سول سروس کا چھپا رستم

یہ ستمبر 2010 کا ذکر ہے۔ لاہور میں 131 شرکا کی بڑی تعداد کے ساتھ آٹھویں ایس ایم سی کا آغاز ہوا۔ کورس میں بڑی تعداد سی ایس ایس افسران کی تھی جن میں تمام سروسز کے گریڈ 19 کے افسران شامل تھے۔ میرے سمیت تقریباً دس فی صد افسران کا تعلق چاروں صوبائی سروسز سے تھا۔
سہالہ کالج میں ایک بار مختلف صوبوں سے ہم سات ڈی ایس پی ایک مختصر کورس میں شامل تھے۔ ہمارے لیے وقفے میں چائے وغیرہ کا بندوبست کرنے والا اردلی ہر وقت کنفیوزڈ سا پایا جاتا تھا۔ اس پر پنجاب سے ایک ساتھی نے ہم کے پی والوں کو سمجھایا تھا کہ پنج دریاؤں کی دھرتی میں کسی ایک ڈی ایس پی کا دیدار کسی پیر فقیر کی دعا والے بندے کو ہی حاصل ہو پاتا ہے۔ اردلی بیچارہ روزانہ ایک ساتھ سات ڈی ایس پی اکٹھے دیکھتا ہے۔ مسکین اپنے حواس کیونکر بحال رکھے۔
اس مسکین نے بھی پہلی بار ایک چھت کے نیچے ایک ساتھ اتنے سی ایس پی افسران دیکھے تھے جو روزانہ لیکچر ہال میں اکٹھے ہوتے تھے۔ کیا اتفاق تھا کہ اپنے اپنے مقام کی نسبت محمود و ایاز کی تفریق پر یقین رکھنے والے ایک ہال میں صف بند پائے جاتے تھے۔
اس کے علاوہ بھی ایک صف بندی طعام گاہ سے ملحق برآمدے میں دن میں کئی مرتبہ اس وقت ہوتی تھی جب سماعتوں سے یہ صدا ٹکراتی ”آؤ نماز کے لیے ، آؤ بھلائی کی سمت“ جماعت کوئی نہ کوئی ٹرینی افسر کراتا تھا۔ اس جادہ ثواب پہ کوشش کے ساتھ آگے آنے والوں میں ملک تنویر صاحب کا نام نمایاں تھا۔ آپ کا تعلق محکمہ انکم ٹیکس سے تھا۔ زیادہ تر راولپنڈی میں تعینات رہے تھے جو اپنا شہر یاراں تھا۔ گندمی رنگ، متوازن جسم، میانہ قد، جاذب نقش اور بھورے بال جن کا اچھا خاصا حصہ عمر کے ساتھ یاد رفتگاں ہو چلا تھا۔
ایس ایم سی کے بعد میری تعیناتی کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج ہنگو کے طور پہ ہوئی۔ ماسوائے کے پی کے، میں تعینات افسران کے باقی دوستوں سے رابطہ خال خال ہی رہا اور پھر ختم ہی سمجھیے۔
2018 میں فیڈرل ٹیکس محتسب کے دفتر جانا ہوا تو ایک کمرے کے باہر ملک تنویر صاحب کے نام کی تختی دیکھی۔ ملنے چلا گیا۔ بہت وضع داری سے ملے اور کچھ دیر گپ شپ رہی۔ 2022 میں ہری پور سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست زاہد کاظمی نے ذکر کیا کہ وہ ایک کتاب شائع کرنے والے ہیں جو تنویر ملک صاحب نے لکھی ہے۔ کچھ ہی عرصہ بعد اس کتاب کی تعارفی تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ آ گیا جو کاظمی صاحب نے بھیجا تھا۔ تقریب وفاقی ٹیکس محتسب بلڈنگ کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ کتاب ”شہر آشوب تلہ گنگ“ کی ایک کاپی ملک صاحب نے اپنے دستخط ثبت کر کے عنایت کی۔
اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو اسے ایک جہان حیرت پایا۔ ورق ورق تلہ گنگ اور وہاں کی زندگی اپنے رنگ اور ڈھنگ وا کرتی ملی۔ چھوٹے چھوٹے فقروں سے سجے ابواب جن کی زیادہ سے زیادہ طوالت تین صفحات سے بڑھ کے نہ تھی اور ہر صفحے پہ کم از کم دو ایسے دلربا فقرے کہ جن کی ادبی چاشنی کی داد واہ واہ کے سوا اور کیا ہو۔ میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ قریب نصف صدی دفتری انگریزی سے واسطہ رکھنے کے باوجود یہ افسر اردو زبان و بیان کا ایسا چھپا رستم ہو گا۔
اشعار کا بر محل استعمال اور پوٹھوہاری کے الفاظ کو اردو تحریر میں ایسا پرویا کہ ”منجھ دی رسی“ اطلس و کمخواب کی ڈوری بن گئی۔ گاؤں کے نامی لوگوں کے ساتھ ساتھ وہ لوگ جو شاگرد پیشہ تھے اور جن کی معاشرتی حیثیت مجید امجد کے الفاظ میں۔ نہ شہرت مقام ہے نہ رفعت دوام ہے، کی تصویر تھی ان کا ذکر ایسی مہارت سے کیا کہ اشرف صبوحی کی دلی کے کاریگران پکوان گھمی کبابی اور مرزا چپاتی وغیرہ کے خاکوں کی یاد تازہ ہو گئی۔
دوسری طرف علاقائی رسوم و رواج کو یوں بیان کیا کہ قاری کا گماں ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ اس کے سامنے وقوع پذیر ہو رہا ہے اور وہ یوں محو تماشا ہے کہ بقول سودا… ساغر کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں۔
اسی طرح علاقہ کی معروف شخصیات اور یادگار واقعات کا ذکر بھی خوب ہے۔ پہلے ضمن میں کرنل محمد خان کے دور شباب کا ایک واقعہ قابل توجہ ہے اور دوسرے ضمن میں مولانا مفتی محمود کا دوران تقریر قائد اعظم کا بے اعتدالی سے ذکر جس کے ردعمل میں حضرت کو دن میں تاروں کا دیدار ہوا۔ شخصیات کے ذکر کے حوالے سے باب ”جوہراں آلی ماڑی۔ ایسے جیون بھی ہیں جو جیئے ہی نہیں“ میں زیبا کا ذکر اس شعر کی تصویر ہے۔
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیءں ملتا
کہیں زمیں تو کہیں آسماں نہیں ملتا
اسی طرح ”تلہ گنگ کے گنج ہائے گرانمایہ“ میں ایک اللہ لوک کا ذکر یوں کیا۔ ”صاحب فرشتے صرف آسمان پر نہیں بستے، ہم۔ نے انہیں اپنی آنکھوں سے انہیں انسانوں کی بستیوں میں چلتے پھرتے دیکھا ہے۔“
اردو اور پنجابی اشعار کا استعمال ایسی موزونیت کے ساتھ کیا ہے کہ آپ کے ذوق سلیم کا شاہد ٹھہرتا ہے۔ آخری بات، جس کا ذکر پہلے بھی کر چکا ہوں اور مجھے جس نے بہت لطف دیا وہ اردو میں ان پوٹھوہاری الفاظ کی آمیزش ہے جن کا ترجمہ ان کے معانی کی چاشنی کو زائل کر دیتا۔ مثلاً۔ ”سچ کہوں تو پرانا تلہ گنگ دیکھتے ہی دیکھتے وقت کی آویوں ”سے بہ صورت دود چراغ محفل آناً فاناً تحلیل ہو گیا“ ۔
اس لطف نے مجھے مختار مسعود کے ایک قول کی یاد دلائی۔
” جمنا کے کنارے سے لے کر راوی کے کنڈے تک زبان کی جانکاری کے مسئلے پر میری رائے یہ ہے کہ اس کے لیے اہل زبان ہونا ضروری نہیں، زبان کا اہل ہونا ضروری ہے“ ۔

