کچھ نہیں ہو گا، یہ تو روٹین ہے


”بھائی جان! اگر میسج کرنا بہت ضروری ہے تو گاڑی کھڑی کر کے کر لیں۔“
”نہیں۔ کچھ نہیں ہوتا یہ تو ہماری روز کی روٹین ہے۔“

ہم نے رکھ رکھاؤ کے ساتھ اپنے میزبان کو توجہ دلائی جو لندن کی اے تھری پر تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے ایک ہاتھ سے ٹیکسٹ میسجز کرنے میں مصروف تھے۔

لیکن وہاں سے جو جواب عنایت ہوا تھا وہ تو اور خوفناک تھا کہ موصوف اس عمل سے باز رہنے کے بجائے اس پر مصر تھے۔ ہم نوبت بجاں تھے جبکہ وہ اسے اپنا کارنامہ شمار کر ر ہے تھے۔

ہم آئے روز گاڑی ڈرائیور کرتے ہوئے موبائل فون کا استعمال ہوتے دیکھتے ہیں۔ ایسا کرنے والوں میں سے ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ کچھ نہیں ہو گا۔ یہ تو روٹین ہے۔ رستہ میرا دیکھا بھالا ہے۔ لیکن جب کچھ ہوتا ہے تو پھر وہ دوسروں کو بتانے کے لائق بھی نہیں رہتا کہ محتاط رہو! بہت کچھ ہو سکتا ہے۔

حادثہ تو کسی بھی جگہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے وقت مقرر ہے نہ جگہ۔ اگر ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے تو صرف احتیاط کرنا اور ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا ہے۔ راستے کے حقوق ادا کرتے ہوئے دوسرے کا احترام کرنا بھی حادثات کو کم کر سکتا ہے۔ لیکن جب ایک دوسرے آگے نکلنے کی ٹھن جائے تو پھر حادثات کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ سوال ہمیشہ حل طلب رہے گا کہ سڑک پر چلتے ایک انجانی گاڑی کے ڈرائیور سے اس کی رفتار کی وجہ سے ہمیں کون سا مرض لاحق ہو جاتا ہے کہ آنا ًفاناً مقابلہ کرنے کی روح اچھل پڑتی ہے۔ نہ ہمیں اس کی منزل کا علم نہ اس کی تیز رفتاری کی وجہ معلوم۔ پھر بھی صرف اس وجہ سے کوئی گاڑی ہمیں پیچھے چھوڑ کر آگے کیوں نکل گئی بعض اوقات اپنی رفتار خطرناک حد تک تیز کر کے موت سے اٹکھیلیاں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

کئی ملکوں کی ٹریفک سے واسطہ پڑا۔ سب سے خوشگوار تجربہ گھانا میں ہوا۔ ہماری بس کی ایک اور بس سے کسی قدر ٹکر ہو گئی۔ دوسری بس کے سائیڈ مرر کو نقصان پہنچا۔ دونوں بسیں رک گئیں۔ ڈرائیورز نیچے اترے۔ موقع دیکھا۔ ایک دوسرے سے سوری برادر بولا اور واپس اپنی اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھ گئے۔ ہجوم اکٹھا ہوا نہ راہ چلتے مسافروں کے بھانت بھانت کے مفت مشورے سنائی دیے۔ ٹریفک جام ہوا نہ کوئی تکلیف میں پڑا۔ پندرہ برس اس واقعہ کو گزر گئے لیکن موقع ایسا ذہن نشین ہوا کہ ابھی بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔

کانگو کے دارالحکومت کنشاسا کی ٹریفک کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جس نے اس شہر میں کامیابی سے گاڑی چلا لی وہ دنیا کے کسی خطہ میں بھی ڈرائیو کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ سوا کروڑ آبادی کا شہر۔ بے انتہاء ہجوم، راستوں کی قلت، ہر وقت بے ہنگم ٹریفک۔ اس پر مستزاد نان جویں کے متلاشی ٹریفک وارڈن۔ الامان الحفیظ۔ کوئی گاڑی ایسی نظر نہ آئے گی جو اپنے کسی نہ کسی حصہ سے بزبان حال قصہ ستم گراں نہ سنا رہی ہو۔

کچھ سالوں بعد پاکستان کا چکر لگا تو ٹریفک کے اصولوں کی عجیب صورت گری ملاحظہ کو ملی۔ دسمبر کے دن، دھند کے آثار، صبح سات بجے کا وقت موٹر وے تک تو سفر بآسانی گزرا، اس کے بعد چھوٹی سڑک پر گنے کی ٹرالیاں، سڑک کے ٹوٹے کنارے اور کھڈے، اس پر ہر آنے جانے والے کو بے تحاشا جلدی۔ پہلے تو ڈرائیور کو کہنے لگے کہ اپنی نہیں تو ہماری جان پر کچھ رحم کرو لیکن یہ دیکھ کر خاموش رہے اور آنکھیں موند لیں کہ اس کا ایسی کوئی بات سننے کا موڈ نہیں تھا۔

ٹریفک حادثات کا باعث بننے والے عناصر میں کم عمر بچوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا، گاڑی کی مناسبت مرمت پر توجہ نہ دینا، نیند کا غلبہ، ذہنی و جسمانی تھکاوٹ، غصہ، کم قیمت اور ادنی معیار کے ٹائرز پر کمپرومائز کر لینا۔ وغیرہ کئی امور شامل ہیں۔

یاد رہے ہر ٹائر پر ایک چوکھٹے میں چار عدد لکھے ہوتے ہیں جو اس ٹائر کے بننے کی تاریخ کی اطلاع دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر چوکھٹے میں چار عدد یوں لکھے ہیں 1120 تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ٹائر سال 2020 کے گیارہویں ہفتے یعنی مارچ 2020 میں بنا تھا۔ عام طور پر ایک ٹائر کی عمر تین سال ہوتی ہے۔ اگر آپ کو اس بات کا علم ہی نہیں تو ممکن ہے آپ مارچ 2023 میں اپنی دانست میں نیا لیکن ایکسپائر ٹائر خرید رہے ہوں۔ جو کسی وقت بھی آپ کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ پھر ہر ٹائر پر وزن کی گنجائش اور اس میں بھری جانے والے ہوا کی مقدار درج ہوتی ہے۔ ہوا کی مقدار مقررہ شرح کے مطابق ہی رکھنی چاہیے۔ ٹائر میں ہوا کی مقدار کم یا زیادہ دونوں صورتوں میں خطرناک ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے پندرہ مئی سے شروع ہونے والے سڑک حادثات سے تحفظ کے عالمگیر ہفتے کا مقصد بھی حادثات سے بچنے کی ترغیب دینا اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو کم کرنا ہے۔

ایک سو پچپن سال قبل پہلی ٹریفک لائٹ دسمبر 1868 میں لندن میں نصب کی گئی تھی۔ لیکن آج تک ہمیں وقت کے ضیاع کا سب سے زیادہ احساس ٹریفک لائٹ پر رک کر ہوتا ہے۔ اور بہت دفعہ چند لمحات کو بچاتے بچاتے کئی قیمتی جانیں ہمیشہ کے لئے آنجہانی ہو جاتی ہیں۔ زندگی بہت قیمتی ہے اور دوبارہ کوئی چانس نہیں۔ اس قیمتی متاع کو چند لمحوں کی غفلت اور پاگل پن کی نذر مت کریں۔

Facebook Comments HS

One thought on “کچھ نہیں ہو گا، یہ تو روٹین ہے

  • 26/05/2023 at 12:50 صبح
    Permalink

    عموماً ٹائرز کی مدت کم از کم پانچ سال جبکہ کچھ خاص اس سے زائد مدت کے لیئے بھی بنتے ہیں۔
    یوکے میں عرصہ پانچ سال سے موبائل کے استعمال پر سخت ترین قوانین لاگو ہیں۔ کسی ایسے مقام کا برسبیل تذکرہ ذکر بھی مضمون کی صحت کو مشکوک کر دیتا ہے جہاں ایسے کسی واقعے کا پذیر ہونا محال ہو۔

    مضمون لکھنے کے لیئے کچھ اہم نکات پر تحقیق ضروری معلوم ہوتی ہے۔

Comments are closed.