قومی دلیری بمقابلہ ذاتی دلیری
سعدی ہند منشی پریم چند (مرحوم) کا شہرہ آفاق افسانہ ”شطرنج کی بازی“ یقیناً بے مثال تحریر ہے لیکن ایک فقرہ آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ مگر ٹھہریئے! پہلے اپنے نوجوان قارئین کے لئے میں اس افسانے کا تھوڑا سا پس منظر بیان کردوں۔
واجد شاہی دور اختتام پذیر ہے اور لکھنؤ پر انگریزوں کا قبضہ ہوا چاہتا ہے۔ مرکزی کردار مرزا سجاد علی اور میر روشن اس دور کے روایتی شرفاء ہیں جو فضول کھیل تماشوں خصوصاً شطرنج کے کھیل میں اپنا وقت عزیز صرف کرتے ہیں۔ ان کے اردگرد جو کچھ ہو رہا ہے۔ اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں (آپ بالکل ٹھیک سمجھے میں افسانے کے کرداروں کو پی ٹی آئی، پی ڈی ایم اور دیگر ادارہ جاتی کھلاڑیوں سے تشبیہ دے رہا ہوں ) ۔ شطرنج کی بازی میں اتنے مگن ہیں کہ انگریز افواج کی آمد پر اپنی بازی اٹھا دور ویرانے میں نکل جاتے ہیں تاکہ کوئی کھیل میں مخل نہ ہو۔ آپس میں لڑائی ہوتی ہے اور ایک دوسرے سے لڑتے لڑتے دونوں مر جاتے ہیں۔ لڑائی شروع ہونے سے پہلے کی کیفیت منشی (مرحوم) نے اپنے اس لازوال فقرے میں سمو دی ہے۔ کرداروں کا حوالہ دیتے ہوئے منشی صاحب لکھتے ہیں ’قومی دلیری ان میں عنقا تھی مگر ذاتی دلیری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی‘ ۔
اب ذرا موجودہ سیاسی منظرنامے پر ایک نگاہ ڈالئے۔ شطرنج کی بساط بچھی ہے اور ہمارے قومی کھلاڑی اپنی اپنی چال چلنے میں ایسے ہی مگن ہیں جیسے پریم چند کے کردار۔ ڈنڈے والے ڈنڈا لہرا رہے ہیں کہ خبردار دیکھنا کہیں تمہارے ہی سر پر نا آن پڑے۔ ترازو والے اس بات پر مصر ہیں کہ ہمارے برف کے باٹ ہی مئی کی اس چلچلاتی دھوپ میں پورا تولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آئین کے خالق گروہ کے حالات بہت پتلے ہیں کبھی ڈنڈے کو چومتے ہیں اور کبھی عین ترازو کے نیچے ٹرک پارکنگ کے لئے جگہ ڈھونڈنے میں لگ جاتے ہیں۔ بابو لوگ کرسی کو سلام کرنے کے عادی ہیں۔ قلم کے مزدوروں کے پاس قلم کی حرمت بیچنے کے سوا رکھا ہی کیا ہے۔ سو بیچتے ہیں۔ یعنی فارسی پڑھ کر تیل بیچ رہے ہیں۔
ڈیفالٹ کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے لیکن سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔ پی ٹی آئی نے اگر ملک میں ہنگامہ برپا کیے رکھا، قومی اثاثوں کو نذرآتش کیا وغیرہ وغیرہ تو ہم کیوں پیچھے رہیں۔ عین عدالت عظمیٰ کے سامنے جلسہ کریں گے اور اپنا زور بازو دکھائیں گے۔ پیچھے نہ رہ جائیں۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ ملک خدانخواستہ ڈوبتا ہے تو ڈوبا کرے۔ ہماری چال کی چستی میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔ بلا سے اگر خاکم بدہن بساط ہی لپٹنے کی نوبت کیوں نہ آ جائے۔ آئین کی تشریح ہم سے بہتر کون کر سکتا ہے۔ ایسی کریں گے کہ دن میں تارے نہ نظر آئے تو نام بدل دینا۔
لونڈوں لپاڑوں کو نیا نیا شعور آیا ہے یا دلوایا گیا ہے، جو بھی ہے، لیکن پوری قوم کو یقین کیجئے مزہ آ گیا۔ چھٹی کا دودھ یاد آ گیا۔ کچھ اور کھلا یا نہ کھلا ہمارے تعلیمی نظام کی قلعی اتر گئی۔ اتنی آسانی سے اور مشتقاتی پراپیگنڈے کے زور پر پڑے لکھے طبقے کو بھی بیوقوف بنایا جاسکتا ہے؟ کیوں نہیں؟ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ باقی اگر اور لیکن بہت سے ہیں مگر ایک چیز یقیناً ثابت ہو گئی۔ کیا؟ یہی کہ قومی دلیری ہم میں عنقا ہے مگر ذاتی دلیری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔


