(1) منٹگمری

”یہ انگریز بھی نہ عجیب ہوتے ہیں“ ۔ اجل سنگھ نے ناشتے کی میز پر اپنے خاندان سے گفتگو شروع کی۔ اجل سنگھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تھا ”ان انگریزوں کو ہمارے رواجوں کا بالکل بھی اندازہ نہیں
کل فلاور مین صاحب نے ڈپٹی کمشنر ضلع منٹگمری نے مجھے ضلع دربار کے بعد حقہ پیش کر دیا۔ اب میں نام کا ہی نہیں واقعی گرو کا داس ہوں۔ میں تمباکو کیسے کھینچ سکتا؟ ”
”تو تم نے کیا صاحب کے سامنے کے سر دربار انکار کر دیا؟“
اس کی بیوی مہتاب کور نے پوچھا۔ اس کے بچے بھی اب اس سب میں دلچسپی لینے لگ گئے۔ ہاں ایک طرح سے انکار ہی۔ لیکن ایک تہذیب کے دائرہ میں رہ کر. بہر حال کل کا دن اور دربار خیری مہری گزر گئے۔ بیساکھی کا میلہ بھی اک پورا انتظامی مسئلہ بن چکا ہے۔ تمام مالکی دیہات کے لوگ اپنی اپنی جگہ پر کرنا چاہتے ہیں۔ اوپر سے سرکار نے راج آنے کے بعد آباد کاری بھی دھرمی بنیادوں پر کی۔ کل سارا دن ہی ہماری تو تنی رہی۔ اجل سنگھ بولا
لیکن میلے تو سب کے ہی سانجھے ہوتے تھے۔ ابھی چند برسوں سے ہی یہ میلے بھی فرقہ وارانہ ہوتے چلے گئے۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اجل جی آپ جیسے سرکاری لوگوں نے ہی نفرت کے بیج ہوئے۔ اس کی بیوی نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔ اس لہجے میں جس میں نہ گلا تھا نہ الزام۔ بس صرف ملال تھا اور افسوس۔ اجل بھی یہ بات سن کر اس طرح چپ اور شرمندہ ہوا۔ جیسے وہ ہی اس سب کا ذمہ دار ہو۔
اس نے بات بدلنے کے لئے اپنے بیٹے موہن سنگھ کی طرف دیکھا اور بولا ہاں موہن! تمہارا کیا لاہور بھگت سنگھ کی پیشی پر جانے کا کوئی ارادہ ہے؟ تمہاری ماں مجھ سے ذکر کر رہی تھی۔ موہن سنگھ بولا: جی! ہے تو سہی۔ مجھے صبح یاد کروانا میں تمہارے لئے ریل میں فرسٹ کلاس میں ڈبے کی کوشش کروں گا۔ اجل سنگھ نے کہا۔ اس کی بیگم نے سوچا۔ اس وقت اس کا موڈ کچھ بہتر ہے تو اس سے بیٹی کے اپنی سہیلی کے ساتھ سینما جانے کی اجازت بھی لے لے۔ لیکن پھر اس نے سوچا کہ پوچھنا کوئی ضروری تھوڑی ہے۔ خیر اس دوران ناشتہ ختم ہوا اور گرو داس نے کھانے کی دعا باآواز بلند پڑھی اور اٹھ گیا اور اس کی بیوی بھی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سرکاری گھر جو کہ 1.5 ایکٹر پر پھیلا تھا کے نظم و انتظام کے لئے اٹھ گئی۔
………………………
منٹگمری راج کے بعد آباد ہونے والا نیا شہر جو کہ نہر ورہل و منڈی کے وسیع منصوبہ کے تحت آباد کیا گیا۔ منٹگمری کے ریلوے اسٹیشن پر اس دن کچھ خاص رش نہ تھا۔ ضلع مجسٹریٹ کے تانگے پر موہن اور اس کا دوست میر ثانی دونوں سوار ریلوے اسٹین پہنچے۔ میر ثانی کا باپ میر ذوق علی بھی اتر پردیش سول سروس میں میجسٹریٹ تھا اور آبادکاری کے اضلاع میں تبادلہ کوٹہ میں تعیناتی پر تھا۔ میر ثانی ولایت پلٹ لیکن انقلابی فکر کا حامل اور اردو میں شعر کہتا تھا۔ با محاورہ گفتگو کرتا تھا۔ ”غرض لکھنو کے بانکے کا“ کا عملی نمونہ۔
جب اس نے سنا کہ موہن لاہور بھگت سنگھ کی پیشی پر جا رہا ہے تو وہ بھی ساتھ ہو لیا۔ ریلوے اسٹیشن پر ان کا سامان اٹھانے کو قلی پہلے سے موجود تھا۔ موہن دیہی تکبر اور میر ثانی اک ادا کے ساتھ تانگے سے اترے اور پلیٹ فارم کے قریب جا کر کھڑے ہو گئے۔ ان کے ساتھ آئے ملازم نے اسٹیشن کلرک کو اطلاع کی اس نے فوراً ہی ان کے ڈبہ نمبر اور نشستوں کی تصدیق کر دی اور ٹکٹ جاری بھی کر دی۔ چند ہی منٹ کے بعد ٹرین آ گئی اور وہ دونوں فرسٹ کلاس میں سوار ہو گئے۔
ابھی ان کو ڈبہ میں بیٹھے، چند لمحے ہی ہوئے تھے کہ ریل چل پڑی اور وہ دونوں بھگت سنگھ اور انقلاب کی باتیں کرنے میں مصروف ہو گئے۔ وہ دونوں ہی اس وقت چونکے جب انہوں نے دیکھا کہ ایک انگریز نہ جائے کب ان کے ساتھ آ بیٹھا ہے اور ان کی گفتگو بھی سن چکا ہے۔ لیکن اس انگریز نے اپنی توجہ ان کی جگہ اپنی اخبار پر ہی رکھی اور ان سے کوئی کلام نہ کیا۔ لیکن وہ دونوں ہی کسی نہ کسی حد تک گھبرا ضرور گئے اور یہ تجسس بھی ہوا کہ یہ انگریز ہے کون؟ لیکن خود سارا سفر پو چھنے کی جرات نہ کر سکے خیر جیسے تیسے سفر گزر اور وہ دونوں میاں میر صاحب چھاؤنی کے اسٹیشن پر اتر گئے۔ (جاری ہے)

