پاکستان ایک اور ’سقوط‘ کے کنارے پر!
ہمارے سینئر ترین ایڈیٹر اور اخبار نویس الطاف حسن قریشی صاحب کی کتاب بعنوان ’مشرقی پاکستان ٹوٹا ہوا تارا‘ کو قلم فاؤنڈیشن، لاہور نے شائع کیا ہے جس کو روزنامہ‘ جنگ ’سے وابستہ کالم نگار محمد فاروق چوہان اور روزنامہ‘ خبریں ’کے کالم نویس اور مصنف علامہ عبدالستار عاصم چلا رہے ہیں۔ ان دنوں یہ دونوں صحافی میزبان سرمد خان کی دعوت پر دبئی آئے ہوئے ہیں۔ گزشتہ شب ان سے گفتگو ہوئی تو ہمارا زیادہ تر موضوع کرنٹ افیئرز، موجودہ سیاسی صورتحال اور اسلام کو جدید سائنسی علوم کی روشنی میں سمجھنے کے بارے میں تھا۔ اس دوران سول بالادستی کے حوالے سے ایک خطرناک بات جو میرے علم میں آئی اور جس کو کچھ دیگر سیاسی تجزیہ نگاروں کی زبانی بھی سنا، وہ یہ ہے کہ عمران خان کی گرفتاری اور ان کے اشارے پر 9، 10 اور 11 مئی کو ہونے والے‘ دہشت گردی ’پر مبنی احتجاج کے دور رس منفی نتائج نکلنے کا‘ امکان ’بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ کتاب مشرقی پاکستان کے حوالے سے مصنف کی یادداشتوں پر مشتمل ہے۔ سقوط ڈھاکہ سے قبل الطاف حسن قریشی صاحب کو متعدد بار مشرقی پاکستان جانے کا اتفاق ہوا بلکہ وہ قصدا بھی مشرقی پاکستان کا سفر اختیار کرتے رہے اور وہاں ہفتوں قیام کے دوران انہوں نے کئی اہم واقعات کو بہت قریب سے دیکھا اور حالات کا مشاہدہ کیا، جس کو وہ ’اردو ڈائجسٹ‘ اور روزنامہ ’جنگ‘ میں تحریر کرتے رہے۔ یہ کتاب ماضی کی سیاسی و فوجی غلطیوں پر مبنی ایک چشم کشا تاریخ ہے جو قاری کے اندر سیاسی شعور بیدار کرتی ہے، بلکہ یوں کہا جائے کہ یہ کتاب مشرقی و مغربی پاکستان کے اس طرح کے المیوں کا ’انسائیکلوپیڈیا‘ ہے، تو بے جا نہ ہو گا۔
مشرقی پاکستان میں اگر بنگالیوں کو ان کے جائز حقوق دیہ جاتے اور مغربی پاکستان کے سیاست دان ہوش کے ناخن لیتے اور ہوس اقتدار میں بہہ کر ’ادھر تم ادھر ہم‘ جیسے مفاد پرستانہ نعرے بلند نہ کرتے تو ان کے اندر احساس محرومی پیدا ہوتا اور نہ ہی پاکستان اپنے قیام کے صرف 24 سال بعد دولخت ہوتا۔
سقوط ڈھاکہ، پاکستان کی تاریخ کا رستا ہوا زخم ہے۔ اس واقعہ کو پیش آئے 52 سال ہو گئے یعنی نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے مگر مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور وطن عزیز کے دو لخت ہونے کا یہ زخم ہر پاکستانی کے دل پر آج بھی تازہ ہے۔ متحدہ پاکستان کا تقسیم ہونا ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ بھارت نے پاکستان کے وجود کو سچے دل سے کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ ہمیشہ اس موقع کی تلاش میں رہا کہ دنیا کے اس وقت کے سب سے بڑے اسلامی ملک ’متحدہ پاکستان‘ کو کسی طرح تقسیم کیا جائے۔
سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ: ’آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے کر پاکستان کا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ ‘ اندرا گاندھی اپنی نجی محفلوں میں اکثر کہا کرتی تھی کہ ’میری زندگی کا حسین ترین لمحہ وہ تھا جب میں نے پاکستان کو دولخت کر کے بنگلہ دیش بنایا۔‘
پاکستان کو تقسیم کرنے میں ذوالفقار علی بھٹو کے کردار کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے ملک سے زیادہ پارٹی (اور ذاتی) مفادات کو ترجیح دی اور 3 مارچ 1971 ء کو ڈھاکہ میں بلائے جانے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنی پارٹی کے ارکان کو شریک نہ ہونے کی ہدایت کی اور دھمکی دی کہ، ’جو ڈھاکہ جائے گا میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔‘ آپ کو یاد ہو گا کہ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے جوش خطابت میں ایک بار مشرقی پاکستان (جو اب ’بنگلہ دیش‘ ہے ) کی عوام کے بارے میں یہ تک کہہ دیا تھا کہ، ’بھاڑ میں جائیں، سور کے بچے! ”
موجودہ سیاسی و آئینی بحران اور الطاف حسن قریشی صاحب کی اس کتاب کے پس منظر میں حالات کی سنگینی اور خاص طور پر اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ، پی ٹی آئی اور اس کے چیئرمین عمران خان صاحب کے درمیان پائی جانے والی ’سیاسی کشمکش‘ اور ”رسہ کشی ’کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم نے برداشت اور دور اندیشی کا مظاہرہ نہ کیا اور بروقت اس بحران کا تدارک نہ کیا تو ہم کسی بھی نئے‘ سانحہ ’سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اندرا گاندھی کی طرز کے دشمن ہمارے اندر ہی موجود ہیں اور وہ ہماری غلطیوں سے فائدہ اٹھانے کی تاک میں ہیں۔
چونکہ فوجی تنصیبات اور خصوصی طور پر لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس (جسے‘ جناح ہاؤس‘ بھی کہا جا رہا ہے ) پر حملہ باقاعدہ ایک منصوبہ بندی اور منظم طریقے سے کیا گیا تھا اور شرپسند مظاہرین نے نہ صرف ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے نفرت کا کھل کر اظہار کیا تھا بلکہ شہداء کے مجسموں اور ایم ایم عالم کے تاریخی طیارے کو بھی نہیں بخشا تھا تو اس پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر صاحب نے حساس اداروں اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کا واضح عندیہ تھا (اور عمران خان کے خلاف اس مد میں دو مقدمات بھی قائم کیے جا چکے ہیں ) کہ ان ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ اس وقت تحریک انصاف کے 453 ورکرز گرفتار (یا نظر بند) ہیں جن کی رہائی کو تحریک انصاف نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ گزشتہ روز پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری پر پولیس نے تشدد کیا، فواد چوہدری کو پکڑنے کے لئے بھاگنے پر مجبور کیا جس نے واپس عدالت میں پہنچ کر پناہ لی اور
عثمان ڈار کی والدہ کو بھی گھسیٹا گیا۔ یہ طاقت کے خلاف طاقت کا استعمال ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے پاس ’عوامی طاقت‘ ہے اور حکومت کے پاس ’انتظامی طاقت‘ ہے۔ جبکہ بوجوہ فوج بھی حکومت کی پشت پر کھڑی ہے۔ یہ ایسی نازک صورتحال یہ کہ اس سے انارکی دوبارہ جنم لے سکتی ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ’انارکی‘ کا منطقی انجام ’تبدیلی‘ بھی ہو سکتا ہے، لیکن ہمیں اس خوش فہمی سے جلد از جلد باہر آنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے زمینی حقائق، عوام کے سیاسی شعور اور دور اندیشی کے معیارات کی روشنی میں مزید انارکی کا نتیجہ صرف ’تباہی‘ کی صورت میں برآمد ہو گا۔ ایک نظام کے مکمل طور پر ملیا میٹ ہونے سے ہی ایک نیا آغاز ممکن ہوتا ہے۔ انا اور ہٹ دھرمی کی حد تک اپنے رویوں کو تبدیل نہ کرنے کا رجحان ’کٹر بنیاد پرستی‘ ہے جس کو چھوڑنے کے لئے متحدہ حکومت اور تحریک انصاف دونوں تیار نہیں ہوتی تو اس کے نتائج ’انتہائی خطرناک‘ بھی نکل سکتے ہیں۔
اس بات کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما تسلیم کریں یا نہ کریں، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ یہ پرتشدد مظاہرے عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے ایماء پر کیے گئے تھے جس کی ایک واضح دلیل رہائی کے بعد خود عمران خان صاحب کا یہ دھمکی آمیز بیان ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ، ’اگر انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا تو احتجاج کا یہی ردعمل ایک بار پھر دہرایا جائے گا۔‘
سول بالادستی کے حوالے سے تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں کا خیال یہ بھی ہے کہ اگر کبھی کسی‘ فوجی ’کو عدلیہ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تو سابق وزیراعظم عمران خان صاحب ججز کے سامنے کیوں پیش ہوں؟ ایک باغیانہ اور مذموم خیال یہ بھی گردش کر رہا ہے کہ تحریک انصاف کو‘ این آر او ’ ( این آر او ) نہ دیا گیا اور عمران خان (جس کو ہائی کورٹ نے 31 مئی تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کی توسیع دی یہ ) کو دوبارہ گرفتار کیا گیا تو تحریک انصاف‘ کے پی کے ’کے‘ علیحدہ ’ہونے کو بھی ہوا دے سکتی ہے!
الطاف حسن قریشی صاحب نے شاید یہ کتاب کہ ”مشرقی پاکستان ٹوٹا ہوا تارا“ ، مغربی پاکستان کے متحد اور ’ون یونٹ‘ رہنے کے لئے ایک ’انتباہ‘ کے طور پر لکھی تھی! تخریب کے بعد تعمیر کی امید پر تخریب کو جاری رکھنے کا نتیجہ ہمیشہ بربادی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے خلاف ’نفرت‘ کو بڑھا کر زہر کے بیج بو رہے ہیں جن سے کبھی بھی تریاق نہیں اگنا۔ اب بھی وقت ہے کہ ضد اور اقتدار کی ہوس کو چھوڑ کر تحریک انصاف اور متحدہ حکومت اس بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کر لیں، چاہے ملک و قوم کی ’سلامتی‘ کے لئے پی ٹی آئی کو ’این آر او‘ ہی کیوں نہ دینا پڑے (اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ) ۔


