خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
گزشتہ دنوں ریاست پاکستان میں جس طرح کے دلدوز مناظر دیکھنے میں آئے وہ ہرگز کوئی خوش کن مناظر نہیں تھے اور نہ قابل تعریف بلکہ قابل مذمت ضرور ہیں جس طرح ریاست کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور دھوئیں کے بادل آسمان پر چھا گئے ان بادلوں کو دیکھ کر ہر وہ سچا پاکستانی اشکبار ہو گیا جس کو پاکستان سے اٹوٹ محبت ہے اور وہ ریاست پاکستان کی سلامتی پر اپنی جان چھڑکتا ہے۔ ریاست پاکستان کے خلاف جس وقت یہ واردات ہو رہی تھی میں گاؤں میں تھا اور محدود ذرائع ابلاغ کے ذریعے جو کچھ دیکھنے کو ملا اس پر دوردراز دیہات میں بسنے والے پاکستانی بھی غمزدہ دکھائی دیے۔
خطہ پوٹھوہار نہایت مردم خیز ہے اور یہاں کے دیہات میں رہنے والے لوگوں کا ذریعہ روزگار کھیتی باڑی کے علاوہ فوج کی ملازمت بھی ہے کوہستان نمک کے اس جفا کش علاقے سے جوان سے لے کر جرنیل تک فوج میں اپنی خدمات ادا کر رہے ہیں وہ اور ان کے اہل خانہ افواج پاکستان سے غیر مشروط محبت اپنی زندگی کا لازمی جزو سمجھتے ہیں۔ جب بھی فوج کی کوئی گاڑی گاؤں کی بڑی شاہراہ سے گزرتی ہے تو بچے بوڑھے فوجی جوانوں کو سیلوٹ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں گاؤں میں گزرے بچپن کے دنوں میں میں نے خود بھی یہ فرض سرانجام دیا ہے اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے بھی لگائے ہیں۔
گاؤں کا کوئی فوجی جوان جب چھٹی پر گھر آتا ہے تو اس سے فوج کی زندگی کے شب و روز کے قصے ذوق و شوق سے سنے جاتے ہیں جن سے ملک کے دور دراز علاقوں میں بسنے والے دیہاتی اپنے اندر ایک نیا ولولہ، حوصلہ اور طاقت پاتے ہیں اور افواج پاکستان سے اپنی محبت کو تازہ کرتے ہیں۔ اس خطہ میں کوئی قبرستان ایسا نہیں ہے جس میں شہداء مدفون نہ ہوں جنہوں نے دفاع وطن کی خاطر اپنا آج آئندہ نسلوں کے لئے قربان کر دیا۔
پاکستان میں سیاست کے گرم بازار میں ہر سیاسی نمائندہ اپنی اپنی بولیاں بول رہا ہے ریاست پاکستان کے مفاد کو پس پشت ڈال کر صرف اور صرف اپنے اقتدار کی بات کی جا رہی ہے۔ عوام ان کے طرز سیاست کو بغور دیکھ رہے ہیں اور وہ وقت دور نظر نہیں آ رہا کہ عوام اس نتیجہ تک پہنچ جائیں گے کہ ریاست سے سیاست کو مقدم رکھنے والے کون لوگ ہیں اور یہ سب کچھ کن مقاصد کے حصول کے لئے کیا جا رہا ہے اور درپردہ کیا پنپ رہا ہے۔ تحریک انصاف حکومت کی گزشتہ برس رخصتی کے بعد عمران خان نے سیاسی میدان میں جو افراتفری پھیلا رکھی ہے اس سے عوام الناس میں اپنے رہنماؤں کے متعلق رائے قائم کرنے میں ابہام پایا جاتا ہے اور وہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ کون صحیح راستے پر ہے کون عوام کا حقیقی خیر خواہ ہے لیکن بحیثیت مجموعی قوم ایک ایسی دلدل میں پہنچ چکی ہے جس سے نکلنے کا فی الحال کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا اور نہ ہی کوئی بہتری کے راستے کی طرف رہنمائی کر رہا ہے۔ ایک طرف ہوشربا مہنگائی نے عوام کے اوسان خطا کر رکھے ہیں تو دوسری طرف سیاست دانوں نے قوم کو صحیح اور غلط کے مخمصے میں ڈال رکھا ہے یہ فیصلہ وقت ہی کرے گا کہ کون صحیح راستے پر تھا اور کون قوم کو بھٹکا رہا تھا۔
لیکن کیا بدقسمتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ہی یہ دن بھی دیکھنے تھے کہ پاکستانی قوم کا ایک گروہ اپنی خواہشات کے تابع ہو کر اس قدر آگے بڑھ گیا کہ اس نے اپنی ہی افواج کی تنصیبات، شہداء کی یادگاروں اور گھروں پر حملہ کر دیا۔ حملہ آور گروہ یہ لاکھ کہتا رہے کہ اس احتجاج کی آڑ میں شر پسند عناصر نے افواج پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے لیکن حالات و واقعات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ عمران خان کی گرفتاری پر احتجاج کرنے والے گروہ کے سرکردہ رہنماء اپنے پیرو کاروں کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہے جس کا نتیجہ پاکستانی قوم اور دنیا بھر کے سامنے ہے۔ بلاشبہ جو کام ہمارا ازلی دشمن ہندوستان گزشتہ پچھتر برس میں نہ کر سکا وہ ہم نے اپنے ہاتھوں خود کر دکھایا اور اب اس پر ندامت کی بجائے بونگی اور لایعنی تاویلیں پیش کر رہے ہیں لیکن اب ان تاویلوں کو اس گروہ کے اپنے پیروکار بھی ماننے کو تیار دکھائی نہیں دیتے کیونکہ ایک نکتے پر ہی تو پاکستانی قوم ہمیشہ متفق رہی ہے اور وہ نکتہ افواج پاکستان کی غیر مشروط محبت اور حمایت کا ہے جس پر قوم کبھی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتی۔
عمران خان کی گرفتاری پر جو عوامی ردعمل سامنے آیا وہ ایک فطری عمل تھا کسی بھی جماعت کے کارکن اپنے لیڈر سے لگاؤ رکھتے ہیں اور اس کے اچھے یا برے فعل کا دفاع کرنے پر ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں کیونکہ وہ ان کے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہ عوامی ردعمل جب پر تشدد شکل میں ڈھل گیا اور ہجوم نے پر امن احتجاج کی بجائے آگ بھڑکا دی تو ملک بھر میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال نے پوری قوم کو پریشان کر دیا۔
حکومت اور افواج پاکستان کی جانب سے ان پر تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کی کارروائیوں پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا بلکہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا گیا شاید کسی دانشمند نے بروقت مشورہ دے دیا ہو گا اور ملکی سلامتی کے اداروں نے اس مشورے پر عمل بھی کر دیا۔ حکومتی مشینری نے ملک بھر میں سوشل میڈیا کی بندش کا فیصلہ بھی بروقت کیا جس سے افواہوں اور پر تشدد کارروائیوں کے آگے بند باندھنے میں خاطر خواہ مدد ملی اگر یہ فیصلہ بروقت نہ کیا جاتا تو شاید ریاست کا بہت زیادہ نقصان ہو جاتا۔ عدالت عظمیٰ نے بھی اس انتشار میں اپنا کردار ادا کیا اور عمران خان کو وقتی طور پر عدالتی ریلیف فراہم کر کے جلتی آگ کو بجھانے کی عملاً کامیاب کوشش کی جس کے بعد ملک میں امن و امان کی صورتحال میں یکایک بہتری آئی اور حالات معمول پر آنا شروع ہو گئے۔
تحریک انصاف کی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے ملک بھر میں جو آگ بھڑکائی اس نے ہر اس درد مند پاکستانی کو رلا دیا ہے جو اپنے وطن اور اس کی محافظ افواج سے محبت کرتا ہے۔ ریاست پاکستان کے مختلف شہروں سے آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بلند ہوتے بادل اپنے ہدف کو خاکستر کر کے بجھ ضرور گئے ہیں لیکن اس راکھ کی چنگاریاں محب وطن پاکستانیوں کے دلوں کو مسلسل جلا رہی ہیں۔ فیض ؔصاحب کی نظم کا ایک بے مثال شعر ہمارے آج کے حالات کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد


