خالی گھونسلا


سردیوں میں سوکھی ٹہنیوں پر بنے ہوئے خالی گھونسلے سیکھ کر کچھ عجیب سی اداسی اور مایوسی ہوتی ہے۔ خدا جانے یہ پرندے کبھی واپس بھی آ پائیں گے یا نہیں۔ کیا ان گھونسلوں کو دوبارہ آباد کریں گے یا نیا گھونسلا بنائیں گے کسی اور ساتھی کے ساتھ۔ کار میں بیٹھی یہ سوچتی جا رہی تھی۔ کھڑکی سے نہایت خوشگوار ہوا آ رہی تھی۔ ایسی خوشگوار جو نہ ٹھنڈی ہو نہ گرم، بس دل و دماغ کو سکون دے اور روح کو منور کردے

یہ تو بہت دیکھی بھالی جگہ ہے، بہت پرانی بہت مانوس۔

صدر دروازہ اور پھر اندر داخلے سے پہلے عمارت کے اندر دونوں طرف پتھر کی کرسیاں شاید پاسبانوں کے لئے لیکن نانا کے گھر تو بچے تفریحا بیٹھتے اترتے تھے گویا یہ بھی کوئی کھیل تھا۔ بچوں کے لئے تو ایک زمانے میں زندگی ہی کھیل ہوتی ہے۔

اندر داخل ہوتے ہی بڑا سا صحن اور ایک طرف بیٹھک جو صرف اس وقت استعمال ہوتی تھی جب نانا سے کوئی ملنے آتا تھا۔ نانا کے چار بیٹے اور بارہ بیٹیاں تھیں۔ آخری بیٹے کی شادی کے وقت تین بیٹے اور دس بیٹیاں اور ان کے بچے موجود تھے۔

اور اس گھر میں ہر کنبے کے لئے الگ جگہ نکل آئی تھی۔ ایک بیٹا بھی تین بیٹوں اور ایک بیٹی کے ساتھ پہلے بھی اس گھر میں رہتا تھا جس کی بیوی گھر والوں کے ساتھ آنے جانے والے مہمانوں کے لئے بھی کھانا پکاتی اور روٹیاں تھوپتی تھی۔ دونوں لڑکے رستم اور سہراب نام رکھ کر بستروں پر کشتی لڑتے تھے۔

صحن کے بائیں کونے میں بیت الخلا اور آگے چل کر برآمدے کے قریب باورچی خانہ تھا۔ دائیں طرف دو ایک کمرے تھے جہاں ان کے منجھلے بیٹے کا اپنے کنبے کے ساتھ مستقل قیام تھا۔ یہ بیٹا اور دو کنواری بیٹیاں ساتھ رہتی تھیں، باقی کنبہ پورے ہندوستان میں بٹا ہوا تھا جو ہر گرمیوں کی چھٹیوں میں یہاں موجود ہوتا تھا اور خاندان کی شادیاں بھی ان ہی دنوں میں رکھی جاتی تھیں۔

میں اب تصور کر رہا تھا اس وقت ماضی کے اس گھر کا۔ مانا دو منزلہ تھا، کئی کمرے تھے مگر جب سب سے چھوٹے بیٹے کی شادی کی باری آئی تو دو بن بیاہی بیٹیوں کو چھوڑ کر جو پہلے ہی اس گھر میں رہتی تھیں ساری بیٹیاں اپنے کنبے سمیت آ پہنچیں اور اس زمانے میں بھی ہر ایک کے پانچ چھہ بچے ہوچکے تھے۔

خاندان کی ساری لڑکیاں بستر بچھانے، سمیٹنے، صفائی اور کھانا کھلانے کا کام کر کے باقی وقت سہیلیوں کے ساتھ باتیں مٹھولتی تھیں۔ لڑکے کزن لڑکیوں سے موقع بے موقع بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتے تھے۔ گھر کا کھانا کھانے کے بجائے بازار سے کباب پراٹھے لاتے، طرح طرح سے اپنے علاقوں میں پہنچاتے اور اڑاتے۔

آج برسوں بعد مجھے پاکستان سے اس لئے آبائی وطن اور گھر میں بھیجا گیا تھا کہ دیکھ کر آؤ، سب کچھ ٹھیک ہے، قبضہ تو نہیں ہوا ٹوٹ پھوٹ تو نہیں ہوئی۔ میں گھر میں بڑے سے صحن میں داخل ہوا۔ یہ وہی صحن تھا جہاں آم کے باغوں سے آئے ہوئے آم پلنگوں پڑے رہتے تھے۔ آگے دو سیڑھیاں چڑھ کے برامدہ تھا۔

سیڑھیوں کے دونوں طرف کیاریوں میں انگور کی بیلیں چڑھ کر اوپر کپڑے کی بنائی ہوئی چھت تک جھولتے انگور کے کچے خوشے تو پہلے بھی دیکھے تھے مگر کبھی ان کو پکتے نہیں دیکھا تھا۔

برآمدے کے دونوں طرف کمرے تھے۔ بائیں طرف کا کمرہ بیٹے کے پاس تھا جہاں ان کے دونوں دھان پان لڑکے رستم و سہراب نام رکھ کر بستروں پر کشتیاں لڑا کرتے تھے۔

ایک طرف برآمدے میں ریڈیو رکھا رہتا تھا جہاں عورتوں کو پردے میں بھیج کر پورا محلہ جنگ کی خبریں سننے آتا تھا۔

میں یہ سب دیکھتا چلا جا رہا تھا کہ ایک دم ہلچل مچی۔ کوئی دروازہ زور زور سے پیٹ رہا تھا۔ میں الٹے پاؤں پھرا، دروازہ کھولا تو چار پانچ لٹھ بردار جوان کھڑے تھے۔

اس سے پہلے کہ وہ حملہ کرتے، میں چلایا۔ عبدالرحمان کا بیٹا۔ سلمان۔ لٹھ بردار ہاتھ نیچے ہو گئے اور پھر معانقے کا دور شروع ہو گیا۔ اس دوران بتایا کہ اپنے گھروں سے زیادہ تمہارے گھر کی حفاظت کرتے ہیں۔ تمہارے ابا کا احسان بھولے تھوڑا ہی ہیں۔ کیا کچھ نہیں کیا ہمارے ساتھ۔

جب تک رہو گے کھانا ہمارے ساتھ کھاؤ گے۔ بیچنے آئے تو اچھے دام دلوائیں گے۔ رہنے آ جاؤ تو تمہاری طرف کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔ میں نے ان سب کا شکریہ ادا کیا اور پھر اس خالی گھونسلے میں واپس گیا۔

گھونسلا خالی ضرور تھا مگر کیا اچھے ہاتھوں میں تھا!

Facebook Comments HS