دریائے ہاکڑہ کی گمشدہ تہذیب


بہتے دریا زندگی کی علامت ہوتے ہیں۔ تاریخ میں بھی دنیا کے بڑے دریاؤں نے ہی عظیم انسانی تہذیبوں کو جنم دیا۔ جب تک یہ دریا رواں رہے یہ تہذیبیں جواں رہیں لیکن جیسے ہی کسی دریا نے رخ بدلا یا کوئی دریا خشک ہوا وہاں کی تہذیب بھی معدوم ہوتی چلی گئی۔ دنیا کی قدیم تہذیبیں بھی دریاؤں کے کنارے پر ہی آباد تھیں۔ ان تہذیبوں میں ایک میسوپوٹیمیا کی تہذیب اہم ہے جو دجلہ اور فرات کی وجہ سے پروان چڑھی، دوسری قابل ذکر تہذیب مصر کی تہذیب ہے جو دریائے نیل کی زرخیزی کی وجہ سے نقطہ عروج پر پہنچی۔ جبکہ تیسری عظیم الشان تہذیب وادی سندھ کی تہذیب ہے جس کو ”گریٹر انڈس سویلائزیشن“ بھی کہا جاتا ہے یہ دریائے سندھ کا عظیم تحفہ ہے۔ اس تہذیب کا مرکز موہنجوداڑو (سندھ) اور ہڑپہ (پنجاب) کے شہر تھے۔

یہ ساری تہذیبیں دنیا کی قدیم تہذیبیں ہیں جو تقریباً پانچ یا چھ ہزار سال قبل مسیح سے پھیلنا شروع ہوئی تھیں۔ جب یہ تہذیبیں پھل پھول رہی تھیں اس زمانے میں ایک اور تہذیب بھی مستحکم ہو رہی تھی جسے ہم وادی ہاکڑہ کی تہذیب کہتے ہیں۔ یہ تہذیب دریائے ہاکڑہ پر آباد تھی جو اب سوکھ کر ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور اسی وجہ سے اسے ”گم شدہ دریا“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تہذیب موجودہ ریاست بہاولپور، چولستان، تھر اور راجستھان کے کچھ علاقوں پر مشتمل تھی۔ جب ہاکڑہ زندہ تھا تو چولستان لق و دق صحرا نہیں بلکہ سر سبز و شاداب علاقہ تھا اور یہاں کی آب و ہوا اور طبعی ماحول کی خصوصیات بالکل مختلف تھیں۔

اس تہذیب کی دریافت پر ابتدائی کام انگریز سکالرز نے کیا جن کے بھیجے گئے مشن کی وجہ سے یہاں گم شدہ تہذیب کو پہلی بار دریافت کیا گیا۔ جبکہ موجودہ دور میں محکمہ آثاریات پاکستان کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر رفیق مغل کا تحقیقی کام سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے بلاشبہ وہ چولستان کے محسن ہیں۔ ورنہ تو جس طرح چولستان لاوارث ہے اسی طرح چولستان کی اس تہذیب کو بھی لاوارث سمجھا جاتا ہے۔ چولستان کے مقامی باشندے جن کو ”روہیلے“ کہا جاتا ہے انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ کس قدر عظیم تہذیب کے وارث ہیں۔

ڈاکٹر رفیق مغل نے اپنی تحقیق میں ہاکڑہ تہذیب کو ”ہاکڑہ تمدن“ کا نام دیا جبکہ سندھ کی تہذیب کو انہوں نے ”عظیم تر وادی سندھ“ کی تہذیب لکھا ہے۔

ہاکڑہ تہذیب کا سب سے بڑا مرکز بہاولپور کے قریب گنویری والا کا شہر تھا، یہ شہر ہڑپہ اور موہنجوداڑو کا ہمعصر شہر تھا اور دونوں شہروں کے درمیان واقع تھا۔ یہ شہر ہڑپہ سے قدرے بڑا لیکن موہنجوداڑو سے رقبے میں چھوٹا تھا۔ گنویریوالا کی دریافت ڈاکٹر رفیق مغل صاحب کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔

اس کے علاوہ چولستان میں اور بھی کئی مقامات، کھنڈرات اور قدیم قلعے دریافت ہو چکے ہیں جو یہ واضح کرتے ہیں کہ وادی ہاکڑہ کی یہ تہذیب دریائے ہاکڑہ کی گزرگاہ پر ہی قائم تھی۔ اس کے علاوہ زیرزمین پانی کی ٹیسٹنگ سے بھی اس دریا کی گزرگاہ ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس دریا کی گزرگاہ پر زیرزمین پانی ابھی بھی میٹھا ہے جبکہ باقی چولستان کا زیرزمین پانی مختلف اور کڑوہ ہے۔ جدید سائنسی دور میں سیٹلائٹ تصویروں جیالوجی اور دیگر سائنسی جائزوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہاں پر سوکھے ہوئے ہاکڑہ کا بیڈ موجود ہے جو چولستان سے تھر تک جاتا تھا اور رن آف کچھ پر جا کے ختم ہوتا تھا۔

کچھ سکالرز اسی سوکھے ہاکڑہ کو ہی سرسوتی کا نام دیتے ہیں۔ جیسے کہ ڈاکٹر رفیق مغل لکھتے ہیں۔ ”اساطیری دریا سرسوتی ان دنوں چولستان میں بہا کرتا تھا پھر کسی نامعلوم سبب وہ خشک ہو گیا۔“

سرسوتی ہندو میتھالوجی میں ایک مقدس دریا ہے جو صدیوں پہلے سوکھ کر صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے۔ جن سکالرز نے ہندوؤں کے مذہبی ادب مہابھارت اور رگ وید کا مطالعہ کیا تھا ان کا بھی خیال تھا کہ سرسوتی کا دریا بھی اسی خطے میں ہونا چاہیے تھا جہاں کبھی ہاکڑہ بہتا تھا۔ رگ وید میں سرسوتی بارے لکھا ہوا ہے کہ یہ دریا جمنا اور شتدر (ستلج) کے درمیان بہتی ہوئی ساگر کے ساتھ جا ملتا ہے۔

اگر جدید ادب کی بات کی جائے تو اردو کے نامور ادیب مستنصر حسین تارڑ نے اپنا عظیم تاریخی و تہذیبی ناول ”بہاؤ“ اسی چولستان کی تہذیب پر لکھا ہے جو صدیوں پہلے منہدم ہو گئی تھی۔ انہوں نے اس کو ایک زندہ تہذیب کے طور پہ پیش کیا ہے۔

اس ناول میں انہوں نے اپنے مضبوط تخیل اور عمیق مشاہدے سے اس گم شدہ دریا کے بہاؤ اور خشک ہونے کی کہانی، اس تہذیب کی بودوباش، رہن سہن، زبان اور معاشرت کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تہذیب صفحہ ہستی سے غائب کیونکر ہوئی۔ کچھ سکالرز آریاؤں کے حملے کو اس کی بڑی وجہ سمجھتے ہیں۔ لیکن جدید تحقیق سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ بیرونی حملہ آوروں نے اس ہاکڑہ تہذیب کو ختم کیا۔ کیونکہ اس تہذیب کے آثار پر کی گئی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ تہذیب مختلف ادوار میں تقسیم ہے۔ اس تحقیق سے بیرونی حملہ آوروں سے تہذیب کے خاتمے کے امکان کو رد کیا جا سکتا ہے۔

اس تہذیب کے ختم ہونے کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں اور دریائے ہاکڑہ کا آہستہ آہستہ خشک ہو جانا ہے۔ دریا ہاکڑہ کے خشک ہونے کی وجوہات شاید ابھی نامعلوم ہی ہیں اس لیے اس پر تحقیق کی ضرورت ہے۔

جب دریا سوکھتے ہیں تو وہاں کی بڑج بڑی تہذیبیں بھی فنا کا لقمہ بن جاتی ہیں کیونکہ بہتے دریا ہی تہذیبوں کے ضامن ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے ہاکڑہ سوکھتا گیا ہاکڑہ کی زرخیز چراگاہیں ریت کا کفن پہنتی چلی گئی اور یہاں کی زیادہ آبادی کا رخ آہستہ آہستہ وادی گنگا جمنا کی طرف ہو گیا۔

Facebook Comments HS