خواتین کا مقام اور اہمیت


عورت خواہ ماں ہو یا بہن، بیوی ہو یا بیٹی، اسلام نے ان میں سے ہر ایک کے حقوق و فرائض کو تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ عورت کے معاشرتی مقام اور اس کے کردار کی اہمیت کا اندازہ جہاں قرآن پاک کے واضح احکامات سے ہوتا ہے وہاں حضور نبی کریم ﷺ نے عورت کے مختلف کرداروں کی جو اہمیت بیان فرمائی ہے وہ بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام خواتین کو اس کی مختلف حیثیتوں میں کتنی اہمیت دیتا ہے۔ اس تلخ حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ اسلام سے قبل عرب معاشرے میں بالخصوص اور دیگر معاشروں میں بالعموم خواتین کا بے پناہ استحصال ہوتا تھا حتیٰ کہ ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک روا رکھا جاتا تھا۔

بچیوں کو زندہ گاڑھنا اور خواتین کو زندہ رہنے کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جاتا تھا البتہ جب عرب کے ریگزاروں میں اسلام کا ظہور ہوا تو ان کی معاشرت کے بہت سے دیگر پہلوؤں کے ساتھ ساتھ خواتین سے متعلق احکام الٰہی کے نزول کی روشنی میں خواتین کی زندگی بھی یکسر بدل گئی اور کل تک جن خواتین کو راندہ درگاہ سمجھا جاتا تھا اب وہ عزت و تکریم کی نشانی بن گئیں۔

اسی طرح جب ہم کبھی پختون معاشرے کے تاریک پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں تو وہاں بھی ہمیں عرب دور جاہلیت کی طرح عمومی طور پر خواتین ظلم و زیادتی اور سماجی عدم مساوات کی شکار نظر آتی ہیں۔ خواتین کے حقوق اور مسائل کے حوالے سے ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کے ساتھ سماجی طور پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کو نا سمجھی یا پھر غلط فہمی یا پھر شاید دانستگی کی بنیاد پر بلا سوچے سمجھے اسلام کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے اس ضمن میں مغربی معاشرے کی اپروچ اور پروپیگنڈا تو قابل فہم ہے لیکن بدقسمتی سے بسا اوقات مسلمان معاشروں سے بھی اس طرح کی آوازیں اٹھتی نظر آتی ہیں جو یقیناً ناقابل فہم ہی نہیں بلکہ قابل مذمت بھی ہے۔

اس پروپیگنڈے کی تازہ مثال افغان طالبان کی جانب سے انتظامی بنیادوں پر بچیوں کی تعلیم پر کچھ عارضی پابندیاں اور خواتین کے روزگار کے حوالے سے کیے جانے والے کچھ فیصلے ہیں حالانکہ طالبان اس حوالے سے بارہا یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ وہ ایک عبوری انقلابی دور سے گزر رہے ہیں اور حالات جیسے ہی سازگار ہوں گے ان کے لیے بچیوں کے لیے مخصوص تعلیمی اداروں میں حصول تعلیم پر نہ تو کوئی اعتراض ہو گا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی مزید پابندیاں لگائی جائیں گی۔

جہاں تک اسلام میں خواتین اور ان کے حصول تعلیم کی اہمیت کا تعلق ہے تو اس سے نہ تو انکار کی گنجائش ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے ایسی کوئی مثال پیش کی جا سکتی ہے جس میں خواتین کی تعلیم پر پابندی کا کوئی معمولی سا شائبہ تک پایا جاتا ہو۔ اس بات میں کوئی دو آراء نہیں ہیں کہ اسلام نے ویسے تو علم کو مرد و عورت دونوں کے لیے فرض قرار دیا ہے البتہ لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ دلائی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ خواتین کا بچوں کی تعلیم و پرورش میں کلیدی کردار ہے۔

خواتین پر چونکہ نسل انسانی کی بقا کا دار و مدار ہے اور سماجی ترقی میں ان کا ایک واضح اور مسلمہ مقام ہے اس لیے اسلامی تعلیمات میں ہمیں جابجا خواتین کی اہمیت اور ان کے مقام و مرتبے کے حوالے سے مثالیں ملتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی، انہیں تعلیم و تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسن سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔ دنیا کے بیش تر معاشروں نے عورت کو معاشی حیثیت سے بہت ہی کمزور رکھا اس کی یہی معاشی کمزوری اس کی مظلومیت اور بیچارگی کا سبب بن گئی۔

مغربی تہذیب نے عورت کی اس مظلومیت کا مداوا اسے معاش کی تلاش میں گھر سے نکال کر انہیں فیکٹریوں، بازاروں اور دوسری جگہوں پر کام پر لگادیا۔ ان حالات میں اسلام نے اعتدال کی راہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسلامی احکامات کے تحت عورت کا نان و نفقہ ہر حالت میں مرد کے ذمے ہے۔ اگر عورت بیٹی ہے تو اس کا نان نفقہ باپ کے ذمے ہے۔ بہن ہے تو بھائی کے ذمے، بیوی ہے تو شوہر پر اس کا نان و نفقہ واجب کر دیا گیا ہے اور اگر ماں ہے تو اس کے اخراجات اس کے بیٹے کے ذمے ہیں۔

اسی طرح عورت کا حق مہر ادا کرنا مرد پر لازم قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ:عورتوں کو ان کا حق مہر خوشی سے ادا کرو، اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ حصہ تمہیں معاف کر دیں تو اسے خوشی سے کھاؤ۔ بعض معاشروں میں وراثت میں عورت کا کوئی حق تصور نہیں کیا جاتا لیکن اس کے برعکس اسلام نے وراثت میں عورتوں کا باقاعدہ حصہ مقرر کر رکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں اچھے ہیں اور اپنے اہل و عیال سے لطف و مہربانی کا سلوک کرنے والے ہیں۔ لہٰذا ان تعلیمات سے پتا چلتا ہے کہ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے جو عزت و عظمت اور بلند مقام عطا فرمایا ہے اس کی مثال دنیا کا کوئی دوسرا معاشرہ پیش نہیں کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS