ریڈ لائن کیا ہے ؟ پاکستان یا عمران خان

میں نے بڑوں سے بھٹو کے قصے سنے ہیں اور عوامی طاقت کے مظاہرے بھی۔ لیکن میں نے یہ نہیں سنا کہ بھٹو کی پھانسی کے بعد جی ایچ کیو یا کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کیا گیا ہو۔ سنانے والوں نے بے نظیر کی آمد پر لاکھوں کے مجمع کا قصہ بھی سنایا مگر یہ نہیں سنا کہ وہ لاکھوں کا مجمع لے کر ضیاء الحق تک لے گئی ہو۔ 2007 میں بھی تو خود دیکھا کہ بے نظیر قتل ہوئی جس پر احتجاج بھی ہوا مگر جی ایچ کیو پر حملہ نہیں ہوا۔ زرداری، نواز شریف، مریم نواز گرفتار ہوئے مگر جی ایچ کیو پر حملہ نہیں ہوا لیکن یہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ عمران خان صاحب گرفتار ہوئے صرف گرفتار ہوئے اور ملک کو آگ میں ڈال دیا گیا۔
پی پی اور مسلم لیگ نواز کے خلاف اسٹبلشمنٹ نے بہت کچھ پلان کیا اور یہ ان پارٹیز کو یہ سب معلوم بھی تھا لیکن پھر بھی ان پارٹیز نے یہ قدم نہیں اٹھایا۔ مجمع تو ان کے پاس بھی تھا، کارکنان تو ان کے پاس بھی تھے اور سب کو معلوم بھی تھا کہ سازش کہاں سے ہوئی ہے اور ان کو راستے بھی معلوم تھے۔ لیکن ریاست کو مقدم رکھا اور سیاست کو بالائے طاق اور صبر کے گھونٹ پی پی کر کامیاب ہوتے رہیں اور آج بھی پاکستان کی سیاست میں موجود ہیں۔
عمران خان صاحب ایک بڑے پروجیکٹ کا حصہ تھے، مگر پروجیکٹ بنانے والوں کے ہاتھ سے یہ پروجیکٹ نکل گیا گویا پروجیکٹ میں کوئی وائرس آ گیا اور خالق سے بھی سنبھل نہ پایا۔ عمران خان صاحب، مانا آپ کے خلاف سازش ہوئی ہے اور اب تک ہو رہی ہے لیکن عمارتوں نے آپ کے خلاف سازش نہیں کی وہاں پر بیٹھے لوگوں نے کی ہوگی تو علامتی عمارتیں نشانہ کیوں؟ ان حملوں سے دو قسم کے لوگ خوش ہوئے ایک آپ کے فینز اور دوسرے غیر ملکی دشمن۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو بھی کوئی خاص تک تکلیف نہیں ورنہ آپ بھی جھوٹے منہ مذمت کر ہی دیتے۔
یہ کیسی تربیت ہے کارکنان کی اور پھر آپ نے مذمت بھی نہیں کرنی، کارکنوں کی سرزنش بھی نہیں کرنی۔ کیا پارٹی میں جب لائحہ عمل بن رہا تھا احتجاج کو تو یہ بات زیر غور نہیں آئی ہوگی۔ یہ خیال جس کا بھی تھا آپ نے اس اس وقت ہی سختی سے منع کرنا تھا کیونکہ یہ معاملہ سیاست یا جمہوریت کا نہیں بلکہ ریاست کی سالمیت کا ہے۔
ایک واٹس گروپ پر ایک سوال ہوا کہ پاکستان یا عمران خان جواب آیا عمران خان، جواب دو لوگوں کا تھا مگر خاموش دو سو لوگ تھے۔ ان دو لوگوں سے سوال ہے کہ اگر پاکستان نہیں ہو گا تو عمران خان سیاست کدھر کریں گے؟ لیکن جواب نہیں ہو گا ان کے پاس۔ یہ برین واشنگ برسوں کی گئی اور اب یہ کارکنان اپنے آپ کو انقلابی سمجھ بیٹھے ہیں۔ ففتھ جنریشن وار کے نام پر ایک بڑا خطرناک ہجوم پیدا ہو گیا۔ پروجیکٹ عمران تو 2011 کا منصوبہ تھا مگر بھرپور جھلک 2018 میں ہوئی۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ 2017، 18 کے دونوں منصوبے انتہا پسندی میں ڈھل گئے اور ریاست کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
9 مئی کو جو ہوا اس کا سب سے زیادہ نقصان ریاست کو ہوا اور سب سے زیادہ فائدہ دشمن کو ہوا۔ اختلاف ہونا ہرگز غلط نہیں لیکن اختلاف کی بنیاد پر ملک کو جلا دینا کسی صورت درست نہیں۔ پاکستانی سیاست میں سازشیں بہت ہیں نہیں معلوم کہ دشمن کون ہے اور دوست کون۔ لیکن اگر آپ سازش کا شکار ہو گئے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ریاست کے خلاف اٹھ جائے۔ اس سے پہلے بھی بہت بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے لیکن اس طرح کی سیاسی دہشت گردی دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ بات ہم سب کو بالخصوص سب کو سمجھنی ہوگی کہ کوئی بھی شخصیت ہو وہ ریڈ لائن نہیں ہوتی ریڈ لائن بس پاکستان ہے اور کوئی بھی ادارہ ہو وہ ریڈ لائن نہیں ہوتا بلکہ آئین پاکستان ریڈ لائن ہوتا ہے۔

