اماں کی خوشبو


وہ ’چٹی ان پڑھ‘ تھیں۔ اور اچھا ہی تھا کہ پڑھی لکھی نہیں تھیں۔ ورنہ شاید آج کل کی ماؤں کی طرح چیختی، ڈانٹتی یادیں ہی باقی یادوں پر حاوی ہوتیں۔ وہ بچوں کو خود نہیں پڑھا پاتی تھیں لیکن اپنے سامنے کتابیں کھلوا کے بٹھا لیتی تھیں۔ سمجھا نہیں سکتی تھیں لیکن نظر ضرور رکھتی تھیں۔

سارا دن وہ متحرک رہتیں۔ سات اولادوں کو اکیلے پالتی تھیں۔ صبح اذان کی آواز کے ساتھ جو بستر چھوڑتیں۔ تو سارا دن پورے گھر میں چاق و چوبند رہتیں۔ تازہ، سادہ، لذیذ کھانا کہ جس کو سوچو تو اب بھی زبان پر وہی لذت اور تازگی محسوس ہو، ہمیں ملا۔ گھر میں سامان کم لیکن صفائی کی کثرت تھی۔ بیرونی بڑے گیٹ سے اندر کے دروازوں تک، روشن دان، کھڑکیاں، دیواریں سب نکھرے ستھرے ہوتے۔ وہ اپنی اولادوں کو ماتھے پر چومتی تھیں۔

سر پر دونوں ہاتھوں سے پیار دیتی تھیں۔ ان کے لئے سرما کے لحاف خود سیتیں۔ سبھی بچوں کی ہفتہ وار سر، بازو، ٹانگوں اور گردن کی مالش کرتیں۔ اور اس سب میں کبھی کسی نے انھیں یہ کہتے نہیں سنا کہ وہ زبردستی، ناخوشی یا بیزاری سے یہ سب کرتی تھیں۔ انھیں کبھی یہ قلق نہیں رہا کہ اپنے گھر، نسل کو پال کر وہ اپنی صلاحیتوں کا گلا گھونٹ رہی تھیں۔ اتنے سال پہلے بھی اکیلے سفر کر لیتی تھیں۔ ابا سرکار کے ملازم تھے اور خطرناک حد ’ریگولر‘ ۔

جنہوں نے اپنے بچوں کی شادی پر بھی دو سے زیادہ چھٹیاں نہیں لینی ہوتی تھیں۔ تو اس صورت میں خاندان کی خوشی، غمی، آبائی گھر اور گاؤں کے چکر اماں ہی پورے کرتیں۔ نہر کنارے جو بس اتارتی، وہاں سے تین چار کلومیٹر پیدل چل کر کھیتوں سے گزرتے ہوئے دادا کا گھر آتا۔ اس پورے راستے میں دسیوں بار اماں کے قدموں کو ’بریک‘ لگتا۔ ہر دو قدموں کے بات کوئی ملنے والا، شناسا، واقف کار مل جاتا۔ اور محبت کے لمبے سلسلے۔ کوئی زبردستی چائے کے لئے روکتا، کوئی دودھ لسی لے آتا۔

کہیں صرف اگلے وقت کا وعدہ کیا جاتا۔ اگر میرے جیسا کوئی بچہ ساتھ ہوتا تو اسی میں بیزار ہو جاتا۔ خدا خدا کر کے دادی کے گھر پہنچتے۔ تو وہاں بھی ایسا ہی معمول۔ گاؤں میں جہاں جہاں مرگ ہو چکی ہوتی، تعزیت کو پہنچتیں۔ جہاں خوشی کا کوئی موقع گزرا ہوتا، وہاں تہنیتی پیغام دیتیں، جہاں کوئی بیمار ہوتا، اس کی عیادت کرتیں۔ کاغذوں میں ان پڑھ لیکن عملاً بڑی تربیت یافتہ تھیں۔ غم گساری، دوسراہٹ، غریب پروری، الفت اور احساس کے سبھی درس ان کو ازبر تھے۔

آج سے پچاس برس پہلے وہ چھ بچیوں اور ایک بیٹے کی ماں تھیں لیکن نہ تو کبھی انھیں زیادہ بیٹیاں ہونے پر روتے، پریشان ہوتے دیکھا۔ نہ آزردہ۔ نہ کسی کے سامنے شکوے شکایتیں کرتے پایا۔ نہ بیٹے سے غیر متوازن الفت کے عملی مظاہرے۔ سب کا سانجھا خیال رکھتیں۔ بڑی بجو اور باقی بچوں کی ذہنی صحت کے لئے، سردیوں کی راتوں میں بادام، اسپغول، دیسی گھی اور دودھ کو ملا کر ’دودھی‘ بناتیں۔ گرمیوں کی صبحوں میں سردائی پیستیں۔ سب کو بلا بلا کر، پاس بٹھا کر پلاتیں۔ کبھی کھانے میں گوشت کی بوٹی، مکھن کے پیڑے، بل والے پراٹھے، دیسی انڈے کی تقسیم میں تفریق نہ برتی۔ سادہ، کامی عورت، جس کے پاس رسمی تعلیم کی کوئی سند نہیں تھی۔ لیکن جسمانی صفائی، ’آرگینگ فوڈ‘ ، ’سلو کوکنگ‘ ، معاشرتی میل جول اور سوشل سپورٹ، سب کی ماہر تھیں۔

ماؤں کی پہچان ان کی ڈگریوں سے نہیں ہوتی۔ بلکہ اس توجہ اور محبت سے ہوتی ہے جو چلتے پھرتے، بولتے، کہتے، ان کی، آپ کے ارد گرد موجود ہونے سے ہوتی ہے۔ ان کی قدر ان کی موجودگی سے زیادہ وہ خالی پن کرواتا ہے جو ان کی غیر حاضری میں گھر کے ہر کمرے، رسوئی کی ہر سمت ڈیرا جما لیتا ہے۔ فاطمہ ثریا بجیا کی ایک گفتگو میں، میں نے سنا کہ ہندوستان کے علاقے اتر پردیش میں صندل کے جنگلات جب وہ دیکھنے گئیں تو بڑی حیران ہوئیں کہ وہ درخت، جس کی لکڑی اپنی خوشبو کی وجہ سے مشہور ہے، اس کی بالکل بھی کوئی خوشبو نہیں۔

تب گائیڈ نے ہنستے ہوئے کہا کہ جب صندل کا درخت زندہ ہوتا ہے تو صرف چھاؤں دیتا ہے۔ خوشبو کی صفت تو اس کی موت سے منسوب ہے۔ میرے جیسی اولادوں کے لئے، ان کی مائیں صندل کے درخت ہی ہوتی ہیں۔ جب تک زندہ رہتیں ہیں، اتنی گھنی چھپر چھاؤں میں رکھتی ہیں کہ ان کے وجود کی مہک، اس کا اثر اور طاقت نظروں سے پوشیدہ اور دل سے دور ہوتی ہے۔ لیکن جیسے ہی دنیا سے رخصت ہوتی ہیں، ان کی محبت کی آکاس بیل آپ سے لپٹ جاتی ہے۔ ان کی جنگلی پھولوں سی آوارہ خوشبو آپ کے گرد نا دیدہ حصار باندھ لیتی ہے۔

اور اگر موت کے بعد ، آپ کی ماں کی خوشبو کا آسیب آپ کو چمٹ جائے تو آپ باورچی خانے میں کھڑے ہوں تو پیچھے سے کوئی ہاتھ پکڑ کر آپ کی غلطیاں سدھارنے لگتا ہے۔ آپ گھر کے کسی کونے میں بیٹھیں ہوں اور چھتوں، دیواروں، پنکھوں کے سارے جالے آپ ان کی آنکھوں سے دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ آپ پکانے کچھ لگے ہوں اور بینگن کا دیسی گھی اور دہی والا بھرتہ، ٹینڈے گوشت، چھوٹے چھوٹے شوربے والے آلو، پراٹھے، دہی بلو کے مکھن نکالنے لگ جاتے ہیں۔ تندور میں بنی سرخ چپڑی روٹیاں یاد آنے لگتی ہیں۔ بہترین، بجلی سے چلنے والے، پانچ چولہوں کے آگے کھڑے ہو کر مٹی کی ہانڈی میں پکانے کی چاہ مضطرب کرنے لگتی ہے۔ گھر سے لے کر دنیا کے کسی کونے میں جاؤ اور ہر جگہ واش روم کی صفائی کے لئے وہمی ہونے کی حد تک کنسرن کرنے والے ہو جاتے ہیں۔

آپ دنیا کے کیسے ہی سفروں پر چلے جائیں، کتنی ہی پر تعیش زندگی گزاریں، کتنی ہی رونقوں کا حصہ بنیں، کتنی ہی اعلی کھانوں کو دہن سے معدے میں اتاریں۔ اور پھر بھی سات سمندر پار بسنے والی، دیسی گھی کی چوری کھلانے والی، کڑے وقتوں میں دعا اور محبت کا آسرا دینے والی، اپنے جسم کی گرمی سے اندیشوں، وسوسوں، ناکامیوں اور ملال کی ساری ٹھنڈک کو چوسنے والی کو یاد کریں۔ اور اتنا یاد کریں کہ آنکھ میں نمی آ جائے، اور دل پگھلا رہے۔ اور زبردستی اس کی یادیں آپ کے دل و دماغ پر حاوی ہوں۔ تو مان لیں کہ آپ کو ’ماں کی محبت کا سایہ‘ ہو گیا ہے۔ اور اس جن کو بھگانے کا ’دارو‘ اور منتر کسی کے پاس نہیں۔

Facebook Comments HS