ترکیہ میں رن آف الیکشن


ترکیہ میں 14 مئی کو صدارتی انتخابات میں کوئی بھی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل نہ کر سکا جس کے بعد دوسرا مرحلہ 28 مئی کو منعقد ہو گا۔ صدارتی انتخاب میں جیت کے لیے امیدوار کو 50 فیصد جمع ایک کی اکثریت حاصل کرنی ہوتی ہے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں رن آف الیکشن ہوتا ہے جس میں پہلے دو امیدواروں میں مقابلہ ہوتا ہے اور اس میں جیتنے والا صدر بن جاتا ہے۔ ترکیہ میں سو سال میں پہلی مرتبہ کوئی الیکشن دوسرے مرحلے کی طرف جا رہا ہے۔ اس بار اردوان کے ووٹ 49.42 اور کمال کلیچ دار اولو کے 44.95 فیصد رہے۔

ترکیہ میں طیب اردوان 2003 سے اقتدار میں ہیں، ان کی جماعت آق (AK) پارٹی مسلسل 10 سے زائد الیکشن جیت چکی ہے، اردوان پہلے وزیراعظم رہے، پھر صدر بن گئے، توقع کی جا رہی ہے کہ رن آف الیکشن میں پھر جیت جائیں گے۔ ترکیہ کے انتخابات کو عالمی میڈیا غیر معمولی قرار دے رہا تھا، طیب اردوان کو ہرانے کے لئے اپوزیشن کی چھ نمایاں جماعتیں متحد تھیں۔ ترکیہ میں ایک طرف طیب اردوان تھے اور دوسری جانب ساری اپوزیشن۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ترکیہ میں ہونے والے نوے پچانوے فیصد سروے غلط ثابت ہوئے۔

جن میں یہ امید ظاہر کی گئی تھی کہ طیب اردوان ہار جائیں گے، 24 اپریل کے ایک سروے کے مطابق اردوان 45.2 فیصد جبکہ کمال 44.9 فیصد ووٹ حاصل کریں گے۔ متحدہ اپوزیشن کے امیدوار چوہتر سالہ کمال قلچ دار اوعلو سابق بیورو کریٹ ہیں۔ اردوان کی جارحانہ خطابت کے مقابلے میں وہ نرم لہجے میں بات کرتے ہیں۔ چودہ مئی کے الیکشن میں طیب اردوان بمشکل آدھے فیصد ووٹ سے صدر نہ بن سکے۔ اتنے زیادہ ووٹ لینے کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ کمال قلیچ دار اوعلو کے ووٹ اردوان سے پانچ چھ فیصد کم ہیں۔ اردوان کے خلاف اس بار یہ منفی فیکٹر تھے جس کی وجہ سے ان کے اندرونی اور بیرونی مخالف ان کی شکست کے بارے میں بہت زیادہ پر امید تھے۔

1۔ ترک معیشت پچھلے کچھ عرصے سے بری طرح متاثر ہے، لیرا ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ سطح تک گر چکا ہے۔

2۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق افراط زر کی شرح ستر سے اسی فیصد اور غیرسرکاری طور پر یہ ڈیڑھ سو سے دو سو فیصد تک تھی جس کے نتیجے میں مہنگائی بہت زیادہ ہوئی۔

3۔ ایک بڑا مسئلہ دس لاکھ سے زائد مہاجرین کا ہے، اردوان نے شامی مہاجرین کو آباد کیا، ان کی ویلفیئر کے انتظامات کیے ، طبی سہولتیں اور وظائف وغیرہ مقرر کیے۔ شامی مہاجرین ترک کلچر میں اڈجسٹ نہیں ہو رہے، استنبول، انقرہ، ازمیر جیسے شہروں میں مقامی آبادی کے لئے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ جرائم کے ساتھ ساتھ ہر شہر میں بھکاریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

4۔ معیشت کی بہتری کے لئے اردوان نے غیر ملکیوں کو انویسٹمنٹ کے عوض شہریت اور پراپرٹی خریدنے کی سہولت دی۔ جس سے سرمایہ تو ترکی میں آیا اور کچھ معاشی فوائد بھی حاصل ہوئے، لیکن اکثر غیر ملکیوں کے ترکیہ میں سیٹل ہونے سے جائیداد کی قیمتیں اور کرائے بڑھ گئے، جس سے مقامی آبادی پریشان ہے۔

5۔ ترکی میں مہاجرین کی واپسی اور تارکین وطن سے شہریت واپس لینے کا نعرہ مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ طیب اردوان کی غیرملکیوں کو ترکیہ کی شہریت ’کاروبار اور جائیداد کی ملکیت کا حق دینے کی پالیسی سے عام آدمی سمجھ رہا ہے کہ ان کے معاشرے کی بنیادی ساخت متاثر ہو رہی ہے۔

6۔ نوجوان نسل تبدیلی کی خواہاں رہتی ہے اور ترکیہ میں چینج یا تبدیلی سے مراد اردوان حکومت کو ہٹانا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت پر بدعنوانی اور آزادی اظہار پر پابندیوں کا الزام بھی لگاتی ہیں۔

7۔ چند ماہ پہلے آنے والا خوفناک زلزلہ تھا جس سے ترکیہ کے کئی شہر بری طرح متاثر ہوئے اور ہزاروں لوگ ہلاک، لاکھوں بے گھر ہوئے۔ عمارتوں کی تعمیراتی معاملات اور امدادی سرگرمیاں بروقت نہ ہونا اور جانی نقصان بڑھنا بھیسن پر تنقید کی وجہ بنی۔

8۔ طیب اردوان بیس سال سے اقتدار میں ہیں ان کے خلاف ترک اپوزیشن کا متحد ہوجانا بھی ایک اہم فیکٹر تھا۔

9۔ چند برس پہلے ترک صدر کے اختیارات میں ریفرنڈم کے ذریعے خاصا اضافہ ہوا اور اس وقت ترکیہ میں سب سے طاقتور عہدہ صدر مملکت کا ہے، سے کے ارتکاز پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔

10۔ ایک بڑا تنقیدی نکتہ اردوان کی طاقت کی مرکزیت اور تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کی مسلسل کوشش ہے۔ ترکیہ میں اختیارات اس وقت صدر کی ذات میں مرتکز ہیں اور یہ اردوان کی اسی پالیسی کا نتیجہ ہے جو ترکیہ کو پارلیمانی سے صدارتی نظام کی طرف لے گئی ہے۔ ایک اور الزام سیاسی مخالفوں کو مقدمات اور قید و بند میں الجھانا ہے۔

طیب اردوان نے ان منفی پہلوؤں اور فیکٹرز کو نہایت عمدگی سے ہینڈل کیا اور اپنی سپورٹ میں اضافہ کیا۔ انہوں نے انتخابات کو صرف معیشت پر مرکوز نہیں ہونے دیا، اپنی مذہبی سپورٹ کو بھرپور انداز سے استعمال کیا۔ مضبوط خارجہ پالیسی کے سبب بھی ترک ان کے مداح ہیں۔ انہوں نے ترکیہ کو امت مسلمہ کے ایک اہم لیڈر ملک کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ ارطغرل سے لے کر خیرالدین باربروسا، سلجوقی اور دیگر تاریخی ڈراموں کے ذریعے انہوں نے ترک قوم پرستی اور اپنے تابناک ماضی کو نمایاں کیا۔

اسی لیے وہ مخالفین پر غالب اور توقعات سے زیادہ ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔ الیکشن کے پہلے مرحلے کے نتائج نے ثابت کر دیا کہ اردوان اب بھی سب پر بھاری ہیں۔ خراب معیشت کے باوجود اردوان نے عوام کو بعض اہم رعایتیں اور سہولتیں دیں۔ سات لاکھ سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں پینتالیس فیصد کے قریب اضافہ کیا۔ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں بڑے ترقیاتی پراجیکٹس کا اعلان کر کے وہاں اپنی سپورٹ بیس برقرار رکھی۔ اقتدار قائم رکھنے کے لئے اردوان مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ کے خلاف عوامی جذبات ابھارنے کے علاوہ، مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک کار Togg T 10 X کی نقاب کشائی، سب سے بڑے جنگی جہاز، جو ملک کی بحری صلاحیتوں کو مضبوط کرے گا، کی نقاب کشائی، انقرہ میں ایک نئی میٹرو لائن کا افتتاح، پہلے مقامی ہائی ریزولوشن ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ، IMECE کی لانچنگ، بحیرہ اسود سے قدرتی گیس کے اخراج کا افتتاح جیسے کام کر کے ووٹروں کو اپنی جانب متوجہ رکھا۔

بحیرہ اسود سے گیس کے اخراج کا جشن منانے کے لئے ایک ماہ کے لیے گھریلو صارفین کو مفت گیس کی پیشکش، اسی طرح ماہانہ 25 کیوبک میٹر تک استعمال کرنے والے گھرانوں کو ایک سال تک مفت گیس کی فراہمی کا وعدہ بھی کیا۔ طیب اردوان نے کووڈ میں مالی بحران کے دوران جب امریکا اور یورپ کی یونیورسٹیوں نے اپنی فیسیں بڑھائیں، اردگان نے حکم نامہ جاری کیا کہ تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تعلیم مفت ہوگی اور سارا خرچہ حکومت برداشت کرے گی۔

اردوان کی قیادت میں ترکیہ نے امریکی انتباہات کے باوجود روس سے S۔ 400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدا اور انتخابی مہم کے دوران 27 اپریل کو روسی مدد سے اکیو نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر مکمل کی۔ یہ ترکی کا پہلا جوہری پاور پلانٹ ہے جس میں 4,800 میگاواٹ اور چار ری ایکٹر نصب کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

بادی النظر میں وہ 28 مئی کو ایک بار پھر ترکیہ کے صدر بن جائیں گے۔ اردوان کو صرف ایک فیصد ووٹوں کی ضرورت ہے۔ ترکیہ کے انتخابات سے کیا ہمارے سیاستدان سبق حاصل کریں گے کہ اردوان کی حکومت کے باوجود الیکشن میں دھاندلی کا عنصر نظر نہ آیا اور اپوزیشن ہی نہیں یورپی یونین نے بھی انتخابات کی شفافیت کی تعریف کی اردوان نے ایک فیصد ووٹ بڑھانے کے لیے کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کیا اور عوامی فیصلہ قبول کرتے ہوئے کہ وہ عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اگلے مرحلے میں جانے کے لیے تیار ہیں۔

” پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ“ کے مصداق اٹھائیس مئی کی ووٹنگ میں اردوان کی قسمت کا فیصلہ ہو گا۔

Facebook Comments HS