ریلوے اسٹیشن پر تین مناظر؟ پہلی قسط
14۔ اگست 2019 کو راولپنڈی جانے کے لیے لاہور ریلوے اسٹیشن پر دو بجے پہنچا۔ گاڑی کی روانگی کا وقت ساڑھے چار بجے تھا۔ پلیٹ فارمز پر وقفے وقفے سے کسی نہ کسی گاڑی کی آمد یا روانگی کا اعلان بذریعہ لاؤڈ سپیکر کیا جا رہا تھا۔ ایک ہی گاڑی کی آمد کا اعلان چار مرتبہ ہو رہا تھا۔ تین دفعہ اردو میں ایک دفعہ انگریزی میں۔ پنجابی میں ایک دفعہ بھی نہیں امر واقعہ یہ ہے کہ لاہور کی مجموعی عوامی زبان ابھی تک پنجابی ہے۔ یہ اعلانات معمول سے ہٹ کر ، واضح طور سامعین کے، کانوں تک پہنچ رہے تھے۔ شاید اس لئے کہ الیکٹرانک سپیکروں نے پرانے بھونپو کی جگہ لے لی ہے۔
پلیٹ فارم پر مسافروں کا تنوع دیکھنے کو نہیں مل رہا تھا۔ عموماً مڈل کلاس کے لوگ ہی منڈلا رہے تھے۔ اپر کلاس یا نچلے طبقے کے مسافر نظر نہیں آ رہے تھے۔ میں حیران ہوا کہ پسماندہ لوگ کیوں نہیں؟ جن سے اظہار یکجہتی کے لیے گاندھی نے اپنا لباس مختصر کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ’برصغیر میں، ببانگ ملاں یہ خوشنما اعلان سننے کو ملتا رہا کہ ذات پات کا نظام آج سے 1400 سو سال پہلے ختم ہو چکا ہے۔ ‘ یہ اعلان ہر جگہ کیوں نہیں پہنچا؟ جدید کاروں میں سفر کرنے والے ماڈرن لوگ کون ہیں؟ کیا وہ ہم میں سے ہیں؟
ایک ثانیے مجھے خیال آیا کہ ٹکٹ واپس کر کے، ائر کنڈیشنڈ بس میں سفر کر لیتا ہوں تاکہ جتنی دیر یہاں انتظار کرنا ہے، اتنے میں آدھی مسافت طے ہو جائے گی۔ میں ویش (لوئر مڈل کلاسیا ) ہو کر بھی برہمنوں (اپر کلاسیوں ) میں شامل ہو نا چاہتا تھا جن کی خاطر (مسلمان ) کھتریوں نے ( مسلمان) شودروں کی جسمانی مشقت سے ’موٹر وے‘ بنا دی ہے۔ لیکن ریل گاڑی سے میری بچپن کی انسیت نے مجھے یاد دلایا۔ ’بچپن کی محبت کو دل سے نہ بھلا دینا۔‘
ایک بات نوٹ کرنے والی تھی کہ ریل گاڑیوں کے آمدو رفت کے اوقات دیواروں پر درج نہیں تھے۔ نہ ہی کرایہ نامے آویزاں تھے۔ دوسری بات یہ کہ کھانے پینے کی اشیا ء کھلم کھلا ٹھیلوں پر دستیاب نہیں تھیں۔ آپ کا کلفی کھانے کا من چاہ رہا تو مت ادھر ادھر کان لگائیں کہ قلفی بیچنے والا ”قلفی کھوئے ملائی والی“ صدا لگاتا آپ کے قریب سے گزرے گا اور آپ لپک کر بیس روپے والی قلفی تیس روپے میں خرید لیں گے۔ اگر آپ پکوڑے کھانا چاہتے ہیں تو خاطر جمع رکھیے۔ کڑاہی کے اندر تیل میں ’کھد کھد‘ کرتے، حدت سے پہلو بچاتے مختلف الاشکال پکوڑے، کسی پلیٹ فارم پر نہیں ہیں۔
مکئی کے بھٹے، ابلی چھلیاں، بھنے ہوئے کشمیری یا مکئی کے دانے، پاپ کارن، دہی کی لسی آسانی سے نہیں ملے گی۔ ”نان ٹکی والے“ کی صدا لگانے والے بساطی بھی کہیں نہیں۔ تاہم ایسی اشیا فروخت کرنے والوں نے اپنے ایجنٹ ضرور چھوڑ رکھے تھے جو مسافروں کے قریب آ کر راز داری سے پوچھ لیتے۔ ”پکوڑوں کا من چاہ رہا ہے؟ لا دوں؟“
قلی فاسٹ فوڈز کے مختلف نمونے ٹرے پر سجائے چلتے پھرتے نظر آ رہے تھے۔ ہوٹلوں کے کارندے مینیو کے پرنٹڈ اوراق لہراتے، ”روسٹ چکن، چکن کڑاہی، ملائی بوٹی“ ہانکتے آرام گاہ میں مسافروں کے آرام میں مخل ہو رہے تھے۔ جونہی کوئی خاتون ہانک سنتی تو وہ اترا اترا کر ، بچوں کی آڑ میں اپنے خاوند کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی لیکن متوجہ کسی اور کا خاوند ہو جاتا۔ امراء کے بچوں بچیوں کی فاسٹ فوڈ سے لگاؤ کی خاطر پلیٹ فارم 2 پر ایک دکان‘ پیزا ہٹ ’کے نام سے موجود ہے۔
درجہ دوئم و سوئم کے مسافر وہاں جاتے ہوئے جھجک رہے تھے کیونکہ کھڑکیوں کے شیشوں پر سیاہ رنگ اس پر اجنبیت کا سایہ چڑھا رہا تھا۔ پلیٹ فارم 3 پر میڈیکل سٹور کی سہولت بھی دیکھی گئی جہاں کھانسی، بخار کی دوائی، سردرد کی گولیوں اور گلے کی خراش دور کرنے والی گولیوں اور ہینڈ سینی ٹائزر کے علاوہ اگر کچھ وافر دستیاب ہے تو وہ ماسک ہیں۔ آج کل کوویڈ 19 (کرونا) وبا کا زمانہ ہے۔ اس سے بچاؤ کی ایک تدبیر سماجی فاصلہ ( 5 فٹ) رکھنا ہے، دوسری احتیاط دن میں صابن سے کم از کم بیس سیکنڈ تک بار بار ہاتھ دھونا ہے اور تیسری احتیاط ماسک کا استعمال ہے بشرطیکہ اس کے سوراخوں میں سے وائرس آر پار نہ دیکھ سکیں۔
آج کل، ریلوے اسٹیشن قید خانہ لگ رہا ہے۔ صرف ایک در کھلا ہے، جہاں دیو ہیکل واک تھرو گیٹ نصب ہے۔ مسافروں کو ہمراہ اپنے سفری بیگز کے اس گیٹ سے گزرنا ہوتا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ وہ کسی دھاتی یا الیکٹرانکس شے کی موجودگی کے باوجود ’ٹوں ٹوں‘ کرتا ہے یا نہیں۔ ایک سپاہی میٹل ڈیٹیکٹر پکڑے واک تھرو گیٹ کے ادھر نیم چاق و چوبند کھڑا ہے۔ اس وقت سپاہی میں اچانک توانائی آ جاتی ہے جب کوئی ڈھیلے ڈھالے کپڑوں میں ملبوس مسافر افلاس زدہ خواتین کے ساتھ نظر آ جاتا ہے تو ان کے جسموں پر میٹل ڈیٹیکٹر مس کرنا اپنا فرض جاننے لگ جاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بم جب بھی پھٹے گا، اسی محروم طبقے کی وجہ سے پھٹے گا، جو عرصے سے دھماکے سہ رہا ہے۔
اسٹیشن کا حلیہ کچھ تو بدل دیا گیا ہے اور باقی تبدیلی کے مراحل میں ہے۔ کیوں نہ ہو ”تبدیلی آئی ہے۔ پی ٹی آئی ہے۔“ یہاں کبھی آزاد ماحول کا احساس ہوتا تھا۔ سارے در کھلے دل سے خوش آمدید کہتے تھے۔ مسافروں کے ہمراہ آئے بچے بلا جھجک کلانچیں بھرتے نظر آتے۔ ریل گاڑیوں کی آمدورفت کے جدول آویزاں ہوتے۔ ہر کلاس کا کرایہ نامہ، اپنے اپنے مخصوص رنگ میں، ٹکٹ گھرکی، دیوار پر تحریر ہوتا تا کہ لوگ اپنی حیثیت کو پہچان کر ٹکٹ خریدیں۔
کئی بزرگ اپنی جنتری نکال کر کرایہ نامہ اپ ڈیٹ کر رہے ہوتے۔ مسافروں کا سامان اٹھانے والے قلیوں کی فی پھیرا اجرت بھی جلی حروف میں تحریر ہوتی۔ برینڈ پہن کر پنڈلیاں واضح طور پر دکھانے والی کا فرشیں، سرکاری ریٹ سے زیادہ اجرت دے کر قلیوں کو مڈل کلاسیوں کی پہنچ سے دور کر رہی ہوتیں۔ قلی ایسی جادوائی خواتین کے انتظار میں گھات لگائے بیٹھے ہوتے۔ اب حال میں ایسی رحمتیں بکھیرتی ہستیاں دیکھنا محال ہو رہا ہے۔


