جمنا داس اختر؛ اردو صحافت کا ایک ناقابل فراموش کردار!
گزشتہ برس اردو صحافت اپنے دو سو برس مکمل کر چکی ہے۔ اس سلسلے میں کلکتہ سمیت ہندوستان اور پاکستان کے بہت سے شہروں میں اردو صحافت کو باقاعدہ جشن کی صورت میں منایا گیا۔ دو سو برس پہلے اردو صحافت کی ابتدا کے وقت ہمارا جغرافیائی محل وقوع آج کی طرح منتشر نہیں تھا اور نہ ہی زبان کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان مذہبی نفرت کی سنگلاخ دیواریں حائل تھیں بلکہ کسی حد تک وہ زمانہ آپسی محبت و یگانگت کا تھا اور اردو مسلمانوں کی طرح ہندوؤں کو بھی عزیز تھی۔
سن 1822 میں کلکتہ سے جب اردو کا پہلا اخبار ”جام جہاں نما“ کی اشاعت کا آغاز ہوا تو اس اخبار کے ناشر اور ایڈیٹر دونوں ہی غیر مسلم تھے۔ پھر بتدریج زمانے نے پلٹا کھایا، آہستہ آہستہ برصغیر میں برطانوی سامراج کا تسلط مضبوط ہوتا گیا اور غدر کے بعد ایک منظم منصوبے کے تحت ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان زبان کے نام پر جس تفریق کی داغ بیل ڈالی گئی تھی وہ آنے والے برسوں میں تناور درخت کی مانند ہمارے آس پاس پھیل گئی۔
بدقسمتی سے فرقہ وارانہ سیاست کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کے المناک سانحے کے بعد بھی سرحدوں کے دونوں اطراف نفرتوں اور تعصبات کی جو فصلیں کاشت کی گئیں تھیں وہ آج 75 برس گزرنے کے بعد بھی ہمارے چاروں اور لہلہا رہی ہیں۔ افسوس کہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت اگلنا اب ہمارے قومی فرائض میں شامل ہو چکا ہے اور اس دوران ہم یہ بھی فراموش کر چکے ہیں کہ مختلف مذہبی عقائد پر کاربند رہنے کے باوجود بحیثیت انسان ہم ایک تھے۔
اسی لیے تو فن و ثقافت اور علم و ادب میں ہمارے لوگوں کی گرانقدر تخلیقات کسی خاص مذہبی کمیونٹی کے لیے نہیں تھیں۔ ہماری مشترکہ تاریخ میں کتنے ہی انگنت نام ہیں جنہوں نے عوام کو تقسیم کرنے کے خلاف اپنے قلم کا استعمال کیا۔ آہستہ آہستہ نفرت کی سیاست میں جب بے گناہ شہریوں کا خون گلی محلوں اور چوراہوں پر بہایا جانے لگا اور دنگے فسادات روز کا معمول بن گئے تو یہ ہمارے تخلیق کار ہی تھے جنہوں نے کھل کر ان سانحات کے خلاف لکھا تھا اور مکمل جانبداری کا ثبوت دیتے ہوئے ہمارے ادیبوں اور صحافیوں نے اپنے قلم سے مورچے سنبھال لیے تھے۔
ایسے ہی بے باک اور نڈر صحافیوں میں جناب جمنا داس اختر بھی شامل تھے۔ تقسیم کے وقت یہ لاہور میں ایک اخبار کی ادارت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ انہوں نے بلوائیوں کے ہاتھوں لاہور شہر کے مختلف محلوں کو لٹتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ گلیوں اور گھروں میں کٹے ہوئے انسانی جسم اور جابجا نظر آتے ہوئے انسانی خون کے دھبے دیکھ کر کوئی بھی شخص انتقام کی آگ میں کود سکتا تھا لیکن یہ جمنا داس صاحب کا انسانیت پر پختہ یقین اور عزم و حوصلہ ہی تھا جس کی بنا پر وہ اپنے اردگرد پیش آنے والے دہشتناک واقعات کو رقم کرتے رہے۔
مارچ سے اگست تک کا وہ زمانہ لاہور پر قہر بن کر نازل ہوا تھا۔ کوئی بھی محفوظ نہیں تھا۔ ان دنوں آپ ”روزنامہ جے ہند“ سے وابستہ تھے۔ انہوں نے مشکل کی ان گھڑیوں میں اپنے قلم کو اور بھی زیادہ مضبوطی سے تھام لیا اور عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کا کٹھن کام خوش اسلوبی سے نبھایا۔ وہ روزانہ ان خون آشام واقعات پر مبنی اپنی ڈائری بھی قلم بند کرتے رہے۔ آپ کرشن نگر میں رہائش پذیر تھے اور قریب ہی رام نگر کا علاقہ تھا جہاں پر جناب جگن ناتھ صاحب کی رہائش گاہ تھی۔
بدقسمتی سے آخر وہ گھڑی بھی آن پہنچی جب آپ دونوں اپنے ہی شہر میں بے گھر ہو چکے تھے اور پھر ہزاروں دوسرے لوگوں کی طرح لٹے پٹے قافلوں کے ساتھ ہندوستان پہنچے۔ تقسیم کے بعد جب آپ دہلی چلے گئے تو وہیں سے ”اور خدا دیکھتا رہا“ کے عنوان سے وہ ڈائری شائع ہوئی۔ اس حوالے سے وشوا ناتھ طاؤس اپنے ایک طویل مضمون بعنوان ”اختر صاحب اور روزنامہ جے ہند“ میں لکھتے ہیں کہ
”حصول آزادی کے بعد اختر صاحب کی یہ واقعاتی ڈائری دلی سے“ اور خدا دیکھتا رہا ”کے نام سے شائع ہوئی۔ خون دل میں انگلیاں ڈبو کر لکھی گئی یہ ڈائری پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اخبار“ جے ہند ”کے ایک رکن رام لال جان بچانے کی غرض سے لاہور سے اپنے آبائی شہر گورداس پور کی طرف گئے تو وہاں موت کے سوداگروں نے انہیں گھیر لیا اور بے دردی سے قتل کر دیا۔ ڈائری میں ان کے سفاکانہ قتل کا واقعہ درج ہے۔ آج بھی اگر کسی قلم کار نے لاہور کے فسادات کا دیباچہ لکھنا ہو تو اختر صاحب کی کتاب“ اور خدا دیکھتا رہا ”اس کے لیے ماخذ بن سکتی ہے“
تقسیم ہند سے قبل پروفیسر جگن ناتھ آزاد ”روزنامہ جے ہند“ میں تقریباً ایک سال سے زیادہ عرصے تک جمنا داس اختر کی سرپرستی میں اسسٹنٹ کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے۔ جمنا داس کی صحافت کے پیشے سے سچی لگن اور ہر قسم کے حالات میں درست خبروں کی اشاعت کے حوالے سے ان پر آشوب دنوں کے بارے میں جگن ناتھ صاحب لکھتے ہیں کہ
”ابھی پاکستان بننے میں کچھ مدت باقی تھی کہ لاہور کے اردگرد فسادات شروع ہو گئے۔ اختر صاحب نے مجھ سے کہا کہ صحیح خبریں اخبارات میں نہیں چھپ رہی ہیں، میں چاہتا ہوں کہ تم اور میں لاہور سے باہر نکل کے صورتحال کا جائزہ لیں اور صحیح خبریں“ جے ہند ”کو بھیجیں۔ میں نے ان کی رائے کے ساتھ اتفاق کیا۔ چنانچہ ہم جان ہتھیلی پر رکھ کر لاہور سے نکلے اور مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے شاید گجرات یا لالہ موسیٰ تک جا پہنچے۔ لیکن حالات اتنے خطرناک تھے کہ دو تین دن میں ہم اپنی جان بچا کر واپس آ گئے۔ پاکستان بنتے ہی لاہور میں بلکہ سارے ملک میں ہندوؤں کے اخبارات کے دفتر بند ہو گئے اور اخبارات کے مالکوں اور ملازموں نے بے سروسامانی کے عالم میں ہندوستان کے مختلف شہروں کا رخ کیا۔ ہمیں اس افراتفری کے عالم میں ایک دوسرے کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ ہو سکا گویا:
نسبت نامہ دولت کیقباد
ورق بر ورق ہر سوئے برد باد! ”
جمنا داس اختر ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے اردو اور ہندی کے علاوہ پنجابی اور انگریزی زبان میں بھی بے تحاشا لکھا۔ پاکستان کی سیاست پر انگریزی زبان میں آپ کی تین قابل ذکر تصانیف
Political conspiracies In Pakistan
Pak Espionage In india
اور
The Saga of Bangladesh
شائع ہوئیں۔ آپ سیاست، ادب، تاریخ اور عصر حاضر کے موضوعات پر تیس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سماج میں پھیلی ہوئی کرپشن کے خلاف بھی آپ نے عملی طور پر حصہ لیا اور سمجھوتے کی سیاست سے آخری سانس تک دوری اختیار کیے رکھی۔ جمنا داس اختر کے ان ہی اوصاف کے بارے میں وجے چوپڑا اپنے ایک مختصر کالم میں لکھتے ہیں کہ
”سماجی اور ایڈمنسٹریٹیو لگاؤ کی وجہ سے شری جمنا داس تقریباً بیس برس تک آل انڈیا پوسٹ مین یونین کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔ 1967۔ 1968 میں پنجاب سروسز سلیکشن بورڈ کے چیئر مین بھی رہے اور 1990 میں پریس کونسل آف انڈیا کے ممبر بھی رہے۔ سدھانتوں سے انہوں نے کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ پنجاب سروسز سلیکشن بورڈ کے چیئر مین کے طور پر ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کر کے اپنے ساتھیوں اور نیتاؤں کی کرپشن کا بھانڈا پھوڑ دیا اور اس وقت کے گورنر کو خط لکھ کر بورڈ کو توڑ دیے جانے کی سفارش کر دی“
جمنا داس کی جنم بھومی راولپنڈی ہے۔ تقسیم کے سبب ہندوستان کوچ کرنے کے باوجود پاکستان سے آپ کا قلبی رشتہ برقرار رہا۔ انہوں نے 1948 سے 1990 کے دوران چار مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا۔ سن 1989 میں اپنی شادی کی گولڈن جوبلی منانے کے لیے آپ خصوصی طور پر لاہور تشریف لائے تھے۔ شادی کی گولڈن جوبلی کی اس تقریب کو باقاعدہ بارات کی طرح منایا گیا۔ اس وقت کے روزنامہ ”نوائے وقت“ کے چیف ایڈیٹر نے بارات کا شایان شان استقبال کر کے میاں بیوی اور باراتیوں کو دعوت طعام دی۔
بیگم محمد علی نے بہن بن کر جمنا داس کو سہرا باندھا اور پھر اگلے برس بیگم محمد علی کی بیٹی کی شادی میں جمنا داس نے ماموں کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔ آپ شروع دن سے ہی پاک و ہند کے درمیان دوستانہ روابط کے زبردست حامی تھے، اسی لیے آپ نے دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کی غرض سے ”انڈو پاک پریم سبھا“ بھی قائم کی تھی۔ سن 1947 کے فرقہ وارانہ خونی فسادات کے نتیجے میں آپ نے دہلی میں ہزاروں اغوا شدہ مسلمان لڑکیوں کو بازیافت کرایا اور ان ہی دنوں پاکستان کا دورہ کر کے لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد، جھنگ اور بندر کوٹ میں ہندو اور سکھ لڑکیوں کو بھی بازیافت کرایا تھا۔
ہندوستان میں شائع ہونے والے مختلف اخبارات میں لکھنے کے علاوہ کئی برس تک آپ کی تخلیقات پاکستان کے اخبارات جن میں روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ جنگ، ڈیلی نیوز اور میگ میں تسلسل کے ساتھ شائع ہوتی رہیں۔
گربچن چندن نے ”کتاب نما“ کے خصوصی شمارے کے لیے جمنا داس اختر کا ایک طویل انٹرویو کیا تھا۔ یہ انٹرویو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں انہوں نے تقسیم سے قبل 1930 اور 1940 کی دہائی کے برصغیر کی صحافت، سماجی و سیاسی منظر نامہ اور اس وقت کی اہم شخصیات کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی تھی۔ اس مضمون میں ہم اس انٹرویو کے کچھ اقتباسات اختصار کے ساتھ ذیل میں نقل کر رہے ہیں ؛
”بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ علامہ اقبال اور سوامی رام تیرتھ جگری دوست تھے۔ سوامی جی ویدانتی تھے اور علامہ اقبال ویدانت سے کافی متاثر ہوئے تھے۔ لاہور میں شاہ عالمی گیٹ کے باہر نزول کی زمین پر ہندوؤں اور مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔ راتوں رات ایک طرف مندر کی تعمیر ہو گئی اور دوسری طرف مسجد بن گئی۔ علامہ اقبال نے اسی سے متاثر ہو کر ایک نظم کہی تھی جس کے دو اشعار یہ تھے :
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں سے موہ لیتا ہے
کردار کا غازی بن تو گیا گفتار کا غازی بن نہ سکا
مسجد تو بنا لی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں سے نمازی بن نہ سکا
ڈاکٹر ٹیگور رنبیر کے سسر لالہ دھنی رام بھلہ کی دعوت پر لاہور تشریف آور ہوئے۔ دعوت میں علامہ اقبال کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر ٹیگور کو یہ بات معلوم ہوئی تو خود ان کی قیام گاہ پر ان سے ملنے کے لیے گئے۔ سترہ برس کی عمر میں ویدانت سے متاثر ہو کر یکسوئی کی حالت میں مجھے نہایت مسرت انگیز تجربہ ہوا تھا۔ میں نے لاہور جا کر علامہ اقبال سے اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا ”بیٹے! تم غلطی کر رہے ہو۔ ایسی باتوں کا ذکر کسی سے نہیں کرنا چاہیے“
لاہور میں جناح کی آمد کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ
”مسٹر جناح پہلی بار لاہور آئے۔ موچی گیٹ میں جلسہ منعقد ہوا۔ انہیں چاندی کی طشتری میں قرآن شریف پیش کیا گیا۔ کسی من چلے نے طشتری اڑا لی۔ نوجوان اور جذباتی صحافی چودھری محمد شفیع نے اللہ کے نام پر اپیل کی کہ جس نے طشتری اڑا لی ہے واپس کر دے مگر چور متاثر نہیں ہوا“
اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ
”پیدائش کے لحاظ سے میں دت ہوں۔ ہمارے بزرگوں نے کربلا کی جنگ میں حصہ لیا تھا۔ اس لیے ہمیں حسینی براہمن کہا جاتا ہے۔ ہمارے خاندان میں مرد سیاہ لباس پہن کر محرم کے دنوں میں امام باڑے میں جایا کرتے۔ تعزیوں میں حصہ لیتے۔ عاشورہ کے دن آج بھی ہمارے خاندان میں برت رکھا جاتا ہے“
جمنا داس اختر کا صحافتی سفر لگ بھگ آٹھ دہائیوں پر محیط ہے۔ اس دوران انہوں نے صحافت کے علاوہ بیس سے زائد اردو ناول تخلیق کیے جن کا ترجمہ ہندوستان کی کئی زبانوں میں ہو چکا ہے۔
صحافت و ادب کے علاوہ آپ کو قدیم تاریخ سے بھی بے حد دلچسپی تھی۔ آپ کی تحقیق کا بنیادی موضوع قدیم عراق، مصر اور افغانستان کے اس وقت کے ہندوستان کے ساتھ ثقافتی و تجارتی تعلقات کے بارے میں ہے۔ اپنے اسی شوق کی خاطر انہوں نے لندن یونیورسٹی، برمنگھم یونیورسٹی، برٹش میوزیم، فرانس لوورے میوزیم، مشرقی برلن کے میوزیم، امریکہ کی لائبریری آف کانگریس اور قاہرہ کے علاوہ انقرہ اور بغداد کے عجائب گھروں میں جا کر چار ہزار سال پرانے مخطوطات اور دستاویزات کی نقول حاصل کیں۔ آپ پونے شہر کے امیبڈکر ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور آرکیولاجیکل سوسائٹی کے لائف ممبر بھی رہے۔
تقسیم کے بعد ہندوستان میں آہستہ آہستہ اردو زبان کو نظرانداز کیے جانے اور اسے صرف مسلمانوں سے منسوب کرنے کی سیاست سے آپ ہمیشہ متنفر رہے۔ اردو صحافت کو پہنچنے والے اس ناقابل تلافی نقصان سے آپ بخوبی واقف تھے یہی وجہ تھی کہ آپ نے ہندوستان سے نکلنے والے چھوٹے چھوٹے اردو اخبارات کے مفادات کا خیال رکھا اور ان اخبارات کے دفاع میں آپ ہمیشہ سرگرم عمل رہے۔ انہوں نے آل انڈیا اردو ایڈیٹرس کے پلیٹ فارم سے بھی اردو اخبارات کے حقوق کی آواز بلند کی۔ آپ کا یہ کہنا تھا کہ
”اخبار کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو اس کی شناخت اپنی تحریروں سے ہوتی ہے۔ کیا یہ معمولی بات ہے کہ ایک فرد تنہا چھاپ کر زیادہ نہیں تو کم سے کم سو قارئین تک تو اپنی بات پہنچا ہی دیتا ہے۔ اس کی ستائش اور ہمت افزائی کی جانی چاہیے نہ کہ اس کی ہمت شکنی اور مذمت“
سن 1916 میں راولپنڈی میں آنکھ کھولنے والا جمنا داس اختر ہندوستان و پاکستان کے درمیان دوستی کے روابط کو مضبوط سے مضبوط تر دیکھنے کا خواہاں، نفرت و تعصب کی سیاست سے کوسوں دور، آنکھوں میں امن کے سپنے سجائے دہلی میں 2009 میں ہمارے درمیان سے رخصت ہو گیا۔ انسانیت کی سربلندی، برابری و رواداری کی قدروں پر کاربند اردو صحافت کے اس نابغہ روزگار کی بے مثال جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ پاکستان و ہندوستان کے درمیان امن و محبت کے فروغ کے لیے ہمیں جمنا داس کے اس نظریے کو جلا بخشنی ہو گی کہ
”اردو واحد زبان ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے عوام کو قریب سے قریب تر لا سکتی ہے“





