لوئر دیر میں جلاؤ گھیراؤ میڈیا سے اوجھل رہا
اپ کے علم میں ہے کہ کس طرح 9 مئی کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا۔ لاہور اور پشاور کے حوالے سے میڈیا میں بات کی گئی لیکن بدقسمتی سے ہمیشہ کی طرح ہمارا ضلع لوئر دیر جو سب سے زیادہ متاثر ہوا میڈیا میں نظر انداز رہا۔ ہماری مزید بدقسمتی دیکھیے کہ ہمارے لوگ پورے ملک میں سب سے زیادہ پرتشدد تھے، یہاں ہمارے پڑوس سوات میں بھی احتجاج ہوا لیکن کوئی جلاؤ گھیراؤ نہیں کیا گیا۔ مالاکنڈ میں بھی فوجی عمارتیں ہیں لیکن وہاں کے شرپسندوں نے بھی یہاں دیر کا رخ کیا۔ اپر دیر اور چترال والے بھی مجموعی طور پر امن رہیں۔
لیکن چکدرہ سے چند قدم کے فاصلے پر واقع سوات موٹر وے کا خوبصورت انٹر چینج آتش فشاں کا منظر پیش کر رہا تھا جب وہاں پر ٹول پلازہ کو توڑ پھوڑ کے بعد نذر آتش کر دیا گیا۔ جہاں اب صرف راکھ کا ایک ڈھیر موجود ہے۔ تیمرگرہ میں واقع ایف سی سکول کو مکمل طور پر جلایا گیا۔ سکول کے فرنیچر سمیت کافی سامان مظاہرین اپنے ساتھ گھروں کو لے گئے۔ سکاوٹس چھاؤنی تیمرگرہ کو اگ لگا دی گئی۔ وہاں گیٹ پر پی ٹی آئی کا پرچم لگا کر قابض ہونے کا جشن منایا گیا۔ یہاں بھی بس نہیں کی گئی بلکہ غصے میں پاگل ان مظاہرین نے گیٹ پر نصب توپ کو اکھاڑ کر دریا برد کر دیا۔
اس کے علاوہ چکدرہ میں برطانوی راج 1896 میں قائم فوجی چھاؤنی کو بھی جلایا گیا۔ 50 سے زائد کمرے نذر آتش کیے گئے۔ مسجد اور ہسپتال کو بھی نہیں بخشا گیا۔ متعدد گاڑیوں کو راکھ کیا گیا۔ یہ سب بجا طور پر قابل قبول نہیں تھا لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ انتہائی شرمناک، افسوس ناک اور حساس بات ہے۔
وہ یہ ہے کہ چھاؤنی پر دھاوا بولنے اور آگ لگانے کے بعد چھاؤنی میں موجود تمام دیگر سامان بشمول ایک بڑی تعداد میں خطرناک اسلحہ اور کارتوس بھی پی ٹی آئی کے مظاہرین اپنے ساتھ لے گئے۔ جس میں LMG اور G۔ 3 وغیرہ شامل ہے۔
جس کی ریکوری کے لیے باقاعدہ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ مساجد میں اعلانات کیے گئے کہ اسلحہ واپس جمع کرا دیا جائے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پیغامات چلائے گئے۔ کچھ لوگوں سے تو ریکوری کر لی گئی ہے۔ جس کے بعد یہاں کے ایم این اے محبوب شاہ اپنے کارکنان کو وٹس ایپ کے ذریعے بتا رہے ہیں کہ اسلحہ واپس کر دیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو سے یہ بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ جلاؤ گھیراؤ کا یہ سارا عمل یہاں کے ایم پی اے ہمایوں خان کی موجودگی میں کیا گیا۔ حملے سے پہلے ایک ویڈیو میں وہ اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ ہم چھاؤنی کا رخ کریں گے۔ اس سارے معاملے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس دن یہاں آگ لگانے کے بعد فائرنگ کی گئی۔ جس کے نتیجے میں ایک پی ٹی آئی کا کارکن جاں بحق اور درجن کے قریب زخمی ہوئے۔
باقی ملک کی طرح یہاں بھی پکڑ دھکڑ جاری ہے۔ ایم این اے، ایم پی اے اور سرکردہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین کی فہرستیں مرتب کی گئی ہے جن کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ جو لوگ کسی بھی طرح اس شدت پسندی میں ملوث ہیں ان کے خلاف تو قانون کے مطابق سزا ہونی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پکڑ دھکڑ میں ان لوگوں کے بھی نام سامنے آ رہے ہیں جو اس وقت موجود نہیں تھے جو کہ قابل مذمت ہے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کی لوکل قیادت اب ان کارکنان کو اون کرنے اور ان کی قانونی معاونت کرنے کے بجائے ان سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں جو کہ کوئی ٹھیک روش نہیں۔


