آغا گل کا ناول: دشت وفا
گزشتہ دنوں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معروف ناول نگار اور افسانہ نگار آغا گل کا ناول ”دشت وفا“ پڑھنے کو ملا۔ پڑھ کر یوں محسوس ہوا جیسے میں کہانی کے کرداروں کے ساتھ ساتھ گھوم پھر رہا ہوں۔ 160 صفحات پر مشتمل، یہ ناول فکشن ہاؤس لاہور نے 2017 ء میں شائع کیا تھا۔
کہانی کے آغاز میں ہماری ملاقات چند ایسے ہم جماعت و ہم خیال نوجوانوں سے ہوتی ہے، جن کے روشن مستقبل کے خواب صوبہ بلوچستان کی سیاسی، سماجی اور معاشی ابتری کے سبب چکنا چور ہو چکے ہیں۔ حالانکہ ان نوجوانوں نے یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ انھوں نے ان میں کچھ نے تو سماج سے بغاوت کر کے مقامی بلوچ لیڈروں کی بنائی ہوئی علیحدگی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور چند ایک خوشحال دوست خورشید کے ہاں ’خورشید ہاؤس‘ میں بلا ناغہ محفل شراب و شباب سجا کر اپنے اپنے غم غلط کرنے لگ گئے ہیں۔
کہانی آگے بڑھتی ہے تو اس میں مرکزی کردار، قاضی، نجیب اور رخسانہ اپنا جادو جگانے لگتے ہیں۔ مصنف پہلے کردار قاضی کا تعارف یوں کرواتے ہیں : ”قاضی غضب کا انسان تھا۔ جسے چاہتا یوں رام کر لیتا۔ شیشے میں یوں اتار لیا کرتا کہ دوست دیکھتے ہی رہ جاتے۔ دشمن کو منانا سودا طے کرانا، کھٹارا گاڑی بیچ ڈالنا، روٹھی ہوئی محبوبہ کو منا لانا، اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ دوست کہتے اس کے پاس کوئی گیدڑ سنگی ہے یا کوئی ہودہ ہے ورنہ زبان میں یہ تاثیر کہاں؟“
ناول کا دوسرا کردار نجیب قدرے سنجیدہ اور سادہ لوح نوجوان ہونے کے باوجود ایک مخلص اور عاشق مزاج انسان بھی ہے۔ تیسرا مرکزی کردار، رخسانہ، سحر انگیز شخصیت کی حامل نوجوان خوبرو حسینہ ہے۔ جس کے مزاج میں انداز دلربائی کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔ قاضی اپنی مہارت اور روانی سے جھوٹ بولنے کے زور پر رخسانہ کے ساتھ دوستی کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ مگر اپنی محبوبہ کو اپنے دوست نجیب سے ملوانے کی غلطی کر بیٹھتا ہے۔ اس اثنا ء میں رخسانہ بھی قاضی کی حقیقت جان چکی ہے۔ نجیب اور رخسانہ ایک دوسرے کی طرف ایک مقناطیسی قوت سے کھنچے چلے آتے ہیں۔
نجیب اور رخسانہ کی دوستی محبت اور عشق کی منازل طے کرتی اس مقام پر جا پہنچتی ہے کہ رخسانہ کی اہم راز پوشیوں، پہلی شادی، شوہر کا قتل اور تین بچوں کا پردہ چاک ہونے پر بھی وہ رخسانہ کو معاف کر دیتا ہے۔ نجیب ایک سرکاری افسر بن کر بھی ایک رخسانہ سے اپنا تعلق ختم کرنے پر تیار نہیں ہو پاتا۔ حالانکہ اس کو رخسانہ کی بے وفائیوں کا بخوبی علم ہے۔ کچھ عرصے کے لیے جب نجیب شہر سے باہر جاتا ہے تو رخسانہ دولت کی خاطر سیٹھ قادر کے ساتھ ”نجی ملاقات“ کے دوران اس کو قتل کر کے بہت سے زیورات اور روپیہ لے کر روپوش ہو جاتی ہے۔
کہانی نیا موڑ لیتی ہے۔ نجیب رخسانہ کو بچانے کے لیے ملک سے بھاگ جانے کا منصوبہ بناتا ہے۔ اپنے دفتر سے ایک خطیر رقم کا چیک کیش کرواتا ہے۔ اور ایک دوست کی جیپ لے کر ایک دوسرے دوست کے دوردراز کے گاؤں میں روپوش رخسانہ سے جا ملتا ہے۔ نجیب اور رخسانہ کے لیے پاکستان کی زمین تنگ کر دی جاتی ہے۔ رخسانہ اور نجیب ملک سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے علیٰحدگی پسند باغی دوستوں کی مدد حاصل کرتے ہیں جو پہاڑوں میں روپوش ہیں اور بیرون ملک جانے کے لیے پوشیدہ سمندری راستوں سے خوب واقف ہیں۔ مگر تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں۔
یہ اس خوبصورت شب و روز کا قصہ ہے جب جنرل ضیا الحق کی جبری شریعت کے منحوس سائے وادٰی کوئٹہ پر سایہ فگن نہیں ہوئے تھے اور نہ ابھی تک جنرل مشرف نے پاکستانی قوم کو امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آگ میں جھونکا تھا۔ آغا گل کے قلم سے پرانے کوئٹہ کا نقشہ کھنچتا دیکھ کر ہمارا ناسٹیلجیا میں چلے جانا فطری عمل تھا۔ کیونکہ کوئٹہ میں ہمارے لڑکپن کے چند برس گزرے ہیں :
”سر شام ’لارڈز ہو ٹل‘ کے لان میں بار ٹینڈر وردیاں پہنے محفل سجاتے، ’ساقی بار‘ ’امداد ہوٹل‘ میں رونق آجاتی۔ متوسط طبقے کے لوگ جناح روڈ، اور سرکلر روڈ سے شراب خریدتے۔ جب کہ غریب غرباء تھانہ روڈ اور ملحقہ گلیوں میں ٹھرا پیتے۔ ہوٹلوں میں فلمی گیت بجا کرتے۔ لتا، آشا، مکیش اور رفیع بلوچستان کے بے تاج بادشاہ تھے۔ ساقی خانوں میں لوگ گیت سنتے اور خوشی سے نعرے لگاتے۔ بازار حسن میں آنے جانے والے ان ہوٹلوں میں رک کر گیت سنتے۔ کچھ روتے، کچھ خوش ہوتے۔ نہ لسانی تعصبات تھے نہ مذہبی منافرتیں۔
انسان ہی انسان تھے، نفرتیں نہیں تھیں۔ یہ ہوٹل ادارے تھے، پناہ گاہیں تھیں، زندگی کے ہائیڈ پارک تھے۔ ہنسنے کے لیے، رونے کے لیے اور گالیاں بکنے کے لیے۔ آزادی تھی، مکمل آزادی۔ خود مختاری تھی، مکمل خود مختاری۔ ہر کوئی اپنی زندگی کا مالک تھا۔
ایک ہی شہر کے اندر بہت سے شہر آباد تھے۔ مذہبی لوگوں اور عبادت گزاروں کی اپنی دنیا، سیاست دانوں کی دنیا، عاشقوں کی دنیا، جو کسی نہ کسی پہ مٹے جاتے۔ پینے والوں کی دنیا الگ تھی۔ ہر کوئی اپنے حوالے سے دنیا کو دیکھتا۔ سمگلروں کے لیے پوری دنیا جولان گاہ تھی۔ فٹ بالروں کے لیے پوری دنیا فٹ بال کا گراؤنڈ تھی۔ کتوں کو، لگڑ بگڑ لڑانے والوں کو یقین تھا کہ پوری دنیا کتوں کی پرورش گاہ ہے۔ طوائفوں کا خیال تھا کہ پوری دنیا ایک چکلہ ہے۔ ”
آغا گل بلوچستان کی محبت میں مبتلا ہے، اس کی روح بلوچستان کے پہاڑوں، جھیلوں، قصبوں، ندیوں اور صحراؤں میں سفر کرتی محسوس ہوتی ہے۔ وہ انسانی نفسیات سے بھی بخوبی واقف ہے اور کمال فن سے ارومانی کیفیات کو تشبیحات اور استعاروں کے ذریعے اپنی دھرتی سے جوڑتا ہے۔ جس سے کہانی کا حسن نکھر جاتا ہے۔ اس پیرائے میں چند سطور ملاحظہ ہوں :
”۔ اس نے سر جھٹک دیا اور خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا۔ درہ بولان کے پر پیچ راستوں میں جہاں تیز ہواؤں کا راج ہے۔ نجیب نے آئینے میں دیکھا۔ رخسانہ نے بالائی برقعہ اتار دیا تھا۔ اس کے بال ہواؤں نے بکھیر دیے تھے۔ بال بکھرنے میں سنور رہے تھے۔ وہ بہت معصوم بھولی بھالی، بہت مقدس لگ رہی تھی۔ جیسے قلات کے کالی کے مندر میں برہنہ پاؤں چلا آیا ہو۔ جیسے شری کرشن بھگوان کی مرلی کی دھن سنائی دی ہو۔ رخسانہ نے اپنا نازک سا ہاتھ نجیب کی جانب بڑھا دیا۔
نجیب کی دنیا بہت شوخ شوخ رنگوں میں ڈوب گئی۔
جیسے ’جھیل جھاؤ‘ کے تپتے ویرانوں میں گھٹائیں چھا جائیں۔
جیسے ’کوژک‘ پر چاند اتر آئے۔
جیسے ’سپیرہ داغہ‘ میں لاکھوں تارے ٹوٹ ٹوٹ کے آ گریں۔
جیسے کوئٹہ کی تمام سڑکوں پر ہولی کے رنگ بکھرنے لگیں۔ ”
بد قسمتی سے گزشتہ سات آٹھ دہائیوں سے صوبہ بلوچستان سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر استحصال کا شکار چلا آتا ہے۔ فیڈریشن کی دیگر اکائیوں کے مقابلے میں بلوچستان 75 سال گزرنے کے باوجود مرکزی دھارے سے تکلیف دہ فاصلے پر ہے۔ 1970 ء کے بعد بالخصوص بلوچی قوم اپنی شناخت کے حوالے سے پولرائزڈ چلی آتی ہے۔ بلوچی سردار بلوچیوں کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے در پہ ہیں۔ فیڈریشنسٹ قوم پرستجو وفاق کے ساتھ رہنا تو چاہتے ہیں مگر زیادہ سے زیادہ خود مختاری مانگتے ہیں۔
اور علیٰحدگی پسند قوم پرست جو ہر حال میں بلوچستان کو باقی پاکستان سے الگ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ بلوچستان کا سرداری نظام، وفاق کی بے حسی اور سماجی محرومی رہی ہے۔ دشمن ہمیشہ کمزور مقام پر حملہ کرتا ہے۔ بلوچستان اس لحاظ سے ہمارا کمزور مقام ہے۔ لہٰذا گزشتہ دو دہائیوں سے میرے وطن میں برپا دہشت گردی کی جنگ بھی بلوچستان میں علیحدگی پسند قوتوں کو تقویت دیتی رہی ہے۔ نتیجتاً نقصان مقامی آبادی اور باہر سے آ کر بسنے والے مہاجرین کا ہوا ہے۔
ادب کسی بھی معاشرے کا عکاس ہوتا ہے۔ جو کچھ معاشرے میں ہو رہا ہوتا ہے ادب بھی ویسا ہی تخلیق ہو رہا ہوتا ہے۔ آغا گل سرزمین بلوچستان کا سپوت ہے۔ اس نے کمال مہارت سے فکشن کے تمام تقاضے ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ناول میں بلوچستان کی محرومیوں کو احسن طریقے سے اجاگر کیا ہے :
”بلوچستان کی پہلی حکومت ٹوٹی تو سرداروں نوابوں نے جمہوری جد و جہد آئینی طریقہ اختیار کرنے کی بجائے نوجوانوں کو مسلح کر کے پورے بلوچستان میں جنگ چھیڑ دی۔
ایک جگہ کہانی کردار جب باغی دوستوں کی مدد کے ذریعے ملک سے بھاگ نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ با کو سیدھے راستے کی طرف قائل کرنے کی کوشش بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
” نجیب اور رخسانہ نے ساتھیوں کو ایک طویل گفتگو اور دلائل سے قائل کیا کہ فیصلے بندوق کی نالی اور بارود سے نہیں ہوتے۔ ہزاروں بم پھینکے جائیں تو بھی زمین سے اناج نہیں نکلے گا۔ محبت سے ہل چلا کر، زمین سینچ کر اناج حاصل کیا جاتا ہے۔ اپنے حقوق حاصل کرنے ہیں تو جمہوری طریقے موجود ہیں۔ علم حاصل کرو اقتدار میں آؤ۔ تم خود اداروں میں شامل ہو سکتے ہو۔ پڑھ لکھ کر اسمبلیوں میں جا سکتے ہو۔ بیوروکریسی میں شامل ہو کر سوچیں بدل سکتے ہو۔ یہ سب کچھ لڑ بھڑ کر نہیں صلح اور امن سے ہو سکتا ہے۔ اپنے ہی اداروں سے لڑا جائے، اپنے ہی پل اڑائے جائیں، تنصیبات کو نقصان پہنچایا جائے اپنے ہی شہریوں پر بم پھینکے جائیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟“
مجموعی طور پر، روانی، حیرت انگیزی، محویت اور قرات کے اعتبار سے اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ میں اس قدر خوبصورت فکشن تخلیق کرنے پر آغا گل صاحب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔




