دنگے اور انقلاب کا بلبلا


کبھی کبھار جب ہم دوست احباب محفل سجاتے ہیں تو سیاست کے بعد ہماری دوسری پسندیدہ موضوع بچپن اور لڑکپن کی کہانیاں ہیں اور ان کہانیوں کا موضوع والدین کی سرزنش، بزرگوں کی سخت گیری، اپنے گروپ میں بڑے ساتھی سے پٹائی، بلا اور گیند کی مالک کو سارا دن باولنگ کرانا وغیرہ شامل ہیں۔ ہمارے ٹولی کا ایک دوست ہے جو خاموش طبع ہے۔ ایک دن بہت اسرار کرنے پر انہوں نے بچپن کی ایک فقرے والی کہانی سنائی جس سے ہم بہت محظوظ ہوئے۔

وہ بتا رہا تھا ”کہ بہن بھائیوں اور کزنز میں سب سے چھوٹا میں ہی تھا اور رات کی محفل چاہے جو بھی موضوع ہو میری ہی بے عزتی پر برخاست ہو جایا کرتی تھی۔“ تو آج کل ہم جو بھی گفتگو کرتے ہیں محفل عمران خان کی نا اہلی، اسٹیبلشمنٹ کی زیادتیاں اور فوج کا سیاست میں عمل دخل پر ہماری محفل برخاست ہوجاتی ہے۔ 9 مئی کو احتجاج یا دنگے فساد جو بھی ہوا وہ ہر صورت قابل مذمت تھا۔ ریڈیو پاکستان پشاور آفس جن میں نایاب ادبی فن پاروں کو دن دیہاڑے نذر آتش کیا۔

تھوڑی دیر کے لئے فرض کرتے ہیں کہ فوج کے خلاف نعرے بازی ٹھیک ہے اور یہ عین آزادی اظہار رائے ہے۔ لیکن پشاور کینٹ سے اٹھائی ہوئی توپ، میانوالی میں جنگی جہاز کا ماڈل جلانا، کور کمانڈر کے گھر توڑ پوڑ اور اس سے اٹھائے ہوئے سٹرابیری اور مور چرانا، کیا یہ بھی احتجاج تھا؟ بہت سے علاقوں میں ڈکیتی اور لوٹ مار کے واقعات و واردات بھی ریکارڈ ہوئے۔ اور تو اور عمران خان کا بھانجہ حسان نیازی جو خود کو عمران کا جانشین تصور کر رہا ہے، نے ہزاروں لوگوں کے سامنے کورکمانڈر کے یونیفارم کو لہرایا اور چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا ”دیکھو جرنل صاحب کا پینٹ پچاس سائز کا ہے ۔“

فوج سب کچھ بھول پائے گی مگر مور، سٹرا بیری اور کور کمانڈر کا یونیفارم بھولنے والے نہیں اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ بقول آرمی چیف ان سب فسادیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انصاف کا کٹہرا کیا ہے؟ فوجی عدالتیں یعنی پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ۔ یہ دونوں قوانین بدنام زمانہ ایف سی آر سے کم نہیں جو لگ بھگ ڈیڑھ سو سال قبائلی علاقہ جات میں نافذ العمل تھی۔ 9 مئی کی واقعات اور دنگے فساد کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، لیکن پاکستان کی شہری ہونے کہ ناتے میں یہ سمجھتا ہو کہ سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کرنا بالکل بھی اچھا اقدام نہیں ہو گا۔

جلد یا بدیر عالمی برادری بھی اس کی مخالفت کرے گی۔ فوجی عدالتیں کیا ہیں، آپ کو انٹرنیٹ پر بہت مواد مل جائے کا مگر مختصر یہ کہ فوجی عدالت میں حاضر سروس بریگیڈیئر یا میجر جرنل رینک کا حاضر سروس آفیسر بطور جج فرائض سرانجام دیں رہا ہوتا ہے۔ اس میں ملزم کو ملنے والی سزا کسی بھی صورت فوجداری مقدمات دیکھنے والے عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ عمر قید یا سزائے موت پانے والے قیدی رحم کی اپیل صدر مملکت سے کرتے ہیں اس طرح کی اپیل فوجی عدالتوں میں چیف آف آرمی اسٹاف سے کی جاتی ہے۔

فوجی عدالتیں اور آفیشل سروس ایکٹ اتنے بدنام اور متنازعہ ہیں کہ پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرحوم وقار سیٹھ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے مجرمان کو بری کر دیا گیا تھا۔ بقول ایڈووکیٹ حیدر سید کے مطابق 18 اکتوبر 2018 کو پشاور ہائی کورٹ میں وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے دستور کے آرٹیکل 199 کے مطابق اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے فوجی عدالتوں سے سزایاب ہونے 70 افراد کو بری کر دیا تھا۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ 16 جون 2020 کو ایک اور فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ نے جسٹس وقار کے سربراہی فوجی عدالتوں کی طرف سے دی گئی 200 افراد کے سزاؤں کو انہی بنیاد پر کالعدم قرار دیا تھا جبکہ 100 افراد کے مقدمات کو وزارت دفاع کے طرف سے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر التواء میں رکھا گیا جن کی تا حال کوئی شنوائی نہیں ہو سکی۔ اب ہم آتے سیاسی جماعتوں کی طرف اگر پی ڈی ایم اور دوسرے سٹیک ہولڈر بشمول صحافی برادری اور سول سوسائٹی نے اگر ان عدالتوں کے مخالفت نہیں کی تو یہ سب اس جرم میں برابر کے شریک ہوں گے اور تاریخ کبھی ان کو معاف نہیں کرے گی۔

اگر فوجی عدالتوں میں ان احتجاجیوں یا فسادیوں کا ٹرائل ہو گیا تو مستقبل میں عوام پاکستان تو درکنار ہندوستان کے فوج کے خلاف بھی احتجاج نہیں کریں گے۔  پی ٹی آئی کی کم فہمی اور بد حواسی کا اندازہ آپ اس اس بات سے لگائیں کہ دنگوں میں مرنے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ تو پڑھائی مگر جو پکڑے گئے ان سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ فواد چوہدری کی دوڑ، علامہ محمد اقبال لاہوری کے پوتے ولید اقبال کے بیان اور ایمان مزاری کا اپنے والدہ کا ہاتھ جھٹکنا ان سب بیانات اور حرکات و سکنات سے“ انقلابیوں ”کے دل پر کیا گزری ہو گی۔

کیا دوبارہ کوئی غیرت مند ان نام نہاد انقلابیوں کے لئے نکلے گا؟ پی ٹی آئی کے انقلابی لیڈروں نے جیل میں 48 گھنٹے بھی نہیں گزارے برباد کون ہوئے غریب والدین کی غریب اولاد۔ یہ جو کچھ بھی ہوا ان میں اربوں کا نقصان ہوا کیا فوج کا تھینک ٹینک اس بات پر غور کرے گا کہ لوگوں میں اتنا غم و غصہ کیوں تھا؟ یہ تو وہ لوگ تھے جو سڑکوں پر نکل آئے مگر گھروں میں بیٹھے ہوئے لاکھوں لوگ ہیں جو اس فساد پر  بغلیں بجا رہے تھے۔

Facebook Comments HS