نیر مسعود کا تخلیقی تخیل


 

افسانہ نگاری نیر مسعود کی زندگی میں دوسرے موڑ پر سامنے آتی ہے۔ اس سے قبل وہ محقق، نقاد اور زبان و ادب کے عالم کے طور پر شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ نیر مسعود افسانہ نگاری میں اپنی مثال آپ ہیں۔ انھوں نے افسانے کا ایک منفرد اسلوب ایجاد کیا اور پھر اس انداز کو اوج کمال تک پہنچایا۔ ان کے انداز کی پیروی یا نقل ناممکن معلوم ہوتی ہے۔ افسانوں کی فضا ء اور ماحول اور بیان، کرداروں کی تشکیل اور بھید بھرا بیانیہ ان کے افسانوں کی امتیازی خصوصیات ہیں جو انھیں بالخصوص معاصر افسانہ نگاروں سے منفرد ٹھہراتی ہیں۔

یہ بات سچ ہے کہ ان کی کہانیاں حقیقت نگار افسانہ نگاروں کے چند اہم عناصر کو جذب کیے ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود ان سے علیحدہ دکھائی دیتی ہیں۔ اس سے بڑھ کر دلچسپ بات یہ ہے کہ واقعیت کی سطح سے ماورائیت کی طرف ابھرتی ہوئی یہ کہانیاں ان افسانوں سے بھی علیحدہ ہیں جنھیں ہمارے ہاں علامتی افسانوں کا نام دیا جاتا ہے۔ کیا اس طرز خاص کے لئے اردو کی محبوب ترین اصلاح ”توازن“ کو استعمال کیا جائے اور یہ کہا جائے کہ نیر مسعود کے ہاں ”واقعیت“ اور ”علامت“ کا توازن موجود ہے۔

مگر یہ سوال باقی رہے گا کہ توازن جو اپنے طور پر بامعنی اصلاح ہو سکتی ہے صرف اس کی نشاندہی ایک سادہ کار گزاری بن کر تو نہیں رہ گئی؟ یا کوئی علامت پسندی یہ کہہ سکتا ہے کہ نیر مسعود علامت نگاری کی طرف سفر کرتے ہیں لیکن عدم ابلاغ کے طعنے سے خوفزدہ ہو کر واقعیت کا ڈھانچہ توڑنے کی ہمت نہیں کرتے۔ مگر مشکل یہ آن پڑتی ہے کہ نیر مسعود کی کہانیاں واقعیت سے مربوط ہونے کے باوجود اپنے اندر اتنے بھید رکھتی ہیں جن کا عشر عشیر بھی ان کہانیوں میں نہیں ملتا جن پر علامتی افسانے ہو نے کا بھاری بھرکم لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

جن کہانیوں کو بالعموم علامتی کہانی سمجھا جاتا ہے اس کے بہترین نمائندوں کو چھوڑ کر علامتیں متخیلہ کی کسی نادر جہت سے مربوط نہیں ہوتیں۔ یہ سامنے کی علامات ہیں اور ان کی معنویت مخصوص سماجی حالات کے دائرے کے پار نہیں جاتی۔ پھر افسانہ نگار ایسی علامت کی تلاش ہی سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اس کے امکانات کو کھنگالنے کے بجائے علامت کی سطح ہی کو ٹٹول کر رہ جاتا ہے۔

نیر مسعود نے زیادہ اثرات ایڈگر ایلن پو اور فرانز کافکا کے قبول کیے ہیں، کافکا کی بعض کہانیوں کے تراجم پر ان کی کتاب ”کافکا کے افسانے“ بھی شائع ہو چکی ہے۔ بنیادی طور پر نیر مسعود کا موضوع حقیقت اور ماورائیت کا وہ تضاد اور تقابل ہے جس سے کوئی فن کار بچ نہیں سکتا۔ مگر دیکھنے کی بات یہی ہوتی ہے کہ کسی فن کار کے ہاں یہ جدلیات کیسی شان اور کیسے اظہاری پیمانے لے کر آتی ہے۔ نیر مسعود کو الف لیلہ کی سوتے جاگتے کی حکایت بہت پسند ہے اور وہ بچوں کے لئے اس کا ایک ڈرامائی روپ بھی تحریر کر چکے ہیں۔

حقیقت، خواب ہے یا خواب ہی حقیقت ہے؟ ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں۔ جو کچھ دکھائی دیتا ہے کیا یہی حقیقت ہے۔ وجود اور عدم کی حد کیا کہیں ملتی ہے؟ مکاں سے لامکاں کا کیا تعلق ہے؟ نیر مسعود کا افسانوی شعور ان سوالوں سے الجھتا ہے جو فلسفے کے بنیادی سوال ہیں مگر خود فلسفہ بھی تو انسانی ذات کی گہرائیوں سے ابھرنے والے سوالوں ہی کو ایک فکری دائرے میں لانے کی کوشش ہے۔

بیانیے کا انداز ہر نسل کے تخلیقی تخیل کی روشنی میں مختلف ہو سکتا ہے۔ یہاں تو ان کامیاب علامتی کہانیوں ہی کا پس منظر ذہن میں ہے۔ انتظار حسین کی کہانی ”زرد کتا“ یا سریندرا پرکاش اور خالدہ حسین کی اچھی کہانیوں میں ہے جہاں تخلیقی تخیل کی کیمیا گری ماحول کو عجیب و غریب رنگ میں ڈھال دینے پر قادر ہے۔ وارث علوی نے جل کر اپنے مخصوص انداز میں کہہ دیا ہے کہ جنھیں گھڑی کا وقت دیکھنا نہیں آتا وہ افسانے میں وقت کا تصور توڑ دینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ افسانہ نگار چاہے غیب کی سیر کرائے اگر شہود اس کی گرفت میں نہیں تو اتنے جھٹکے لگیں گے کہ کمر ٹوٹ جائے گی۔

اور ایک بات اور کہ جس انداز کا تجزیہ میں نے شروع کیا ہے وہ نیر مسعود کے ساتھ نا انصافی تو نہیں۔ کیا میں ایک اچھے خاصے علامتی افسانہ نگار کو ”واقعیت نگار“ ثابت کر کے اس کے درجے کو گھٹا تو نہیں رہا؟ علامتی افسانہ نگار ہونے کا مطلب اگر بعض حلقوں میں کم تر درجے کا فن کار ہونا ہے تو افسانے کے نئے نقادوں کے یہاں اس کا مطلب برتر فن کار ہونا بھی ہے۔ اب تو علامت کی تلاش میں غوطہ زنی کے وہ حیرت ناک مظاہرے بھی دیکھنے میں آتے ہیں کہ عقل چکرا جاتی ہے۔

باکمال افسانہ نگاروں کی حقیقت نگاری کی تہیں، انسانی دکھ سکھ سے ان کا گہرا رشتہ ان کی زبان و بیان کی نفاستیں ان کا دفاع نہ کر پائیں۔ غواصان ادب نے علامت کے موتی تلاش کر کے ان گو گمنام ہونے سے بچایا۔ اب تو بات یہاں تک آن پہنچی ہے کہ کسی افسانے میں ہری بھری فصلوں کا ذکر آ گیا تو نقاد کے لئے لازم ہے کہ تخلیق کائنات سے خانہ بدوش قبائل کی زندگی تک اور وہاں سے زرعی تمدن کی صدیوں کو عبور کرتے ہوئے اساطیر اور زرخیزی کے مت کا دفتر کھنگالے۔

علوم کی بصیرت سے تنقید بے نیاز نہیں رہ سکتی لیکن فکشن کی تنقید ان علوم کی نصابی کتاب نہیں بن سکتی وہ افسانے کی زندہ واردات سے سروکار رکھتے ہوئے اس بصیرت کو استعمال کرے گی، اس زندہ واردات سے علامت کا کیا رشتہ ہے اس کا جواب یہ تنقید نہیں دیتی۔ نیر کے ہاں تو اساطیری تنقید کی بہت گنجائش موجود ہے۔ ان کی کہانی ”شہر“ ہی کو لے لیں۔ آپ اس رمز کے حوالے سے اساطیری اور تاریخی معلومات کا انبار جمع کر دیتے ہیں۔

پھر ”مکاں“ ان کے یہاں بار بار دکھائی پڑتے ہیں۔ مکاں کی علامت پر معلومات جمع کرتے جائیے حتیٰ کہ ان کی کہانیوں میں مقبروں اور قبروں کے حوالے سے آپ چاہیں تو انسانوں کی تجہیز و تکفین کی پوری تاریخ بیان کر سکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ شہر، مکاں اور مقبرے سے افسانہ نگار کے تخلیقی تخیل کا رشتہ کیا ہے۔ اس رشتے کو ڈھونڈتے ہوئے درجہ بہ درجہ شاید ہمیں خاصی دور تک جانا پڑے مگر اس رشتے کو توڑ کر نہیں۔

نیر مسعود کے تخیل کو مرگ، قبر اور سیاہی سے جو ربط ہے، کیا اس کے پیچھے مذہبی حسیت کی کوئی خاص شکل بھی ہے؟ رومانی تخیل کی بھی یہ خصوصیت رہی ہے مگر یہاں تعیشات یا ربودگی کی فضا نہیں۔ میریو پراز کی مشہور کتاب The Romantic Agony میں رومانی تخیل کے کچھ دھاروں کی وضاحت دیکھی جا سکتی ہے۔ کیا یہ سب کچھ بعض لکھنوی شعراء کے انحطاط پسند تخیل کی طرح کی کرشمہ کاری ہے، عجلت سے کوئی فیصلہ نہ کریں تاہم مختلف چیزوں کا تقابل بامعنی ہو سکتا ہے۔

ایسے اعتراضات بھی ضرور ہوں گے لیکن فرانز کافکا اور اس کے بعد افسانوی ادب کے اہم نمائندوں کے فن پر جو کچھ لکھا ہے اس میں ان کا جواب موجود ہے اور یہ موجودہ زندگی کی پیچیدگی کا کون سا رخ ہے کہ ”صحت مند“ ادب تخلیق کرنے والوں کی حقیقت دو دن میں ناتواں لگنے لگتی ہے۔ اور ”انحطاط پسند“ کہلانے والوں کے اندیشے زندگی کی حقیقت بنتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پھر بھی یہی انفرادی تخیل نیر مسعود کی کہانیوں کی حدبندی بھی کرتا ہے۔

اس دائرے کے پار کیا ہے۔ یہ فی الحال نظر نہیں آتا۔ اسی طرح وہ گمبھیرتا جو نیر مسعود کی کہانیوں میں چادر کی طرح تنی ہے کہیں کہیں یہ احساس دلانے لگتی ہے کہ چلیں چادر تنی ہے مگر اس میں کوئی ایسا سوراخ نہیں جس سے اس کے پار دیکھ سکیں۔ مگر ”جرگہ“ میں ہلکا سا احساس ہوتا ہے کہ نیر مسعود شاید کبھی یہ رخ بھی دکھا سکیں۔

Facebook Comments HS