کامیابی کے دو اہم راستے۔ امید کا سفر

پیارے رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ انسان کا دل صاف و شفاف شیشے کی مانند ہو تا ہے۔ کوئی گناہ کیا جائے تو اس کے اثر سے شیشے پر ایک چھوٹا سا سیاہ داغ پڑ جا تا ہے اور آخر کار دل بالکل سیاہ ہو جا تا ہے۔
دل کی طرح انسان کی پیدائش کے وقت اس کے باقی حصے بھی شفاف و صاف ہوتے ہیں، انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بہترین مخلوق پیدا کیا ور اس بہترین مخلوق سے بے مثال کارکردگی توقع کر تا ہے۔ انسان ہوش کے دائرے میں آتا ہے تو اس کے سامنے اس کا خالق دو راستے رکھ دیتا ہے۔
صراط مستقیم اور غیر المغضوب اور ضال۔
کامیابی کا راستہ صراط مستقیم ہے اور اسی صراط مستقیم کا یک اہم رکن امید اور اچھا گمان ہے۔ امید اور اچھے گمان میں جسم و جان کی خوشی چھپی ہوتی ہیں۔
امید نہ صرف منزلوں کا تعین کرتی ہے بلکہ ان منزلوں تک پہنچنے کی ان گنت رکاوٹوں سے نکلنے کا راستہ بھی دیتی ہے۔ دین و دنیا کی ہر منزل امید سے گزر کر ملتی ہے۔ رب تعالیٰ ہماری سب سے بڑی امید ہے۔
امید کیا ہے؟
امید بہترین منزل تک پہنچنے کی خواہش اور اس خواہش تک پہنچنے تک کی تمام رکاوٹوں کو بڑے دل کے ساتھ عبور کرنا ہے۔ مشکل حالات حالات میں صبر اور استقامت کے ساتھ چلنا ہے۔ اللہ کے اس وعدے کو یاد رکھنا ہوتا ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
ہماری زندگی میں مایوسی کا عنصر اسی وقت غالب آتا ہے جب ہم صرف خواہش کرتے ہیں، خواب دیکھتے ہیں اور پھر بغیر سمت درست کیے اور بغیر کوشش کے اس خواہش کی تکمیل چاہتے ہیں۔ Dreamer اور Doer میں یہی سب سے بڑا فرق ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ صرف چاہنے سے منزل مل جائے۔ چاہت پہلی سیڑھی ہے، منظم کوشش اگلی۔ منزل قربانی مانگتی ہے اور قربانی کے لئے بہترین کوشش کرنی پڑتی ہے اور جسم و جان کو مشکل میں ڈالنا پڑتا ہے۔ ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو دنیا خواب گاہوں میں لمبی تان کر سونے والوں کی ہرگز نہیں ہے، بھر پور کو شش کرنے والوں کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جنت کے درجے بھی کوالٹی پر منحصر ہیں۔ جنت الفردوس ہر کسی کے حصے میں نہیں بلکہ کوالٹی کے کام یعنی بہترین کوشش اور شاندار نیکی پر ہے۔
پیارے نبی ﷺ طائف اس امید پر تشریف لے گئے کہ مکہ کے لوگ میری بات نہیں سنتے تو میں اپنا پیغام ان لو گوں تک پہنچا دوں۔ وہاں آپ سے اچھا سلوک نہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ مایوس نہیں ہوئے۔ اس وقتی نا کامی سے بھی امید کا راستہ نکالا، اللہ کے وعدے کے مطابق صبر سے کام لیا اور پھر آپ ﷺکی امید پو ری بھی ہوئی۔ اب یہاں ایک بات یاد رکھنے کی ہے جو ہم اکثر بھول جاتے ہیں اور پھر ہم مایوسی اور جلد بازی میں یہ کہ جاتے ہیں کرتے کہ مجھے میری امید کے مطابق نہیں ملا۔ آپ ﷺ طائف سے واپس آ کر تبلیغ دین کی کوششوں میں مصروف رہے اور بالآخر کامیابی نے ان کے قدم چو مے۔ یہی سبق ہمارے لئے بھی ہے۔ (امید، اچھا گمان اور بھر پور کو شش) ۔
ہجرت مدینہ کے بعد جب رسول اکرم ﷺ نے مواخات کی بنیاد رکھی تو آپ ﷺ کے ساتھیوں میں سے ایک حضرت عبدالرحمٰن عوف کو جن کا بھائی بنایا گیا انہوں نے مدینہ کے اپنے اس بھائی سے مدینہ کے بازار کا پتہ معلوم کیا وہاں انہوں نے تجارت کی اور بہت دولت کمائی۔ آپ اس واقعہ سے دو چیزیں نکلتی ہیں۔ پہلی امید۔ امید یہ کہ میں اپنا کاروبار کر کے اپنی رو زی کماؤں گا ور پھر اس کے لئے بازار کی تلاش یعنی کو شش۔ دوسری بات یہ کہ پیسہ کمانا اسلام میں کوئی بری بات نہیں۔ ہم نے کیوں سمجھ لیا کہ اسلام پیسہ کمانے سے رو کتا ہے۔ اسلام نا جائز ذرائع سے روکتا ہے، جائز ذرائع سے بالکل نہیں۔
ایک اور بات۔ نیلسن منڈیلا ستائیس سال جیل میں اس امید پر بیٹھا رہا کہ ایک دن آزادی ضرور ملے گی۔ اس کی امید نے اسے زندہ رکھا اور اس نے جنوبی افریقہ کی آزادی اپنی آنکھوں سے دیکھی۔
ہمیں اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں اور جہاں جہاں ہم کام کرتے ہیں امید اور کو شش کو شامل کر نا چاہیے تو کامیابی یقیناً ہمارا مقدر ہوگی۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں بھی کرن امید اور کوشش کی ہی ہے۔ ہر شخص کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہے، تب صحیح معنوں میں پاکستان بن سکے گا۔

