1967 کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ (4)


پاکستانی پائلٹس کی اردن میں موجودگی

ستمبر 1965 ء کی جنگ میں ایک ہندوستانی فضائیہ کے نیٹ کو گرانے والے اس وقت کے پاکستانی سیف الاعظم کو ڈیپیوٹیشن پر نومبر 1966 میں اردن کے پائلٹوں کو تربیت دینے اور مشاورت کے لئے بھیجا گیا تھا، ان کی وہاں رہائش کے دوران ہی 1967 ء کی جنگ چھڑ گئی، سیف الا اعظم نے دیگر پاکستانی پائلٹس کے ساتھ اپنی خدمات اپنے بھائیوں کو دینے کا رضاکارانہ فیصلہ کیا، اردن شاہی فضائیہ کے کمانڈرز کے ساتھ یہ بھی طے ہوا، کہ وہ اردن کے ائر فورس کے یونیفارم میں ہی یہ خدمات انجام دیں گے، پاک فضائیہ کی قیادت کی جانب سے بھی اپنے پائلٹس کے لئے جنگ میں شرکت کی کلیرنس مل چکی تھی، یہ بھی طے ہوا پاکستانی پائلٹ اسرائیل کی حدود میں داخل ہو کر حملہ نہیں کر سکتے تھے لیکن وہ جہاں تعینات تھے اس کے دفاع میں انھوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، پہلی کسی اسرائیلی لڑاکا جیٹ کو گرانے کا اعزاز حاصل کیا، قصہ ائر کموڈور قیصر طفیل کی کتاب Great Air Battels of Pakistan Air Force میں درج ہے صفحہ نمبر 66 پر اس ابتدائی فتح کی روداد موجود ہے پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے، لیکن میں عرب نیوز کی خبر (لنک) کی بات کروں گا، پانچ جون 1967، دوپہر 12 : 48 منٹ پر چار اسرائیلی حملہ آور طیارے مفرق ائر بیس کی جانب جا رہے تھے، صبح سے اپنے جہاز میں سیٹ بیلٹ باندھے سیف الاعظم نے اسکریمبل کا سائرن سنا اور اپنے ونگ مین احسان شردم کے ہمراہ پرواز کر گئے، ان کے بعد مزید چھ ہاکر ہنٹر بھی پرواز کے لیے بلند ہوئے، سیف نے اپنے ونگ مین کو ساتھ رہنے کی ہدایت کی، صحرا میں گرد کی وجہ سے دیکھنے میں مشکل کا سامنا تھا، سیف نے واپسی کا قصد کیا، مڑے ہی تھے کے بیس پر چار حملہ آور طیارے نظر آ گئے، جو جنگی ترتیب میں ائر بیس کی جانب پرواز کر رہے تھے، یہ اسرائیلی سپر مسٹیئر تھے، جس میں ایک نے جیسے حملے کے لئے پینترا بدلہ سیف الاعظم کے ہنٹر کی تیس ملی میٹر گن کی زد میں آ گیا، سیف نے جہاز کے پھٹنے سے پہلے ہی تعاقب چھوڑ دیا کہیں گرتے ہوئے جہاز کے ملبے سے نقصان ہی نہ ہو جائے، اسی مشن کے دوران سیف نے ایک اور مسٹیئر کو نشانہ بنایا، ایندھن کی کمی کی وجہ سے سیف نے مزید کاروائی کا ارادہ ترک کیا اور لیکن ابھی کیوں کہ حملہ جاری تھا تو امان انٹر نیشنل ائر پورٹ کی جانب رخ مڑوا دیا گیا، جو کچھ ہی دیر میں اگلے اسرائیلی حملے کی زد میں آ گیا جس میں اسرائیلی مسٹیئر طیاروں نے مخصوص راکٹس کا استعمال کیا اور رن وے خراب کر دیا، اردن کی واحد برطانوی ساختہ ہاکر ہنٹر طیاروں کی اسکواڈرن کی لڑائی کا انجام ہو گیا، مزید تفصیلات بھی دلچسپ ہیں، لیکن وہ مختصر بلاگ میں شامل کرنا ممکن نہیں ہو گا، سیف الا اعظم کے حوالے سے کسی مخصوص بلاگ تک کے لئے ادھار رکھنا مناسب ہو گا۔ اس دن کے بعد سیف العظم عراق چلے گئے، جہاں سے جنگ میں شامل رہے اور مزید کامیابیاں حاصل کیں، جس میں اسرائیلی فضائی قوت کی دہشت میراج۔ تھری گرا کر ایک انوکھا کارنامہ انجام دیا۔ بعض مغربی اشاعت میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اردن کے تمام تر ہنٹر طیارے اس جنگ میں تباہ ہو گئے تھے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔

تصویر کیپشن ؛ عرب اسرائیل جنگ میں اردن کے فضائی دفاع میں نمایاں خدمات انجام دینے والے سیف الاعظم، اپنے اردن میں اپنے ایک رفیق پائلٹ کے ہمراہ ایک یادگار تصویر ونگ کمانڈر حسینی کی پینٹنگز کا عکس جو سیف الاعظم کے 67 ء کی عرب اسرائیل جنگ میں کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔

زمینی جنگ میں برتری

جنوب مغربی محاذ پر اسرائیل نے فضائی برتری کے حصول کے بعد اپنی زمینی افواج کی مدد سے سینائی کے صحرا میں مصری فوج کو مشکل میں ڈال دیا، صحرائے سینا پر مکمل قبضہ ان کے اہدف میں شامل تھا، مصر کے لئے اس کی اسٹریجک اہمیت کافی تھی، دوسری جانب اسرائیل کے لئے اس جنگ میں اپنی مرضی کی شرائط مسلط کرنے کے لئے اس کی اہمیت کافی تھی، جیسا کہ سینائی پر قبضے کے بعد نہر سوئز ناقابل استعمال ہو گئی اور باقی علاقے بھی خطرے میں پڑ گئے۔ چھ روزہ جنگ میں مشرقی محاذ پر اسرائیل کا سامنا شام، لبنان، اردن اور عراقی افواج سے تھا، دیگر ممالک کے کے دستے اس کے علاوہ تھے، چند ایک انفرادی کارناموں کہ مکمل طور پر اسرائیل کی برتری پر ختم ہوئی۔

سات جون کو غزہ پر اسرائیلی افواج قابض ہو گئیں۔ سات جون کو اسرائیلی افواج نے میٹلا پاس پر بھی قبضہ کر لیا، جنرل شیرون اس قبل 1956 ء نہر سوئز کی جنگ میں بھی یہاں اپنے یونٹ 202 چھاتہ بردار دستوں کی مدد سے قابض ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے، اس بار بھی شیرون اس میدان میں کامیاب رہے۔ سات جون کو اسرائیلی بحریہ کی مدد سے سینائی کی انتہائی جنوب میں شرم الشیخ پر بھی اسرائیلی افواج قابض ہو گئیں۔

پانچویں دن یعنی 9 تاریخ کو اسرائیلی افواج سوئز کنال کے کنارے پر پہنچ گئیں، چھٹے دن شامی افواج مزید جنگ کرنے سے رک گئیں۔

ریفرنسز:
https://www.arabnews.pk/node/1691316/world
https://english.alarabiya.net/articles/2012%2F08%2F01%2F229723

Facebook Comments HS