کرناٹک، مسکان اور بی جے پی


کہتے ہیں کہ ”ہر عروج را زوال است“ (ہر عروج کو زوال ہے۔ ) بھارت میں کانگریس کی اہم جنوبی ریاست کرناٹک اسمبلی کے 9 مئی 2023 کے انتخابات میں کامیابی اور بی جے پی کی اقتدار سے محرومی اس کا مصداق ہے۔ یہ واحد جنوبی ریاست تھی جہاں ہندو قوم پرست گروپ برسر اقتدار تھا۔ کرناٹک کی آبادی چھ کروڑ سے زیادہ ہے اور یہ قریبا برطانیہ کی آبادی کے برابر اور اس کا دارالحکومت بنگلور بھارت کا ٹیکنالوجی مرکز ہے۔ کانگریس نے 136 نشستوں کے ساتھ 224 نشستوں والی مقننہ میں واضح اکثریت حاصل ہو گئی۔

بی جے پی نے 65، دوسری جماعتیں 18 اور چار آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ بی جے پی کے وزیراعلی بسوراج بومئی نے شکست تسلیم کرلی ہے۔ کرناٹک کی انتخابی مہم میں مودی نے ہندو سیاست کے اپنے برانڈ کے فروغ کے لیے اپنی ایک ریلی میں مودی نے ایک نئی فلم کی تعریف کی جس میں اسلام قبول کرنے اور داعش میں شامل ہونے والی ہندو خواتین کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔ مودی نے بندر دیوتا ہنومان کو خراج عقیدت پیش کر کے ہندواکثریتی رائے دہندگان کو راغب کرنے کی بھی کوشش کی۔

نریندر مودی نے اپنے امیدواران کی انتخابی مہم کو کمک پہنچانے کے لیے کرناٹک کا 24 دورے کیے۔ بی جے پی نے حسب روایت یہاں بھی ہندو انتہا پسندی کا کارڈ کھیلا۔ پوری انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے ساتھ ساتھ جنگ آزادی کے ہیرو ٹیپو سلطان شہید کو بھی نہیں بخشا بلکہ اس ضمن میں بی جے پی نے ایک ایسا بیانیہ بھی گڑھا، جس میں ٹیپو سلطان کو بطور ولن پیش کرنے کے علاوہ ان کی شہادت کا محرک انگریزوں کے بجائے دو انتہا پسند ہندو بھائیوں کو قرار دیا جاتا رہا۔

مودی نے اپنی انتخابی مہم میں ٹیپو سلطان کے متعلق یہ رویہ کیوں اختیار کیا اس کے لیے تاریخ پر نظر ڈالیں تو حقیقت واضح ہوگی۔ مغلوں کی حکمرانی جب زوال کا شکار ہوئی تو میسور میں سلطان ٹیپو حکمران بن گئے اور شیر میسور کہلائے۔ اسی میسور کا نام اب ”کرناٹک“ ہے۔ میسور اس کا اب ایک شہر ہے۔ اسی ریاست سے محمد حسین خان کی بیٹی ”مسکان خان“ کا تعلق ہے مسکان کا مطلب مسکراہٹ ہے۔ الریاست میں جب ایک مہم چلی کہ مسلم طالبات برقع اور سکارف پہن کر سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نہ آئیں۔ بعض اداروں میں No Entry کے بورڈ بھی آویزاں ہو گئے۔ ہندو طلبہ بھگوا کیسری شالیں گلے میں لٹکا کر مسلم طلبہ کے خلاف سڑکوں پر آ گئے۔

آٹھ فروری 2022 کی صبح مسکان خان حسب معمول اپنے کالج ’مہاتما گاندھی میموریل‘ میں گئی تو آؤٹ سائیڈر ہندو طلبہ نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر مسکان خان نے اپنی سکوٹی پارک کی ’برقع پہنے اور نقاب کیے وہ آگے بڑھی تووہ لڑکے جو کالج گیٹ کے باہر کھڑے تھے سیخ پا ہو گئے کہ ایک مسلمان طالبہ دلیری کے ساتھ کیسے اندر چلی گئی۔ اب یہ ہندو طلبہ کا ہجوم‘ جس میں چند ایک مذکورہ کالج کے سٹوڈنٹس بھی تھے ’گیٹ سے اندر آ گئے اور کیسری رنگ کی بھگوا شالیں پہنے ہوئے ”جے شری رام“ کے نعرے لگاتے ہوئے مسکان کے پیچھے دوڑے۔

مسکان خان نے ڈرنے کے بجائے ان کی جانب رخ کر کے پوری قوت سے مسلسل اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ ساتھ ہی واضح کیا کہ برقع اور سکارف ہماری عزت اور غیرت ہے‘ ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔ مسکان کے اس جرآت مندانہ اقدام سے کرناٹک کے مسلمان طلبہ احتجاج کے لیے باہر نکلے۔ اور مسکان سے اظہار یک جہتی کیا۔ اور دنیا بھر میں بھارت کا گھناؤنا کردار بے نقاب ہوا۔

مسکان خان کی دلیری کا ایک اور نتیجہ یہ نکلا کہ کرناٹک ہائی کورٹ میں چھ مسلم طالبات کے کیس کی فوری سماعت ہوئی۔ مسلمانوں کی طرف سے محمد طاہر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا: برقع اور نقاب ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ قرآن مجید کی سورہ نور میں اس کا حکم موجود ہے ’ہماری بچیوں کو پردے سے روکنا ہمارے دینی شعار میں مداخلت ہے۔ پردے سے روکنا بھارت کے آئین اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ہے جس میں مسلمانوں کے مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔

اس پر کرناٹک کے چیف جسٹس نے قرآن مجید منگوایا۔ محمد طاہر ایڈووکیٹ نے سورہ نور کی آیات تلاوت کیں اور ان کا ترجمہ بیان کیا۔ آیات کی تلاوت سن کر چیف جسٹس ”مسٹر ریتوراج اواستھی“ نے کہا کہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ یوں مودی اور اس کی جماعت کی حالیہ انتخابی شکست مسکان اور مسلمانوں کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا سبب ہے کہ مسلمانوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کرنے والے اور ٹیپو سلطان جیسے منصف اور روادار حکمران کو جھوٹے پروپیگنڈے سے ولن ثابت کرنے والے مکافات عمل کا شکار ہو کر ناکامی سے دوچار ہوئے۔ تجزیہ نگار اس ناکامی کو بی جے پی اور نریندر مودی کے زوال کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔

کانگریس نے اس ریاست میں سیکولرازم، غریبوں کو مفت بجلی اور چاول دینے اور بی جے پی کی بدعنوانی کے الزامات پر مہم چلائی۔ راہول گاندھی نے دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نفرت کا بازار بند اور محبت کی دکانیں کھول دی گئی ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ٹویٹ کیا کہ وزیراعظم مودی نے تفرقہ اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس کامیابی کے بعد کانگریس ملک کی دوسری بڑی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے جو گزشتہ سال کے شروع تک صرف دو ریاستوں راجستھان اور چھتیس گڑھ میں برسر اقتدار تھی۔ جیسے عام آدمی پارٹی دہلی اور پنجاب میں برسراقتدار ہے لیکن گزشتہ سال ہمہ چل پردیش کی جیت اور اب کرناٹک کی فتح کے بعد کانگریس کو طویل عرصے بعد ملک کی چار ریاستوں میں کامیابی ملی ہے جسے مستقبل کے تناظر میں ایک بڑی تبدیلی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

اس ضمن میں یہ بتانا خالی از دلچسپی نہیں ہو گا کہ بی جے پی اس وقت ملک کی تیس میں سے دس۔ کانگریس چار اور عام آدمی پارٹی دو ریاستوں میں بر سر اقتدار ہیں۔ باقی چودہ ریاستوں میں مختلف علاقائی اور دوسری جماعتیں برسراقتدار ہیں۔ اگر کانگریس ان میں سے اکثر جماعتوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ بی جے پی کے مقابلے میں ایک زیادہ بڑا اور وسیع انتخابی اتحاد بنانے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں ہو گا کہ اگر کانگریس آئندہ قومی انتخابات کے لیے اپنے پتے صحیح طور پر کھیلنے کی کوشش کرے تو وہ نہ صرف بی جے پی کو ناکوں چنے چبوا سکتی ہے بلکہ پچھلی ایک دہائی سے کھوئی اپنی سیاسی ساکھ کو بھی ایک بار پھر بحال کر سکتی ہے۔ اگر اختصار سے جائزہ لیا جائے تو بی جے پی کی شکست اور کانگریس کی فتح کے عوامل یہ ہیں۔

بی جے پی کی شکست کے اسباب۔
1۔ بی جے پی کو بے روزگاری اور آسمان چھوتی مہنگائی۔
2۔ مقامی راہنماؤں کی بجائے مودی اور مرکزی راہنماؤں پر انحصار۔
3۔ نفرت کی سیاست اور اقلیتوں کے خلاف نازیبا انداز گفتگو۔
4۔ پارٹی میں اندرونی دھڑے بندی۔
5۔ گزشتہ دور اقتدار میں کیے گئے وعدوں کو نظر انداز کر نا۔
6۔ بدعنوانی کے واقعات۔
کانگریس کی کامیابی کی وجوہات۔
1۔ بروقت انتخابی حکمت عملی اور موثر بیانیہ۔
2۔ عوامی غصے کو بی جے پی کے خلاف مہارت سے استعمال۔
3۔ مقامی لیڈر شپ اور مقامی مسائل کا انتخاب۔
4۔ عام آدمیوں سے روابط اور ان کے معاشی مسائل پر توجہ۔
5۔ بھارت جوڑو کا نعرہ اور آس کے لیے یاترا۔
6۔ دیہی خواتین کو 2000 روپے ماہانہ کمزور طبقات کو 200 یونٹ بجلی اور 10 کلو چاول مفت دینے کے وعدے۔

بہرحال بی جے پی کی شکست عروج کا فوری زوال ثابت ہوتا ہے یا اس میں کچھ اور وقت لگتا ہے اس کے لیے انتظار کر نا پڑے گا۔

Facebook Comments HS