میں عمران خان کے ساتھ ہوں، لیکن!


الجھاؤ ایسا ہے کہ سلجھاؤ کی صورت کہیں نا ہے۔ تقسیم کی شدت اس نہج پر ہے کہ ان کے حق میں بولیں تو ادھر والے گالیاں دیتے ہیں اور ان کے حقوق کی بات کریں تو ادھر والے ’اٹھا‘ لیتے ہیں۔ ہم گالیوں، اٹھنے اور اٹھانے کی مثلث کا عملی نمونہ بن کر رہ گئے ہیں۔ لیکن اگر کوئی بیچ کی بات کرے تو کہا جاتا ہے کہ مرشد کہتے ہیں ؛ ”نیوٹرل صرف جانور ہوتا ہے“ ۔

ہمارے معاشرے کو تقسیم کا عمل دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ہمارے آباء کو مذہب و مسلک کی تقسیم کا تحفہ دیا گیا، لیکن شروع سے ہی مذہب و مسلک کے بیچ و بیچ ہلکی آنچ پر سیاسی تقسیم کا بھی سلسلہ رہا۔ یعنی ایک عرصے سے مذہب، مسلک اور سیاست پر ریاست عوام کا پیٹ پال رہی ہے۔ ہماری بھری جوانی میں جب ہم نے شہر شہر گھومنا تھا، ملک کی تہذیبوں، تہوار اور ثقافتوں کی کھوج لگانی تھی ہمیں ’ایڈیٹوریل پالیسی‘ کے نام پر میڈیا کی تقسیم تحفے میں دی گئی۔

یہ تقسیم سات رنگوں سے مختلف آٹھواں رنگ ثابت ہوئی۔ اس نے مذہب، مسلک، سیاست اور ریاست سب کے درمیان ایک ایک ’ایڈیٹوریل پالیسی‘ کے نام پر دیوار قائم کی۔ پالیسی کے مطابق دیوار گرا دی جاتی ہے یا تعمیر کر لی جاتی ہے۔ کسی غریب کی بیٹی کی طرح میڈیا کی تقسیم پر بہت جلد جوانی آ گئی اور اس کی تقسیم کے ساتھ وقت گزارنے والے میڈیا ورکر اور صحافی بھی تقسیم ہونا شروع گئے اور یوں آج یہ تقسیم بھی تکمیل کو پہنچ چکی ہے۔ اور آج جو بھی اس تقسیم کو نہیں مانتا وہ نیوٹرل ہے اور نیوٹرل ’جانور‘ ہوتا ہے۔ مسلکی تقسیم کے بعد یہ وہ تقسیم ہے جس کے الاؤ کی حدت دیرپا رہے گی۔

اس تمام تر تقسیم کے ماں باپ کا نام دائیں بازو اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں ہیں جو نظریہ اقتدار کے تحت اپنی ماں کو باپ اور باپ کو ماں بنا کر سوئچ کرتے رہتے ہیں۔ اس عمل کے لئے ہمارے یہاں چند الیکٹیبلز کی گولیاں عسکری منرل واٹر سے کھا لیں تو آپ بائیں بازو پر بیٹھ جاتے ہیں جب کہ آپ ”ہم لوہے کے چنے ثابت ہوں گے“ یا ”ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے“ ایسے بیان دینے کے بعد سے آپ دائیں بازو پر آ جاتے ہیں۔ یہ دایاں اور اور بایاں بازو سائیکل کے دو پہیے ہیں۔ جو کہ سویلین میٹیریل سے تیار کیے جاتے ہیں لیکن سائیکل چلانے والے کو مقدس گائے کہا جاتا ہے اور مقدس گائے نے ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کب کون سا پہیا فرنٹ پر اور کون پیچھے رہے گا۔ کیوں کہ اس سائیکل کا ڈرائیور اللہ کی ذات کے بعد مقدس گائے ہوتا ہے۔

اس سارے چکر کو چلانے کے لئے مملکت خداداد میں کوئی نہ کوئی ایکٹیویٹی چلتی رہتی ہے۔ لیکن گزشتہ چند روز سے مملکت خداداد کو ایسی نظر لگی کہ الامان۔ نوجوانوں نے ریاست کی دیوار پھلانگی، ریاست کی گاڑیوں کو بیچ چوراہے جلایا اور ریاست کا گریبان پکڑے کھڑا نوجوان اور راکھ سے نکلتا ہوا دھواں تو نظر آیا لیکن ریاست کہیں نظر نہ آئی۔ یہ ریاست کی بے بسی دراصل اس کی اپنی مرتب کردہ مذہب، مسلک، سیاست اور صحافت کی تقسیم کی عکس بندی ہے۔

جس تقسیم کو ریاست نے کبھی فیض آباد دھرنے میں نوٹ پکڑا کر پروان چڑھایا اور کبھی ففتھ جنریشن کے نام پر ٹویٹر پر صحافی انسٹال کروائے جو آج کل ففتھ جنریشن وار سے نشان حیدر پا کر حقیقی آزادی اور انقلاب برپا کرنے میں پیش پیش ہیں۔ تقسیم کی نعمت کی بدولت ایک سال پہلے تک یہ سپاہی بائیں بازو والے تھے اور آج کل یہ دائیں بازو پر اور دوسرے طبقات بائیں بازو والے ہو چکے ہیں۔

اس سے پہلے کہ ہم کسی نئی سکیم یا تقسیم کی طرف بڑھیں، ہر نوجوان کو چاہیے کہ وہ اپنی قیمتی زندگی میں سے چند ساعتوں کو شعور کے نام کر دے اور شعور کو اپنی محبوبہ سمجھ کر کسی اچھے چائے خانہ میں اپنے سامنے بٹھا کر پوچھے کہ درست سمت ہے کیا؟ درست سمت ملک کی خوشحالی ہے، املاک کو نقصان پہنچانا نہیں۔ درست سمت نظریاتی لیڈر کے پیچھے کھڑا ہونا ہے، نظریہ اقتدار والے لیڈر کے پیچھے نہیں۔ درست سمت اخلاقی اقدار کا ساتھ دینا ہے، جنازہ نکالنا نہیں۔

درست سمت چادر اور چار دیواری کی حفاظت کرنا ہے، پامال کرنا نہیں۔ درست سمت مذہب کا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال روکنا ہے، استعمال کرنا نہیں۔ درست سمت دائیں بازو کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، بائیں کے ساتھ نہیں۔ اور آج کل دائیں بازو کی سیاست عمران خان کر رہا ہے۔ جیسے سن دو ہزار سترہ میں میاں نواز شریف کے ساتھ ہوا تو انصافینز نے خالی جگہ کا فائدہ اٹھایا، ایسے ہی آج جیالے اور لیگی خالی جگہ کا فائدہ اٹھانے میں لگے ہیں۔ آج لیگی، انصافی اور جیالے کو درست سمت کے ساتھ چلنا چاہیے اور آج درست سمت پر عمران خان کھڑا ہے، کل نواز شریف کھڑا تھا، آئندہ کوئی اور کھڑا ہو گا۔

Facebook Comments HS