انتون چیخوف کی تخلیقی حسیات


 

دنیائے افسانہ نگاری کے دو امام مانے جاتے ہیں جن میں سے ایک موپساں اور دوسرا چیخوف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موپساں ایک بہت بڑا فسانہ نگار ہے اور تنقیدی سطح پر یہ فیصلہ کرنا شاید ممکن نہیں کہ موپساں اور چیخوف میں کون سا بڑا افسانہ نگار ہے (اور یہ فیصلہ کرنا کوئی ضروری بھی نہیں) مگر میں ذاتی طور پر چیخوف کو زیادہ پسند کرتا ہوں اور اس کی وجہ اس لئے نہیں بتانا چاہتا کہ پھر اس کی وجہ سے کسی نہ کسی تنقیدی معیار کی ”بو“ ہمارے نتھنوں میں بے چینی پیدا کر دے گی جب کہ میں اس وقت چیخوف سے اپنی پسندیدگی کو ان تنقیدی عناصر سے پاک رکھنے کے موڈ میں ہوں (کہ کبھی کبھی ہمیں تنقیدی معیارات سے نکل کر بھی کسی فن پارے کو پسند کرنے کو جی چاہتا ہے۔)

اردو افسانہ نگاروں کا چیخوف سے تعلق شروع دنوں سے ہے۔ ہماری پہلی دوسری پیڑھی کے لکھنے والے چیخوف کی تحریروں سے نہ صرف واقف اور متاثر ہوئے بل کہ اس کی تحریروں کے تراجم پر بھی مائل ہوئے۔ جن میں سعادت حسن منٹو اور خواجہ منظور حسین کے تراجم بالخصوص قابل ذکر اور قابل توجہ ہیں۔ ان کے تراجم کی وجہ سے اردو کی افسانوی دنیا ابتداء سے ہی اس عظیم افسانہ نگار سے استفادہ کے قابل ہوئی۔

1887 ء میں چیخوف نے اپنا پہلا ڈراما لکھا۔ اور ڈراما نگار کی حیثیت سے ہی وہ مقبول عام ہوا۔ 1890 ء میں چیخوف نے یورپ کا سفر کیا اور اس دوران وہ متوسط طبقے کے پڑھے لکھے لوگوں سے ملتا جلتا رہا۔ اور انہوں نے ایسے لوگوں کو ہی اپنے افسانوں میں کردار بنایا۔ یورپی تہذیب اور اس تہذیب کے مارے ہوئے تعلیم یافتہ روسیوں سے تعلق رکھنے کے باوجود کسانوں، مزدوروں اور ادنیٰ قسم کے تاجروں کی بہبودی کی ایسی فکر رکھنا جیسی چیخوف کو تھی ذہنی اور روحانی صحت کی روشن دلیل ہے۔

چیخوف افسانہ نویسی کے ایک نئے اور نرالے طرز کا موجد مانا جاتا ہے جو زندگی کی کیفیات اور انسان کے احساسات بیان کرنے کے لئے اس قدر موزوں ہے کہ اس نے فن افسانہ نگاری میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ سب سے نمایاں خصوصیت اس نئے طرز کی یہ ہے کہ اس میں قصہ سنانے کا خیال بالکل نظر انداز کیا گیا ہے۔ دوسرے روسی انشا پردازوں کی طرح چیخوف بھی داستان کو معنی خیز بنانے کے لئے غیر معمولی حادثوں کا سہارا نہیں ڈھونڈتا تھا، اس کے قلم میں معمولی واقعات اور احساسات کو اس صفائی اور وضاحت سے پیش کرنے کی قدرت تھی کہ اس کے افسانے سیدھی سادی حقیقت ہی کی بدولت لطیف اور دل کش ہو جاتے ہیں۔

عام طور پر چیخوف افسانے کے لئے اپنے ہیرو یا ہیروئن کی سرگزشت کا کوئی ایسا موقع یا واقعہ منتخب کرتا ہے جو ایک مثالی نمونہ قرار دیا جا سکے اور اس کو وہ ایک شمع بنا دیتا ہے جس کی روشنی میں اس کے ہیرو کی ساری زندگی اور تمام مزاجی اور روحانی کیفیتیں آپ ہی آپ نظر آنے لگتی ہیں۔ اس کے طرز بیان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ ہم اس فضا سے گھر جاتے ہیں جس کا عکس اتارنا چیخوف کا مقصد ہوتا ہے، یہاں تک کہ چیخوف کے فنی کمالات کو ہم اپنی نظر کی گہرائی اور ادراک کی خوبی سمجھنے لگتے ہیں۔

اس نے خواہ کتنی ہی نازک بات پیدا کی ہو، ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری نظر پہلے ہی اس پر پڑ گئی تھی اور ہم اسے خود اسی طرح بیان کر دیتے۔ ایسے ہی ہزاروں اپنے اپنے رنگ کی نرالی طبیعتیں رکھنے والے لوگ جن سے چیخوف ہمارا تعارف کراتا ہے سب سے اپنے جانے بوجھے دوست آشنا معلوم ہوتے ہیں، جن کے حلیے اور سراپے سے ہم بخوبی واقف ہیں، جن کی سیرت اور خصلت کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں، جو کچھ ان پر گزری وہ ہمارا سنا ہوا قصہ ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے وہ ہمارے لئے کوئی راز نہیں۔

چیخوف نہ تو خط و خال کی باریکیوں پر جان دیتا ہے، جو عہد مغلیہ کے مصوروں کا دستور تھا اور نہ اصلیت سے قطع نظر کر لیتا ہے جیسا کہ یورپ کے جدید مصور کرتے ہیں۔ بعض نقاد یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس کی دنیا میں دھوپ چھاؤں نہیں، دن رات نہیں، بس ایک جھٹپٹا سا رہتا ہے جس میں کوئی چیز صاف دکھائی نہیں دیتی، اس کی وجہ سے اس کی تصویروں میں کوئی رنگ نہیں۔ ایک حد تک تو یہ اعتراض درست ہے، لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ روس اور تمام یورپ میں طریقۂ تعلیم، معاشرتی انقلابات اور سیاسی اور اخلاقی دباؤ نے یک رنگی کو ایک وبا بنا دیا ہے۔

نرالے اوصاف کے لوگ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے اور زندگی کا ایسا مصور جو ذہنی اور اخلاقی فضا کی ہر کیفیت سے متاثر ہوتا ہو حقیقت کا اتنا پابند ضرور ہو جاتا ہے کہ اس کی یک رنگی کو ہر جگہ دکھائے۔ یورپ کی زندگی کو دیکھتے ہوئے چیخوف نے اپنے افسانوں میں پھر بھی بہت کچھ رنگ پیدا کیا ہے کیوں کہ وہ بہت سی نازک کیفیتوں کو جو دوسرے ملکوں کے ناول نویسوں سے پوشیدہ رہیں بڑی نکتہ رسی کے ساتھ بیان کرتا ہے۔

چیخوف ہر شخص کو عاشق یا معشوق نہیں سمجھتا۔ اس نے انسان کے احساسات کو ایک جذبے تک محدود نہیں رکھا، ایک ہی تصویر کو پس منظر اور گرد و پیش بدل بدل کر نہیں دکھایا۔ ظاہر ہے انسانی زندگی کا ہر پہلو اتنا رسیلا نہیں ہوتا جتنا حسن و عشق کی کشمکش، لیکن حقیقت نگاری کی نظر پوری حقیقت پر ہونا چاہیے اور چیخوف نے حقیقت کو مد نظر رکھنے کے علاوہ اس میں ایسی جان ڈال دی ہے کہ جو کچھ وہ بیان کرتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں یا دیکھ چکے ہیں۔

Guy de Maupassant

اسی حقیقت کا ایک رخ مردوں عورتوں کے تعلقات ہیں۔ ایسے ناول تو بس بہت ہیں جنھوں نے سطحی دلچسپی کی حد سے گزر کر انسانی فطرت کی گہرائیوں میں غوطہ لگایا ہے اور کسی نہ کسی قیمت کا موتی لے کر آئے ہیں۔ لیکن ایک دو موتیوں سے زیادہ کسی کے ہاتھ نہیں لگے اور ان کے مشاہدے میں یہ لوگ ایسے محو ہو گئے کہ انہیں اس خزانے کا خیال ہی نہیں رہا جس میں سے وہ ان موتیوں کو نکال کر لائے تھے۔ فرانسیسی انشاء پرداز عورت کی چالاکی اور لذت پرستی کے مرقع کھینچنے میں ماہر ہیں اور اس میدان میں کوئی ان کی برابری نہیں کر سکتا۔

انگریز مصنف اب تک محبت کی داستانیں سنانا اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے۔ لیکن اب وہ اس سے کچھ اکتا گئے ہیں اور جدید ترین ناول نویس عورتوں سے بیزار معلوم ہوتے ہیں۔ نسوانی سیرت کا پورا حق دراصل صرف روسی ادا کر سکے۔ ان کی معاشرت کا کئی صدیوں سے کچھ ایسا رنگ رہا ہے کہ وہ اخلاقی پابندیاں جو دوسرے ملکوں میں معیار کا کام دیتی ہیں ان کے یہاں تسلیم ہی نہیں کی گئیں۔ جنسی جذبات ان کے نزدیک اسی قسم کی قدرتی خواہشیں ہیں جیسی بھوک اور پیاس اور کسی نے غلطی سے یا جان بوجھ کر کوئی بے قاعدگی یا زیادتی کی تو وہ اس کے عمل کو فلسفیانہ غور و فکر کا موضوع نہیں بناتے اور نہ اسے اخلاقیات کے کانٹے پر تول کر رتی ماشے کا فرق نکالتے ہیں۔

وہ عشق مجازی کو اس طرح نہیں دکھاتے کہ پڑھنے والا دھوکے سے اس کو حقیقی سمجھ لے اور نہ لذت پرستی کو ایسا سنوارتے ہیں کہ لوگ خواہ مخواہ اس پر فریفتہ ہو جائیں اور ضبط نفس کو بدمذاقی یا بے حسی سمجھنے لگیں۔ چیخوف اس اعتبار سے بھی سچا روسی تھا، اس نے نسوانی سیرت کو کسی خصوصیت کو مرکزی حیثیت نہیں دی ہے۔ اس نے عورت کو کسی صفت یا کسی عیب کا مجسمہ نہیں ٹھہرایا۔ اس کے افسانوں کے نسوانی کریکٹر سب انسان ہیں اور انسان میں جو طرح طرح کی خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں وہ ان میں بھی پائی جاتی ہیں۔

اپنے فرانسیسی ہم عصر موپساں (1893۔ 1850) کی طرح چیخوف عورتوں سے ڈرنا، نفرت کرنا یا انہیں حقیر اور پست حوصلہ سمجھنا نہیں سکھاتا۔ اس کا فلسفۂ حیات بہت زیادہ وسیع اور ہمہ گیر ہے۔ دوسری طرف وہ عورتوں کو دیویاں بنا کر پوجتا بھی نہیں ہے۔ مگر مرد عورتیں ایک دوسرے کی صورت اور سیرت سے جو اثر لیتے ہیں اس کو وہ نظر انداز نہیں کرتا، جیسے اس کو اور تمام کیفیتیں بیان کرنے میں کمال ہے ویسے ہی وہ اس لگاؤ کو جو خودبخود پیدا ہوجاتا ہے، آغاز محبت کے اس نشے کو جس میں دل و دماغ چور رہتے ہیں، اس بے صبری اور بے چینی اور جدائی کی ان تکلیفوں کو جو محبت کی دلیل مانی جاتی ہیں بڑے رسیلے اور لطیف انداز سے بیان کرتا ہے۔

چیخوف کا فنی کمال، اس کے احساس کی نزاکت اور گہری انسانی ہمدردی سب سے بہترین ان افسانوں میں ظاہر ہوتی ہے جن کا موضوع دل کا درد ہے یا وہ چھوٹے بڑے صدمے جو ہم میں سے ہر ایک کو پہنچتے رہتے ہیں یا وہ حسرتیں جو دل کw تڑپایا کرتی ہیں۔ اس طرز کے افسانے بہت ہیں اور ہر ایک اپنی جگہ بے مثل ہے۔ چیخوف کے نقش نازک اور باریک ہوتے ہیں، اس کے اشارے اور کنائے پر معنی۔ وہ قصے کو کبھی اس طرح نامکمل چھوڑ دیتا ہے کہ وہ خود بخود پڑھنے والے کے ذہن میں انجام کو پہنچ جاتا ہے اور اسے آپ بیتی معلوم ہونے لگتا ہے۔

 

Facebook Comments HS