پرانا کھیل اور واسکٹ کی کہانی
کھیل تو پرانا ہے، جو دہائیوں سے جاری رہا، جاری ہے، جاری رہے گا۔ بیٹنگ آتی ہے تو ٹیم ڈریسنگ روم میں بیٹھتی ہے، دو کھلاڑی کریز پر جاکر گیارہ کھلاڑیوں کے پسینے نکالتے ہیں۔ اننگ ختم ہوتے ہی ٹیموں کی پوزیشن بدل جاتی ہے، بیٹنگ والوں کو فیلڈ میں اترنا پڑتا ہے۔ نیا کیا ہے؟
قیام پاکستان کے بعد کم ازکم تیس سال تو ڈرائنگ رومز میں شطرنج کی طرح کی بنیاد پر حکومتیں بدلتی تھیں۔ پھر پارلیمانی جمہوریت کے نام پر اتنا ہوا کہ کھیل میدان پر کھیلا جانے لگا۔ اب میدان لگتا ہے۔ منڈی لگتی ہے۔ پھر لالے۔ نرالے۔ ڈالے۔ اور نالے۔ وہی نالے جو بھر آئی آواز تک ہی محدود رہتے ہیں۔ جیسے پی ٹی آئی کے سابق ایم این اے جئے پرکاش کی پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کرتے وقت آواز بھر آئی
تاریخ تو بے رحم ہے۔ مکافات عمل بھی ہو کے رہتا ہے لیکن بات یہ ہے کہ ایسا کیا ہے جو نیا ہو رہا ہے، یا کم از کم ایسا جو خان صاحب کے دور میں نہیں ہوا تھا؟
سوائے عدلیہ کے رویے ایک واسکٹ کے۔ واسکٹ کا قصہ یاد دلا دوں اگر ناگوار نہ گزرے تو۔ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے بعد بننے والی قومی اسمبلی کی حلف برداری تقریب میں شرکت کے لیے عمران خان پہنچے تو شلوار قمیض میں تھے، کرتا ٹائپ قمیض پہن رکھی تھی، جس کی آستین پر بٹن نہیں ہوتے، جب اسمبلی اسٹاف نے ویب سائٹ کے لیے تصویر بنانے کے لیے بلایا تو کسی ساتھی نے مشورہ دیا کہ خان صاحب یہ تصویر تو تاریخی ہے، اس میں واسکٹ ہونی چاہیے۔ خان صاحب نے ادھر ادھر دیکھا، نظر اسمبلی اسٹاف کے رکن پر پڑی جو سر پر پکڑی اور واسکٹ کے یونیفارم میں ملبوس تھا، اس نامعلوم کی واسکٹ سے تصویر بنوا دی، پرائے مال پر ہاتھ صاف کرنے کی شروعات پہلے ہی ہو چکی تھی اور اس کار خیر میں جہانگیر ترین کا جہاز خوب ایندھن کھپا رہا تھا۔
بس وہیں سے شروع کرتے ہیں، خان صاحب کے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے جو ان کے دور میں نہیں ہوا؟
شہباز شریف کو ادھر ادھر سے لوگ جوڑ توڑ کے بلکہ توڑ مروڑ کر دیے گئے اور ابھی تک سب چوں چرا کیے بغیر ساتھ چل رہے ہیں تو خان صاحب کو بھی سب کچھ اسی طرح پلیٹ میں سجا کر دیا گیا تھا یا نہیں؟
اس حکومت میں مہنگائی بڑھ رہی ہے، ڈالر مہنگا ہو رہا ہے اور معاشی طور پر ملک کا برا حال ہے تو خان صاحب کے دور میں کون سی دودھ اور شہر کی ندیاں بہہ رہی تھیں، بلکہ اب جب بھی انتخابات ہوئے اور جس کی بھی حکومت بنی وہ کون سا ریلیف دے سکیں گے؟
خان صاحب کا شکوہ ہے کہ ان کو جیل میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مقدمات کی ڈبل سنچری بنائی جا رہی ہے، تو خان صاحب کی راہ ہموار بھی تو مخالفین کو سزائیں دلا کر کی گئی تھی، ان کے دور میں کون تھا جس کو جیل کی ہوا نہ کھانی پڑی ہو، نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال وغیرہ، عمران خان نے بیرون ملک میں تقریر کرتے ہوئے مخالفین کے لیے کہا تھا کہ جیل میں بند تو ہیں، ذرا واپس پہنچوں تو تمام سہولیات بھی واپس لوں گا تاکہ ان کو پتہ چلے۔
خان صاحب کہتے ہیں ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں ڈال کر انھیں اذیت دینا چاہتے ہیں، تو کیا آپ نے یہ نہیں کیا تھا؟ مریم نواز کو باپ کے سامنے گرفتار کرنا اور فریال تالپور کو گرفتار کرنا اور عید کی رات اسپتال سے جیل بھیجنا یاد تو ہو گا؟
آپ آج نیب پر جانبداری کے الزامات عائد کر رہے ہیں، کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ کے دور میں نیب نیازی گٹھ جوڑ کا الزام دہرایا جاتا تھا، اس کی وجہ بھی یہ تھی اور الزام یہ ہے کہ طیبہ گل کو وزیراعظم ہاؤس میں محبوس رکھ کر چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا گیا تھا۔
آج پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو پارلیمنٹ میں قانون سازی پر اعتراضات ہیں، شاید یہ یاد نہیں کہ ان کے دور میں سینیٹ چیئرمین کے عدم اعتماد اور یوسف رضا گیلانی کی شکست کن حالات میں ہوئی تھی؟ کاش اس وقت احساس ہوتا کہ کتنا گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ پنجاب میں انتخابات کیوں نہیں کروائے جا رہے؟ کتنی بڑی کنفیوژن ہے کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کا مطالبہ کرنے والے خیبرپختونخوا میں انتخابات کی بات ہی نہیں کر رہے، دوسری بات کہ وقت سے پہلے انتخابات پر کسی کے بھی اعتراضات ہو سکتے ہیں مگر بروقت انتخابات کرانا لازمی ہے، دیر ہو رہی ہے تو اس کی وجہ ایک کھلی جنگ ہے، جس میں دونوں طرف سے اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔
یہاں تک کہ کچھ 9 مئی کے واقعات کی پاداش میں پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی بات کر رہی ہیں، دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ میاں نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی، انھیں نا اہل کروایا گیا اور پارٹی کی سربراہی سے بھی ہٹایا گیا، یاد رکھیں وہ بھی غلط تھا، اب بھی ایسا کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو وہ بھی غلط ہو گا، بلکہ اس کا الٹا نقصان ہو گا۔
اب بات آرمی ایکٹ کے نفاذ تک آ پہنچی ہے جس سے پی ٹی آئی کی چیخیں نکل رہی ہیں، کیا ہی اچھا ہوتا کہ خان صاحب کو اس بات کا احساس اپنے دور حکومت میں اس بات کا احساس ہوتا اور وہ ایسی غلطی نہ کرتے، کی ہے تو بھگتنا ہو گا، لیکن ایک بات ریکارڈ پر لانی ہے کہ اگر پی ڈی ایم جماعتیں آج آرمی ایکٹ کے نفاذ کی گلا پھاڑ کر وکالت کر رہی ہیں تو یاد رکھیں آپ بھی ایک دن روئیں گے۔


