روز آمنا سامنا ہونے پر بہت خوش نظر آئے اور خوشی خوشی بتایا، ہم نے این جی او بنائی ہے، سنگی۔ سنگی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن۔ میں نے ان کی سرخوشی کے پیش نظر مناسب نہ سمجھا کہ پوچھوں یہ کیا ہے؟ یا اپنی کم علمی کی پردہ پوشی کو ہی بہتر سمجھتے ہوئے میں نے بھی مسکراہٹ کا تبادلہ کیا اور اپنی اپنی راہ ہو لئے۔ مجھے اس وقت معلوم نہیں تھا کہ این جی اوز کیا ہیں!

1989 کا سن تھا ایک روز محترم محمود ہمدانی صاحب (مرحوم و مغفور) ملے، بتایا ائر مارشل (ر) محمد اصغر خان صاحب ایک پندرہ روزہ رسالہ نکالنا چاہتے ہیں تفصیلات طے ہو گئی ہیں آپ میرے ساتھ بطور ڈپٹی ایڈیٹر آ جائیں۔ اس اردو زبان کے رسالے کا نام ’شناخت‘ طے پایا اور زور شور سے کام شروع ہوا۔ یہ سیاست، حالات حاضرہ، اور معیشت جیسے موضوعات کے حوالے سے ایک سنجیدہ میگزین تھا جس نے پہلے ہی شمارہ سے ملک گیر سطح پر پذیرائی حاصل کی۔ یہاں ائر مارشل صاحب کے صاحبزادے جناب عمر اصغر خان صاحب سے بھی ملاقات ہو جاتی۔ 1990 کا سال پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم اور یاد گار سال ہے۔

24 اکتوبر 1990 قومی اسمبلی کے ملک گیر انتخاب کا دن تھا۔ پیپلز ڈیموکریٹک الائنس (PDA) ، چار جماعتوں کا انتخابی اتحاد اور اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) نو پارٹیوں کا انتخابی اتحاد، اس اتحاد کو کامیاب کروانے کے لئے آئی ایس آئی نے کھلے عام مداخلت کی تھی، آئی جے آئی کی اتحادی پارٹیوں میں فنڈز کی تقسیم اور دیگر حربوں سے پی ڈی اے کی جماعتوں کو شکست ہوئی، نتیجہ آئی جے آئی کے حق میں رہا چنانچہ میاں محمد نواز شریف پہلی بار ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ الیکشن سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالفت ملک کے صدر غلام اسحاق خان نے کی تھی اور سیاست میں بدنام زمانہ الزام ’کرپشن‘ کے تحت قومی اسمبلی تحلیل اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت برطرف کی تھی۔

انہی انتخابات کے باعث ائر مارشل صاحب نے۔ ’شناخت‘ بند کر دیا کیونکہ وہ خود لاہور سے الیکشن میں قومی اسمبلی کی سیٹ پر امیدوار تھے۔ محمود ہمدانی صاحب نے بہت کوشش کی کہ رسالہ بند نہ کیا جائے کہ اب تو۔ ’شناخت‘ نے اپنی شناخت بنا لی ہے لیکن ائر مارشل صاحب نہ مانے اور شناخت قصۂ پارینہ ہوا۔ یہی وہ تاریخی دھاندلی زدہ انتخابات تھے جس کے بارے میں ائر مارشل صاحب نے آئی ایس آئی کی مداخلت بارے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں انصاف لینے کے لئے کیس دائر کیا لیکن انصاف کے اس اعلیٰ ترین ادارے نے 2018 تک، جب ائر مارشل (ر) محمد اصغر خان اس جہان فانی سے منہ موڑ گئے تھے، اس اہم ترین کیس کا فیصلہ نہیں سنایا تھا۔

1992 میں ایک بار پھر ہم بیروزگار ہوئے۔ اسی عالم مدہوشی میں (ہوش میں ہوتے تو یہ جرات رندانہ کب ممکن تھی) عمر اصغر خان صاحب کو فون کیا۔ السلام علیکم! جی میں ارشد رضوی بول رہا ہوں۔ بھئی آپ کہاں ہیں! ہم تو آپ کو تلاش کر رہے ہیں۔ آپ ملیں۔ کب آئیں گے! کل آ سکتے ہیں۔ جی میں کل آ جاؤں گا۔ اور ہماری بیروز گاری پھر ختم ہوئی۔ سنگی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن میں، میں ساڑھے تینواں ملازم تھا۔ ڈرائیور کی نصف تنخواہ عمر صاحب کی کنسلٹینسی فرم سیبکان ادا کرتا اور نصف سنگی۔ اسلام آباد آفس بھی سیبکان اور سنگی کا مشترکہ آفس تھا۔ مجھے سنگی کے اکاؤنٹس کی دیکھ بھال کی نازک ذمہ داری سونپی گئی۔ سچی بات یہ ہے کہ اس وقت تک مجھے این جی او کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا۔ یہ کیا کرتی ہیں؟ کیوں کرتی ہیں؟ کیسے کرتی ہیں؟ یہ ہیں کون؟

اکاؤنٹنٹ کا مینجمنٹ سے بہت قریبی ناتا ہوتا ہے چنانچہ ہمارا عمر اصغر خان صاحب سے دن بھر میں کئی بار آمنا سامنا ہوتا، ہم ایک طرح سے ’پرسنل سیکرٹری‘ کی ذمہ داری بھی نبھا رہے تھے۔ پرسنل بینک اکاؤنٹ کی چیک بک، ملنے کے لئے آنے والوں کا شیڈول ترتیب دینا، سنگی کے اکاؤنٹس کے ساتھ ساتھ سنگی کے واحد فیلڈ سٹاف کے خرچوں کی کارکردگی کا جائزہ وغیرہ بھی ہماری ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ کچھ عرصہ بعد یہ ہوا کہ ہماری ذمہ داریوں میں ائر مارشل محمد اصغر خان صاحب جب بھی ( وہ ایبٹ آباد سے اسلام آباد) تشریف لاتے تو ان کی سیاسی سرگرمیوں سے متعلق امور سر انجام دینے میں بھی ہمیں کچھ کام سونپے جاتے، جیسے جن سیاسی زعما سے وہ ملنا چاہتے، ان سے ملاقات کا وقت طے کرنا، پریس ریلیز جو وہ خود بناتے، وہ پریس کو جاری کرنا وغیرہ۔

اس روز گار نے اپنے وقت کی ان دو اہم شخصیات کو قریب سے دیکھنے اور جاننے کا موقع فراہم کیا۔ ائر مارشل صاحب کے سیاسی نظریات، سیاست میں ان کا کردار ایک الگ موضوع ہے ذاتی کردار کی چند اہم خوبیاں جو میں دیکھیں ہیں ان کا ذکر میں کروں گا۔ اگر میں یہ کہوں کہ ائر مارشل صاحب بااصول (Man of principle) آدمی تھے تو بات بنتی نہیں، ان کی جن باتوں نے مجھے چونکایا ان میں سے چند ایک کا ذکر یہاں کروں گا جن سے آپ اتفاق کرتے ہوئے مانیں گے کہ ائر مارشل صاحب واقعی بااصول انسان تھے۔

وہ جب بھی ایبٹ آباد سے دو چار ہفتوں کے لئے اسلام آباد تشریف لاتے تو گاڑی ڈرائیور اور خانساماں ساتھ لاتے۔ جتنے دن قیام فرماتے، ٹیلیفون کا بل خود ادا کرتے۔ ایک ایک پائی کا حساب رکھتے۔ گاڑی کی لاگ بک کو باقاعدہ دیکھتے۔ یہ وہ باتیں ہیں جنہیں عموماً بہت چھوٹی باتیں کہہ کر نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن یہی ’بہت چھوٹی‘ باتیں کردار کی عظمت کو ظاہر کرتی ہیں۔ نبی آخر الزماں ﷺ نے مشرکین مکہ سے خطاب میں رب ذوالجلال کی وحدانیت کے علاوہ تمام باتیں کردار سازی ہی کے لئے فرمائی تھیں۔ لین دین میں کھرے رہو۔ کسی کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ جھوٹ نہ بولو۔ ناپ تول پورا پورا کرو۔

نوے ہی کی دہائی میں ائر مارشل صاحب کو صدر پاکستان کے عہدے کی پیشکش کی افواہ غلام گردشوں میں گرم تھی۔ موقع دیکھتے ہوئے میں نے اس افواہ کا ذکر ائر مارشل صاحب سے کیا تو فرمایا ”بہت نوکری کی ہے، اب مجھے نوکری نہیں کرنی“۔ اشارہ یہ تھا کہ صدر پاکستان کا عہدہ بھی ملازمت کرنے جیسا ہی ہے، اگر اس عہدہ پر فائز شخص بھی آئین کے مطابق اپنا کردار ادا نہ کر سکے تو پھر یہ بغیر اختیار کے ملازمت ہی ہے۔ آج ہمارے سیاستدان ایک طرف اختیار و اقتدار کے دلدادہ ہیں اور دوسری طرف ’ہر سروس‘ دینے کے لئے تیار ہیں۔ جمہوریت اور عوام کے الفاظ محض زبان کا ذائقہ بدلنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

پاکستان کی پہلی غیر سرکاری غیر منافع بخش فلاحی تنظیم آل پاکستان ویمن ایسوسی ایشن (اپوا) ہے۔ فروری 1949 میں اس کا قیام عمل میں آیا تھا۔ سرپرست اعلیٰ محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم خواجہ ناظم الدین جب کہ صدر بیگم رعنا لیاقت علی خان کو منتخب کیا گیا تھا۔ نوے کی دہائی میں پاکستان میں غیر سرکاری غیر منافع بخش غیر سیاسی فلاحی تنظیموں کا آغاز ہوا جنہیں این جی اوز کہا جاتا ہے۔ ان تنظیموں کو عموماً غیر ملکی فنڈنگ ملتی ہے جو عوامی فلاح و بہبود کے کام پاکستان کے قوانین کے مطابق سر انجام دیتی ہیں۔

اس کے علاوہ نوے کی دہائی میں این جی اوز نے حکومت اور عوام کے درمیان پل کا کردار بہت کامیابی سے ادا کیا جسے ’ایڈووکیسی‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لئے ملک گیر سطح پر پاکستان این جی او فورم اور چاروں صوبوں کے صوبائی فورمز تشکیل دیے گئے تھے۔ راولپنڈی؍اسلام آباد کی سطح پر ’کولیشن آف راولپنڈی اسلام آباد این جی اوز (کورن) بھی بنایا گیا تھا۔ کورن میں اس وقت کی بڑی اور نمایاں کام کرنے والی این جی اوز شامل تھیں جن میں سنگی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن بھی شامل تھی جس کے سربراہ عمر اصغر خان، جو معروف ماہر معیشت، سماجی و سیاسی مفکر تھے۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں فلاسفی، اکنامکس اور سیاسیات کے پروفیسر تھے۔

سنگی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کا ہیڈ آفس کافی عرصہ تک اسلام آباد میں رہا جسے بعد میں ایبٹ آباد آفس میں منتقل کیا گیا۔ ہیڈ آفس کے علاوہ ایبٹ آباد میں زونل آفس بھی تھا۔ اس کے علاوہ ہری پور، بٹ گرام اور گلیات میں بھی زونل آفس تھے۔ سنگی جن شعبوں میں کام کرتا تھا ان میں کمیونٹی کی بنیاد پر صحت کی دیکھ بھال، تحفظ جنگلات، پائیدار زراعت، خواتین کو با اختیار بنانا، بے گھر افراد کی دوبارہ آباد کاری وغیرہ شامل ہیں۔

دیہی سطح پر شعور کی بیداری کے لئے تنظیم سازی سنگی کا بنیادی کام تھا۔ چنانچہ گاؤں کی سطح پر کسی بھی ترقیاتی کام کی حامی سنگی اس وقت تک نہیں بھرتا تھا جب تک اس گاؤں میں مضبوط اور فعال تنظیم موجود نہ ہو۔ اسی طرح ترقیاتی کام کے لئے یہ بھی شرط ہوتی تھی کہ اس گاؤں کے لوگ اور تنظیم ترقیاتی کام کی کل لاگت کا تیس فیصد برداشت کرے گی۔ عموماً یہ حصہ گاؤں والے راج مزدور کے طور پر کام کر کے ادا کرتے تھے۔ یہ حکمت عملی گاؤں والوں کو احساس اپنائیت و ملکیت بخشتا ہے۔

1992 کے سیلاب نے شمالی علاقہ جات اور گلیات میں ایسی تباہی مچائی تھی کہ زندگی مفلوج ہو گئی تھی۔ سنگی نے انٹرنل میٹنگ میں حکمت عملی ترتیب دی جس کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ سنگی ان جگہوں اور علاقوں میں بحالی کے کام کرے گی جہاں حکومت کی امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ پائیں گی اور واقعی ایسا ہی ہوا، بعض بین الاقوامی ادارے جہاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سامان پہنچا رہے تھے سنگی کے لوگ اور خصوصاً فیلڈ سٹاف جیپ کے ذریعے اور پیدل وہاں جاتے مقامی لوگوں کی ضرورتوں کی فہرست ترتیب دیتے اور چھوٹے پل اور واٹر چینلز کی ازسرنو مرمت وغیرہ کے کام سر انجام دیتے۔

سنگی نے سٹاف کے لئے جو بھی اصول و ضوابط بنائے ان پر عمل پیرا ہونے کو یقینی بنانے کے لئے عمر اصغر خان ہمیشہ پیش پیش ہوتے۔ ایک ضابطہ یہ تھا کہ اگر کسی سٹاف کو آفیشل گاڑی ذاتی استعمال کے لئے درکار ہو تو گاڑی کے میسر ہونے کے ساتھ فی کلو میٹر کرایہ بھی دینا ہو گا چنانچہ خود عمر اصغر خان آفیشل میٹنگ یا ڈنر وغیرہ میں شرکت سے فارغ ہونے کے بعد اگر سیدھا گھر یا آفس جانے کی بجائے کسی اور جگہ جاتے تو ڈرائیور کو بتا دیتے کہ اب گاڑی ذاتی استعمال میں ہے، لاگ بک میں نوٹ کر لو۔

مہینے کا اختتام پر فنانس ڈیپارٹمنٹ کو فون کر کے معلوم کرتے کہ اس ماہ کتنے کلو میٹر کے پیسے میری تنخواہ سے کاٹ رہے ہو۔ کمی بیشی کی صورت میں اصلاح کرتے۔ سنگی کی تنظیم میں جو شخص عمر صاحب کی غیر موجودگی میں ایکٹنگ سربراہ ہوتا تھا ایک بار فیلڈ سے واپسی پر وہ گاڑی اپنے گاؤں لے گیا۔ اس بات کا علم جب عمر صاحب کو ہوا تو ان کی سرزنش کی اور تنخواہ سے کٹوتی کی گئی۔ سٹاف کی ذاتی اور پروفیشنل صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لئے مختلف تربیتی کورسوں کا گاہے بگاہے نہ صرف سنگی اہتمام کرتا بلکہ ڈونر ایجنسیز اور دیگر قومی این جی اوز بھی ایسے تربیتی کورسز کا انعقاد کرتی رہتی تھیں۔

مختلف حلقوں خصوصاً لیفٹ کے دوستوں کا ایک اعتراض یہ بھی ہوتا تھا کہ این جی اوز نے لیفٹ کی تحریک یا جدوجہد کو نقصان پہنچایا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے سیکنڈ ورلڈ آرڈر پر عمل درآمد کا ایک پہلو کارپوریٹ سیکٹر کو مضبوط کرنا تھا جس کے لئے تھرڈ ورلڈ کی حکومتوں کو کمزور کرنا سامراج کی اولین حکمت عملی رہی۔ چنانچہ شروع کے کئی برسوں میں قومی یا علاقائی سطح کی این جی اوز کا ایڈووکیسی پر زیادہ زور رہا جبکہ سی بی اوز (کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشنز) سروس ڈلیوری کے کام کرتی رہیں۔

این جی اوز کے ایڈووکیسی کا کام کرنے سے کسی حد تک حکومت پر لوگوں کا انحصار متزلزل ہونا شروع ہوا تو اس خلا کو کارپوریٹ سیکٹر نے مالیاتی اداروں (ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک وغیرہ) کی مدد سے پر کیا، آج پاکستان اے ڈی بی کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ کون سی سبسڈی واپس لینی ہے، کن اشیاء پر کتنا ٹیکس لگانا ہے، یہ سب فیصلے اے ڈی بی کرتا ہے۔ حکومت کوئی بھی ہو، کان ایسے پکڑو یا ویسے، بالآخر بات انہی کی ماننی پڑے گی۔ ایک بار ایک وزیر نے جرات سے کام لیتے ہوئے کڑوا سچ بول دیا تھا تو اپوزیشن نے بات کو غلط رنگ دے کر خوب اودھم مچایا تھا حالانکہ بات تو سچ تھی مگر بات تھی رسوائی کی۔

Facebook Comments HS