آپریشن رد الیوتھیاز اور عام معافی کی درخواست


منطق اور حساب کی رو سے دو جمع دو ہمیشہ چار ہی ہوتے ہیں لہذا تھوڑی سی بھی بصیرت کے حاملین نوشتہ دیوار پر صاف اور واضح انداز میں لکھا ہوا پڑھ سکتے ہیں۔ تھوڑا سا بھی شعور رکھنے والوں کو خان صاحب کی گرفتاری سے مہینوں پہلے، بعد میں پیدا ہونے والی شدید افراتفری کی صورت حال کا کافی حد تک ادراک ہو گیا تھا۔ صاحبان فہم و دانش کو بھی ان کا وجدان کافی واضح اشارے دے چکا تھا۔ مگر یہ سب کچھ کوئی غیبی الہام تھوڑی تھا؟

خان صاحب کے گزشتہ ایک سال کے بالخصوص ایک ہی مخصوص ادارے کی بابت عامتہ الناس کو شدت بھرے اکساؤ پر مبنی بیانات، سوشل میڈیا پر اسٹیبلشمنٹ اور جملہ مخالفین پر نفرت انگیز، شدت پسندانہ مہم میں بلا تفریق ناگفتہ بہ غلیظ گالم گلوچ کا نا رکنے والا اور مسلسل طوفان بدتمیزی آئندہ کے طوفان کی بھرپور نشاندہی کر رہا تھا۔

جبکہ حالیہ دنوں میں زمان پارک کے باہر عمرانی کلٹ فالوورز اور پولیس کی آنکھ مچولی، دھما چوکڑی اور دمادم مست قلندر نے بصورت گرفتاری متوقع عوامی رد عمل کو نوشتہ دیوار کی طرح کھول کر بیان کر دیا تھا۔ ہتھوڑا گروپ کی گزشتہ تین چار سال سے مسلسل جانبداریاں دوسرا اہم اشارہ تھیں جو اس مہاتما ساز کمپنی کے معاون خصوصی کا کردار بے نقاب کرتی آئی ہیں، یقیناً آئندہ بدترین حالات ہی کا پیش خیمہ بنتی نظر آ رہی تھیں۔

میں اپنے گزشتہ آرٹیکل ”نانی، خصم اور حلالہ“ میں تحریر کر چکا ہوں کہ پی ٹی آئی کے تین وٹس ایپ گروپس میں فوج کے مرکزی اور ذیلی دفاتر کا گھیراؤ واضح اہداف تھے۔ ان کے ایڈریس کی تحریری اور گوگل میپ کے ذریعے نشاندہی کی گئی۔ فوج کی اہم شخصیات کے گھروں کے ایڈریس لکھے گئے۔ جلاؤ، گھیراؤ کی وڈیوز فخریہ انداز میں نشر کی گئیں۔ فوج میں بغاوت کی وڈیوز، پوسٹس تسلسل سے شیئر ہوتی رہیں۔

مذکورہ بالا آرٹیکل میں ہی یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ادارہ ہی کا ایک ”مہاتما ساز“ دھڑا اب بھی اپنے اسلامی صدارتی نظام کے پندرہ بیس سالہ منصوبے سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا جو ہجوم میں شامل بھی ہوا، سہولت کار بھی تھا اور اشتعال آمیز اکساؤ کا اہم کردار بھی رہا۔ وگرنہ فوج کا رعب اور دبدبہ ہی اس قدر ہے کہ عام آدمی اس پر حملہ آور ہونا تو درکنار، اس بابت سوچ بھی نہیں سکتا۔

بہرحال جو ہونا تھا ہوا مگر بہت برا ہوا کہ اس کا ایک اور تناظر یہ بھی ہے کہ ہم جیسے رند بادہ خوار کبھی کبھار جوش مے کے زیر اثر ہی سہی کبھی کبھار ادارہ کی بابت مثبت تنقید و اختلاف رائے کے اظہار وغیرہ کی جرات رندانہ کر گزرتے تھے جسے کبھی ”انہوں“ نے درخور اعتناء سمجھنے کی کوشش نہیں کی یا شاید چشم پوشی اور درگزر کرتے تھے۔

نکل جاتی ہے سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
فقیہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا
اب اس قدر ناخوشگوار واقعے کے بعد ہمیں بھی محتاط ہونا پڑ گیا ہے۔ اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ خان اس جلاؤ گھیراؤ کی مذمت نہیں کر رہا، مرنے والوں کو اپنا کہہ رہا ہے اور شدت پسند عناصر سے برات کا اظہار کر رہا ہے بلکہ آئندہ کے لئے بھی اسی قسم کے حالات پیدا ہو جانے کی دھمکی دے رہا ہے۔ حالانکہ اس کے سوشل میڈیا کے ہمہ قسمی گروپس میں موجود مواد ان کے دعاوی کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ ہر علاقے سے پی ٹی آئی کے فعال ترین مخلص کارکن ہی احتجاج کرنے پہنچے جبکہ خان نے ان سے اظہار لاتعلقی کر دیا ہے۔

دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے مذکورہ بالا سہولت کار گروہ کی بھی اس معاملے میں عملی شرکت، اکساؤ اور اپنے ہی پیٹی بھائی نیوٹرلز پر دباؤ بنانے کے لئے سہولت کاری کے بھی واضح ثبوت موجود ہیں۔ اس سارے قضیے میں ”آپریشن رد الیوتھیاز“ اپنی بھرپور ہولناکیوں کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔ گلی محلے تک کی سطح پر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ لسٹیں بن چکی ہیں، بن رہی ہیں، متاسفانہ پہلو یہ بھی ہے کہ بے شمار، بے گناہ اور معصوم یوتھیے بھی رگڑے جائیں گے۔

یہ دراصل مقتدر طبقہ اشرافیہ کی آپس میں جنگ ہے، محلاتی اور غیر محلاتی سازشیں ہیں جس میں پہلے بھی غریب عوام مارے گئے اور اب بھی غریب عوام ہی مارے جائیں گے جبکہ ورغلانے اور بہکانے والے معاشی اور سیاسی لحاظ سے طاقتور عناصر کے بچ جانے کے امکانات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔

ادارہ سب سے پہلے اپنے ادارے میں ”آپریشن صفائی“ منعقد کرے اور پھر اپنے ہی تیار کردہ مہاتما کے لئے ہمہ قسم سہولت کاری مہیا کر کے نچلے طبقے کے کم فہم و کم عمر نوجوانوں کی برین واشنگ کے ذریعے بنائے گئے کلٹ کو وسیع تر قومی مفاد میں غیر مشروط معافی کا اعلان کر دے کہ یہ بیچارے آپ ہی کے ہاتھوں فقط استعمال ہوئے ہیں۔ یہ آپ ہی کے بچے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقے سے ہیں۔ ڈرے ہوئے ہیں، چھپ رہے ہیں، بھاگ رہے ہیں۔ ان کا حال اور مستقبل آپ ہی کے بنائے عمرانی کلٹ کا حصہ بننے کی وجہ سے داؤ پر لگ گیا ہے۔

یقین کیجئے! ان کے لئے عام معافی کے اعلان سے پاک فوج کا ہی اقبال و اہل پاکستان کا مورال بلند ہو گا۔

ہاں ”آپریشن رد الانتشار“ ضرور برپا کیجئے کہ اس میں بڑے بڑے عہدیدار، بیوروکریٹ، صنعتکار، جاگیردار، گدی نشینوں اور ”پردہ نشینوں“ کے نام شامل ہیں کہ جنھوں نے اس سارے معاملے میں اپنے گھناونے عزائم پورا کرنے کے لئے ”طوائف الملوکی“ سے کام لینے کی بھرپور کوشش کی، احتجاج کا ناگوار رخ متعین کیا، پسے ہوئے اور نچلے متوسط طبقے سے متعلق نوجوان کو گمراہ کر کے جلتی پر تیل ڈالا۔ اگر بالفرض ایسا کرنے سے آپ کو اپنے پر جلتے نظر آتے ہیں تو نزلہ بیچارے استعمال شدگان یوتھیاز پر بھی گرانا مناسب نہیں ہے۔

جبکہ میں اپنے یوتھیاز بھائیوں کو بھی یہی مشورہ دوں گا کہ پاکستان کی عزت کی ریڈ لائن کراس کر کے یقیناً آپ سے غلطی سرزد ہوئی ہے۔ آپ کو غلط رہنمائی کر کے اس مسئلے میں پھنسا دیا گیا ہے۔ اگر آپ گرفتار ہو گئے تو کوئی آپ کو بچانے نہیں آئے گا۔ آپ کے مقامی لیڈران خود مفرور ہیں۔ لہذا اپنے علاقائی گروپ کی شکل میں سفید جھنڈے اٹھائیے، متعلقہ ضلعی پریس کلب میں جائیے اور علی الاعلان پاک فوج سے معذرت طلب ہو جائیے۔ آپ کی اپنی فوج ہے۔ وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یقیناً آپ کو معاف کر دے گی اور اس کے علاوہ کوئی اور چارہ کار ہے بھی نہیں۔

Facebook Comments HS