تعلیمی نظام اور بچارے سٹوڈنٹس


تعلیم ہر معاشرے کی اولین ترجیح بھی ہے اور ضرورت بھی، بچہ پیدا ہوتے ہی ماں باپ کو فکر لاحق ہوجاتی ہے کہ اسے اچھی تعلیم دلوانی ہے اور اچھے سے اچھے اور مہنگے سے مہنگے ادارے میں داخل کروانا ہے تاکہ یہ معاشرے میں لائق طالب علم کا لیبل لے کر گھومے، خواہ اس کی تربیت کہیں دور چلی جائے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تعلیمی نظام میں بہتری ایک اچھے اور سلجھے ہوئے معاشرے کی تشکیل ہے۔ ترقی یافتہ ممالک صرف تعلیم کی بدولت ہیں۔ بات یہاں نظام تعلیم کی ہے اگر کسی ملک کا تعلیمی نظام بہترین ہے تو وہ ملک یقیناً ترقی کی راہ پر ہموار ہے۔ اسی طرح اگر کسی ملک میں تعلیمی نظام پسماندگی کا شکار ہے تو وہ ملک یقیناً کسی دلدل میں پھنس گیا ہے۔

پاکستان میں تعلیم کا نظام بہتر بنانے کے لیے بہت سے حکومتی سطح پر اقدامات کیے جاتے ہیں مگر ان کا دورانیہ ایک تو بہت مختصر ہوتا ہے اور دوسرا اس میں پائیداری نہیں ہوتی۔ ہر ملک کا تعلیمی پالیسی بنانے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے مگر پاکستان میں رات و رات پالیسیاں بنائی جاتی جس کو تشکیل دینے والے لوگ ایجوکیشنل فیلڈ کے ماہرین بھی نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کا تعلق کسی خاص ایجوکیشنل ادارے سے ہوتا ہے۔ ان کے پاس صرف ایک عہدہ ہوتا ہے۔ ان سب کے ناقص تجربات کا خمیازہ طالب علموں کو اور اساتذہ اکرام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں تعلیمی نصاب اتنا غیر ضروری ہوتا ہے کہ سٹوڈنٹس اس کو جنرلائز نہیں کر پاتے۔ ان کا انٹرسٹ ڈیویلپ نہیں ہو پاتا جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں تعلیم کا خوف بیٹھ جاتا ہے۔ تعلیم سے دور بھاگتے ہیں اور غیر ضروری سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پھر والدین اور معاشرے کی طرف سے آنے والا ردعمل الگ سے ان کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے اور وہ معاشرے میں خودسر گھومتے ہیں۔

ایسے میں اگر والدین ڈانٹ ڈپٹ کر انہیں تعلیم دلوا بھی دیں تو کیا وہ تربیت یافتہ کہلائیں گے؟

ہمارے ہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بچے کو شروع سے بتایا جاتا ہے کہ اچھی زندگی گزارنے کے لئے ڈاکٹر اور انجینئر بننا ضروری ہے اور اگر نہیں بنو گے تو تم معاشرے میں بہت نکمے اور پھوہڑ جانے جاؤ گے۔ ان باتوں کی وجہ سے بچہ اپنی حقیقی صلاحیت کھو دیتا ہے جو کہ اللہ نے اسے عطاء کی ہوتی ہے۔ کوئی اچھا لکھاری ہے۔ کوئی اچھا پینٹر ہے تو کوئی اچھا کھلاڑی ان سب کے دباؤ کی وجہ سے وہ اس راستے کا تعاقب کرنے لگ جاتا ہے جس کا وہ مسافر نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کے ایک طرف ناقص تعلیمی نصاب اور دوسری جانب والدین کا زبردستی والا مستقبل جس کی چکی میں لاکھوں بچے پستے ہیں۔ تعلیمی نظام کے۔

ٹھیکے داروں کی بات تو بعد میں آتی ہے سب سے پہلے والدین کو چاہیے کہ اپنے پچوں کی خواہش کا احترام کریں اور انہیں اس بات پر توجہ مرکوز کروائیں کے ہر قسم کی تعلیم ان کے لئے بہترین ہے۔ بچہ چاہے وہ ڈاکٹر بنے، انجینئر بنے، پینٹر بنے، لکھاری بنے، ٹیچر بنے یا کوئی افسر ہر حال میں وہ اس ملک اور قوم کا خیر خواہ ہونا چاہیے اور اپنے ملک سے وفاداری کرنا، معاشرے کے لوگوں کا خیال کرنا، اس کی بہتری کے لیے اچھے اقدامات کرنا، آسانیاں پیدا کرنا، ملک کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا، اور ان عظیم لوگوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا جن کی بدولت ہم آزادی جیسی نعمت سے نوازے گئے۔ یہی ہماری تعلیم بھی ہے اور تربیت بھی۔

 

Facebook Comments HS