پاکستان کیا کچھ ایکسپورٹ کر سکتا ہے؟
ہم جانتے ہیں کہ پاکستان وسائل سے مالامال اک امیر ملک ہے لیکن پاکستانی غریب ہیں جس کی وجہ دنیا بھر میں ہماری وقعت بھکاری سے زیادہ نہیں۔ پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا اک ایسا ملک ہے جسے دنیا ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے۔ ہم ایسے کیوں ہیں اس کا سیدھا جواب ہے کہ ملک چلانے کے لیے ہم دنیا سے جو خریدوفروخت کرتے ہیں اس میں خرید یا درآمدات زیادہ جبکہ فروخت یعنی برامدات یا ایکسپورٹس کم ہیں۔ امپورٹ و ایکسپورٹ کے اس فرق کو برابر کرنے کے لیے ہم ہر سال خراج لیتے ہیں اور اس قرض کو اتارنے کے لیے مزید قرض لیتے ہیں۔
پاکستان سے محبت اپنی جگہ مگر ہمارا سبز پاسپورٹ ہمارے لیے فخر کی بجائے سبکی کا باعث بن رہا ہے۔ آخر کیوں؟ آخر کیوں ہم آج تک کسی اک بھی شعبے میں اپنا برانڈ نہیں بنا سکے جبکہ ہم سے ہی الگ ہونے والا بنگلہ دیش فیبرکس میں کتنا نام بنا چکا ہے۔ ہمارے ساتھ وجود میں آنے والے بھارت کے درجنوں برانڈز انٹرنیشنل لیول پہ مشہور ہیں۔ ٹاٹا موٹرز جیگوار اور لینڈ روور کی مالک بن چکی ہے۔ رائل انفلیڈ عرف بلٹ موٹر بائیک دنیا بھر میں بھارت کی پہچان ہے۔
کرنل باسمتی چاول پاکستانی چاول ہے لیکن دنیا بھر میں اسے انڈین چاول کے نام سے پہچانا جاتا ہے حتیٰ کہ بھارت نے عالمی عدالت میں کیس کر کے کرنل باسمتی کے حقوق پکے پکے حاصل کر لیے۔ پنک سالٹ گلابی نمک ہماری کھیوڑہ کی کان سے نکلتا ہے مگر بھارت اسے ہمالین سالٹ کے نام سے دنیا بھر میں مہنگے داموں فروخت کرتا ہے۔
بھارتی وزیراعظم مودی کا اک خطاب سنا وہ کسانوں کو پروڈکٹ کی ویلیو ایڈنگ سمجھا رہا تھا کہ کچا آم بیچو گے تو صرف کچا آم رہے گا اسے کاٹ کر چاٹ مصالحہ ڈال کر بیچو گے تو زیادہ پیسے دے گا اگر ابال کر یا بھون کر شربت بنا کر بیچو کے اور ویلیو بڑھ جائے گی اور اگر اس کا اچار بنا کر بیچو گے تو مزید مہنگا بکے گا۔ ادھر ہمارے ہاں سیزن کا ہر فروٹ ٹکے ٹوکری ہو کر ضائع ہو جاتا ہے۔ پاکستان آم ٹماٹر خوبانی کینو تربوز بے بہا پیدا کرتا ہے پر افسوس میکنزم نہ ہونے کی بدولت بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔
ہمارا تعلیمی نظام ناقص ہے زرعی ملک ہے زرعی یونیورسٹیاں ہیں تحقیق ہوتی ہے لیکن ہم انہی روایتی فصلات کے پیچھے پڑے ہیں ہمارا ہمسایہ چین زرعی انقلاب لا چکا ہے ہائبرڈ قسم کے بیج اور پودوں نے روایتی زراعت کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ اک ایکڑ میں وہ ریکارڈ پیداوار اٹھاتے ہیں پھلوں کا حجم رنگ ذائقہ تک بدل دیا ہے۔ ہمارے ہاں اک مافیا ہے جو ایسے بیچ پودے پاکستان میں نہیں لانے دیتا کہ زرعی ادویات کی مارکیٹ کو تو چلانا ہے امریکن سنڈی گلابی سنڈی کراٹے جوڈو مارشل آرٹس قسم کی زہر آلود فصلات کے گھن چکر سے نہیں نکلنے دینا اس ملک کو۔
روس میں اک پھولدار پودا اگتا ہے جس کے پھولوں اور پتوں سے خوش ذائقہ اور خوشبودار قہوہ بنتا ہے جو جسمانی صحت کے لیے بہت مفید ہے ہمارے اک دوست کے ذریعے اس کے بیج کے چند ساشے منگوائے۔ جب وصول کرنے گئے تو ایسا محسوس ہوا جیسے ہم نے ایٹم بم بنانے کا نسخہ منگا لیا ہو دس طرح کے این او سی اور محکمہ دفاع سے لے کر محکمہ داخلہ تک کے اجازت نامے درکار تھے تنگ آ کر ہم نے ان بیجوں والے ساشوں پہ ہی فاتحہ پڑھ لی۔
دنیا بھر میں سب سے بڑی مارکیٹ فوڈ کی ہے فروزن گوشت دودھ دودھ سے بنی ڈیری پروڈکٹس اناج پھل مصالحہ جات کیا کچھ ہے جو ہم ایکسپورٹ کر سکتے ہیں مگر افسوس ہمیں کوئی ادارہ کوئی نصاب کوئی یونیورسٹی کوئی کالج اس قسم کی معلومات فراہم نہیں کرتا۔ مقامی ثقافت کو لے لیں دستکاری کو لے لیں مٹی کے برتنوں سے لے کر سلائی کڑھائی والے کرتوں تک کتنا کچھ ہے جسے ہم اپنے پاکستانی پہچان کے فخر کے ساتھ دنیا کو بیچ سکتے ہیں مگر یہاں بھی مافیاز ہیں جو یہاں سے اونے پونے داموں مال خرید کر باہر ملکوں میں مہنگے داموں بیچتے ہیں ان کی مناپلی ہے اور ہمارے ادارے ہمارے افسران انہی کو چھتر چھایا فراہم کرتے ہیں۔
ہمسایہ ممالک کی بیوروکریسی ان معاملات کو دیکھتی ہے۔ وہ کام کرتے ہیں ان کا کام نظر آتا ہے وہ پالیسیاں بناتے ہیں محنت کرتے ہیں اس پہ عمل کرتے ہیں منصوبے بناتے ہیں اور چھوٹے لیول پہ لوگوں کو ایکسپورٹ کی طرف راغب کرتے ہیں۔ وہاں اگر کوئی شخص اپنی پروڈکٹ ایکسپورٹ کرنا چاہتا ہے تو ادارے ساری پیچیدگیاں ساری سر دردی اپنے سر لے لیتے ہیں انتہائی آسان قوانین انتہائی سادے طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لا کر ایکسپورٹر کے لیے سہولت کار بن جاتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں ایکسپورٹر کے لیے یا تو بہت پہنچ والا یا بہت پیسے والا ہونا ضروری ہے ورنہ آپ کا منصوبہ آپ کی پروڈکٹ کاغذوں کے پلندوں اور فائیلوں کے بوجھ تلے دب جائے گی۔
پاکستان کے پاس لے دے کر کرکٹ بیٹ اور فٹ بال نامی صنعت ہے جو میڈ ان پاکستان نہیں بلکہ پروڈکٹ بائی ایڈی ڈاس کے نام سے دنیا میں فروخت ہوتی ہے۔ ٹیکسٹائیل کی صنعت آلات جراحی کی صنعت کو ہم نے مہنگے بجلی کے بلوں اور را میٹیریل امپورٹ پابندیوں کی نظر کر دیا ہے۔
پھر ہمسایہ ممالک بنگلہ دیش چین بھارت وغیرہ کے سیاستدان ویژن رکھتے ہیں ان کو دنیا میں مارکیٹ اور بازار نظر آتا ہے جبکہ ہمارے سیاستدان لکیر کے فقیر۔ بیوروکریسی نے جو بتا دیا اس پہ ایمان لے آئے۔ وہاں بیوروکریسی کام کو عبادت سمجھتی ہے۔ وہاں ہر شعبے کے افسر کارکردگی دکھاتے ہیں اک ہی شعبے میں زندگیاں بتا دیتے ہیں جبکہ یہاں تین ماہ کمشنر لگنے کے بعد تین ماہ ہیلتھ کا شعبہ سنبھالیں گے اگلے تین ماہ کامرس میں ٹرانسفر ہو گا اگلے تین ماہ مواصلات میں۔
ایسے میں کیا کام دیں گے وہ۔ بی اے کرو سال دو کمرے میں مقید رہ کر انگریزی سیکھو اور کالے انگریز بن کر ایکڑوں پہ محیط بنگلوں میں لمبی گاڑیوں ہوٹرز پروٹوکول ہٹو بچو کی صداؤں میں صاحب بہادر بن کر ملک اور ملکی وسائیل کو جی بھر کر لوٹ کر سرمایہ اور فیملی بیرون ملک سیٹل کرو اور ریٹائرمنٹ کے بعد ٹھنڈے ممالک کو نکل لو اور شام کی واک پہ ملکی مسائل پہ بھاشن دو۔
ہمسایہ ممالک کے بیوروکریٹ اور سفیر اپنے ملک کے لیے دنیا بھر میں راہیں کھولتے ہیں، نئے نئے آئیڈیاز پہ انویسٹ کرتے ہیں۔ بھارت آئے روز نت نئی انوینشن پیٹنٹ کرا رہا ہے۔ کہیں چار سو انوینشن کے ساتھ بھارتی استاد گینیز بک میں نام درج کرا رہا ہے کہیں یونیورسٹی سٹوڈنٹ ایپ بنا کر عالمی شہرت سمیٹ رہا ہے کوئی صاف ستھرا گاؤں کا ریکارڈ اپنے نام کر رہا ہے کوئی شہد کی صنعت میں انقلاب لا رہا ہے کوئی سیپیوں کو پال کر موتی بنا رہا ہے کوئی لاکھوں درخت اگا کر ورلڈ فورم پہ خطاب کر رہا ہے تو کوئی ساحل سمندر کو صاف کرنے پہ سراہا جا رہا ہے۔
پلاسٹک سے سڑکیں بنائی جا رہی ہے اور کچرے سے بجلی۔ گرم پانی سے میگا کچن چلائے جا رہے ہیں اور ریلوے کے نظام کو جدت سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔ وہاں کی پولیس دنیا میں الگ پہچان بنا رہی ہے تو وہاں کے قوانین بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں کے افسران سیاستدانوں سفیروں نے خود کو اے سی آفسز میں مقید کر رکھا ہے۔ پبلک سرونٹ ہو کر پبلک کو سرونٹ سمجھتے ہیں۔


