تصور مذہب اور تیسری دنیا


میرے خیال میں یورپ۔ امریکہ اور کینیڈا میں آباد پاکستانی شدید کنفیوژن اور شناخت کے بحران کا شکار نظر آتے ہیں۔ نہ تو وہ اپنے ماضی اور سابقہ وطن کو بھلا پاتے ہیں اور نہ ہی نئے وطن میں خود اور اپنے بچوں کو ایڈجسٹ کر پاتے ہیں۔ پاکستان میں یہی لوگ اپنے بچوں کو گرامر اسکول۔ کانوینٹ اور انگلش اسکولز میں داخلے کے لیے سرگرداں رہتے ہیں جبکہ یہاں وہی لوگ اسلامک اسکولز۔ حلال میٹ کے لئے میلوں کا سفر کرتے ہیں جو یقیناً ایک اچھا عمل ہے۔ انہی ممالک میں عرب اور دوسرے سنٹرل ایشیائی مسلمان نے اپنی زندگی کو قدرے آسان بنالیا ہے اور وہ ہر قسم کا حلال گوشت ( بلا تمیز ذبیحہ ) کسی کراہت کے بغیر کھا لیتے ہیں۔

اسکول میں بچوں کو ناشتہ اور دوپہر کا کھانا دیا جاتا ہے۔ اسکول انتظامیہ کی طرف سے پورے ہفتے کا مینیو والدین کو بھیج دیا جاتا ہے۔ جن بچوں کے والدین کسی قسم کے گوشت بچوں کو نہ دینے کی ہدایت کرتے ہیں انہیں چیز یا ویجیٹیبل پاستا اور سینڈوچ ہی دیے جاتے ہیں۔

اپنی مذہبی اقدار اور روایات کو زندہ رکھنا اور اپنے بچوں کو اس کی ترغیب دینا قابل تحسین عمل ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ان ممالک میں کب تک انہیں بچا پائیں گے۔ شاید بڑی مشکل سے دوسری یا بہت ہوا تو تیسری نسل تک۔

یہاں کے پیدا اور پروان چڑھے بچوں کا ناتا گزرتے وقت کے ساتھ اپنے والدین کے وطن سے کمزور سے کمزور تر ہوتا جائے گا۔ وہ مذہب اور عقیدے کو بھی اپنے والدین کی نظروں سے نہیں بلکہ بدلتی دنیا کے تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے جو شاید بہت مختلف ہو۔

آج جبکہ سائنس۔ سوشل میڈیا۔ انفارمیشن اور گوگل کا دور ہے اور نہیں پتہ کہ اگلی دو دہائیوں میں یہ کلچرل بمبارٹمنٹ اور انفارمیشن کا طوفان کیسے اور کس طرح ہماری آئندہ آنے والی نسل کے ذہنوں جھنجھوڑے اور ان کے اعتقادات کو نئے معنی اور نئی سوچ دے گا۔

انسان کو قدرت نے تجسس اور تحقیق کی نعمت سے نوازا ہے اور وہ اپنے اطراف ہونے والی تبدیلیوں اور واقعات سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ سوال کرنا ایک اچھی روایت ہے جب مکالمہ ختم ہو جائے اور سوال اٹھانے پر قدغن لگ جائے تو علم و تحقیق کی موت ہوجاتی ہے اس لیے سوال کرنا ضروری ہے اور سوالات اٹھنا شروع ہوچکے ہیں کیا ہمارے مولوی صاحبان کی بیان کردہ فرسودہ اور گھسی پٹی غیر مدلل تقاریر۔

ان سوالات کا موثر جواب کبھی دے سکیں گے؟ ستر فٹ کی حوروں کے جسمانی خد و خال پر مبنی بیانات سے کیا آنے والی نسل خود کو ریلیٹ کر سکے گی۔

میرا نو دس سالہ پوتا قرآن کی آن لائن کلاس لیتا ہے اسے کھانے۔ سونے۔ سفر پر جانے۔ بیت الخلا سے آتے جاتے اور سونے کی دعائیں یاد کرا دی گئیں ایک دن وہ اپنی ماں سے کہنے لگا ماما کیا ہر کام شروع کرنے سے پہلے صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لینا کافی نہیں۔ یہ تو صرف ایک بچے کا سوال ہے جس کا جواب دینا آسان نہیں۔ اسی بچے کو ایک خاتون آن لائن قرآن پڑھاتی ہیں وہ اس بچے سے بھی پردہ کرتی ہیں بچے نے ایک سوال یہ بھی کیا کہ میری قرآن ٹیچر تو مجھے دیکھ رہی ہیں تو میں انہیں کیوں نہیں دیکھ سکتا؟

اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ کچھ بھی کر لیں مغرب اور امریکہ میں مقیم پاکستان اور ایشیائی ممالک کی تیسری نسل مکمل طور پر یہیں کی ہوگی۔ بہت ساری اور وجوہات کے علاوہ ایک بڑی یہ بھی ہے کہ یہاں بچے اپنی زبان سے مکمل طور پر ناآشنا ہو گئے۔ یہ ایک المیہ ہے جس کے ہم سب ذمہ دار ہیں اپنی زبان سے دوری کی وجہ سے وہ اپنی تاریخ۔ ثقافت۔ تہذیب سے مکمل طور پر کٹ کر رہ جائیں گے اور اسی طرح مذہب کے حوالے سے بھی ان کی تعبیر بہت الگ ہوگی۔ یہ نسل جدیدیت کے سفر پر رواں دواں ہوگی۔ جس میں شاید پاکستانیت اور وہاں کے رسم و رواج اور مذہب کے موجودہ تشریح کہیں بہت پیچھے رہ جائیں گی۔

جس ”مذہب“ کی ہم آج پیروی کر رہے ہیں وہ اس نسل کے لیے ایک متھ سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔ ملا کی بیان کردہ روایت۔ کرامات اور معجزات کا سحر آنے والے وقت میں نہیں چلنے والا۔

فرسٹ ورلڈ تو اس متھ سے تقریباً دو سو سال قبل نکل آئی تھی۔

تارخ کے صفحے پلٹیں تو معلوم ہو گا کہ پندرہویں اور سولہویں صدی تک یورپ کی حالت ہم سے کہیں بدتر تھی۔ پوپ اور کلیسا اتنے طاقتور تھے کہ بادشاہ تک ان سے ڈرتے تھے اور عوام کی حالت غلاموں سے بھی بدتر تھی۔ پوپ کے حکم پر کسی کو بھی سزائے موت دی جا سکتی تھی اور زندہ جلا دیا جاتا یا دردناک اذیت دے کر مار دیا جاتا تھا۔

زار روس کے زمانے میں ایک شیطان صفت شخص راسپوٹین نے اپنی ”کرامات اور روحانیت“ کی وجہ سے شاہی خاندان اور ان کی خواتین کو اپنا گرویدہ بنالیا اور اس قدر طاقتور ہو گیا کہ درپردہ حکومت کے امور پر بھی اثر انداز ہونے لگا وہ سیاہ و سفید کا مال ہو گیا راسپوٹین کی عیاشیاں اور مکاریاں ضرب المثال بن گئیں تھی بالآخر انقلاب روس میں عوام کے غیض و غضب کا نشانہ بنا اور قتل کر دیا گیا۔

یورپ میں ریناساں کی تحریک سے جنم لینے والا صنعتی انقلاب اور روس میں پرولتاری ( مزدور طبقہ) بالشویک نے بوارژوا ( امرا طبقہ) کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور زار روس کی بادشاہی ختم کر کے ایک غیر طبقاتی نظام کی بنیاد ڈالی جس کے پیچھے کارل مارکس۔ انجلس اور ہیگل کے افکار اور فلسفہ تھا جو عام آدمی میں شعور و آگہی کا سبب بنا۔

سترہویں صدی کے آخر اور اٹھارہویں صدی کے اوائل میں روس اور یورپ میں نامور فلاسفرز اور لکھنے والے سامنے آئے جن کی کتابوں نے پورپ میں فکری انقلاب برپا کر دیا۔ پرنٹنگ پریس جو پہلے ممنوع تھا اور کتاب چھاپنے کی سزا موت تھی اب عام ہو گیا اور کتابیں لوگوں تک پہنچیں جس کی وجہ سے جہالت میں پسے عوام کو متعدد روشن خیال فلاسفرز کے خیالات اور افکار تک رسائی ہوئی۔ اسی روشن خیالی اور علم کی وجہ سے

یورپ تاریکی سے نکل کر نئے دور میں شامل ہو گیا۔ استحصال نظام کی چکی میں پسی عوام نے ان فلاسفرز کے فلسفے کی روشنی میں پوپ اور کلیسا کے کردار کو محدود کر کے ان کی چنگل سے رہائی حاصل کی۔

مذہب کو ریاست سے جدا کر کے یورپ صنعتی دور میں داخل ہوا اور جمہوری اداروں کی تشکیل عمل میں آئی۔ علم و آگہی آنے کے بعد ریاست کو چرچ کے سخت قوانین سے نجات ملی۔ صنعتیں لگنے اور تجارتی آزادی ملنے سے لوگوں میں خوشحالی آئی اور عوام کو اپنے حقوق کا ادراک ہوا۔

جان لاک نے اپنی کتاب life، Liberty and Property میں معاشرے میں شخصی جائیداد۔ انفرادی آزادی اور ریاست کے کردار پر روشنی ڈالی جس کے ذریعے عوام کو اپنے حقوق اور آزادی کا علم ہوا۔ اسی طرح روسو اور ہیگل کے افکار بھی صنعتی انقلاب کا محرک بنے۔

یورپ میں تحقیق اور علم کا سفر اس ترقی کے بعد رکا نہیں بلکہ نئے مفکرین نے تخلیق انسان۔ کائنات۔ خدا اور مذہب پر ایسے سوالات اٹھائے کہ جنہیں پڑھ کر دماغ جھنجھنا اٹھتا ہے اور عقیدہ و یقین کے بت لڑکھڑا جاتے ہیں۔

دو صدی قبل نامور مفکر ہالینڈ کے نامور فلاسفر بریج اسپونزا نے خدا کے وجود پر سوال کھڑے کر دیے جس سے یہودی اور عیسائی عقیدہ پر کاری ضرب پڑی اور وہ سب اسپونزا کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ اسپونزا نے خدا کو خالق نہیں بلکہ پوری کائنات کو خدا کا حصہ کہا (جو شاید ہمارے صوفی افکار کے فلسفہ وحدت الوجود سے قریب تر ہو) ۔

کارل مارکس کی کتاب ”داس کیپیٹل“ نے کیپیٹل ازم اور جاگیرداری نظام کے پرخچے اڑا دیے اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن گئی۔ کارل مارکس اور داس کیپیٹل کے بارے میں خود علامہ اقبال فرماتے ہیں۔

آں کلیم بے تجلی آں مسیح بے صلیب۔
نیست پیغمبر و لیکن دربغل دارد کتاب۔

اٹھارہویں صدی کے اوائل میں چارلس ڈارون نے Theory of Evolution ( نظریہ ارتقا ) پیش کر کے الہامی کتابوں میں درج تخلیق انسان کو ہی چیلنج کر دیا۔ وہ الہامی کتابوں میں بیان کی گئی انسانی تخلیق سے مطمئن نہیں ہوتا ہے اور نظریہ ارتقا سے ثابت کرتا ہے کہ ہر جاندار ارتقا کے مرحلے سے گزر کر موجودہ شکل میں ہے۔ ڈارون کی تھیوری کا زور Survival of The Fittest پر ہے۔ جس سے آنکھیں چرائی نہیں جا سکتی۔

سائنس۔ علمی تحقیق اور عقائد Faith and Fact میں بڑا فرق یہ بھی ہے کہ سائنس اور تحقیق زمانے اور وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ نت نئے تجربات پچھلی تھیوریز کی نفی کر دیتے ہیں اور انہیں تسلیم بھی کر لیا جاتا ہے جبکہ عقائد جامد رہتے ہیں اور اگر کوئی اس میں تبدیلی یا اجتہاد کے کوشش کرے تو مذہبی پیشوا اس کی گردن زنی پر اتر آتے ہیں۔ اور عوام کو صرف اپنی تاویل اور تشریح پر مجبور رکھتے ہیں جس سے ذرا بھی اختلاف انہیں ”مذہب“ کے دائرے سے باہر نکال دینے کے لیے کافی ہے۔

ترقی یافتہ معاشروں میں علم و تحقیق کا سفر جاری رہتا ہے۔ حالیہ دور میں ایک مفکر اسٹیفن ہاکنگز نے اپنی کتاب A Brief History of Time اور اپنی ہی دوسری کتاب The Grand Design میں خدا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے اس نے Personal & Impersonal God پر سوالات اٹھا دیے اور خدا کے وجود ہی سے منکر ہو گیا۔

اسی طرح جدید دور کے ایک اور مفکر رچرڈ ڈاکنگ نے بھی اپنی کتاب The God Delusion میں خدا کے وجود اور انسان کی تخلیق پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے جو پڑھنے والوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔

اسی ضمن میں ایک کتاب The Sapien میں  یوال نوحا ہراری نے انسانی تخلیق پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان حوالوں کے ذکر اور باتوں سے کسی خاص فکر کا پرچار ہرگز نہیں بلکہ جس طرح میں نے مضمون کے شروع میں عرض کیا تھا علم و تحقیق کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں اور یہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ اختلاف کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے اور یہی صحتمند مکالمے کو فروغ دیتا ہے۔

ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ معاشرے میں اکانومی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے ہے ایک خوشحال اور آسودہ شخص صبر و شکر۔ دعا اور کرامات سے زیادہ سسٹم۔ اپنے حقوق اور فرائض پر یقین رکھتا ہے وہ بلاوجہ مذہب کی آڑ میں پناہ نہیں لیتا۔ آج یورپ۔ امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں عوام کی ایک بڑی اکثریت مذہب بیزار ہے وہ خود کو سیکولر اور لبرل کہلانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ وہ اپنے حقوق بھی جانتے ہیں اور فرائض سے بھی غافل نہیں ہیں ان کے یہاں اگر بجلی یا گیس بغیر پیشگی اطلاع کے چلی جائے تو وہ ادارے پر ہرجانے کا مقدمہ بھی قائم کر سکتے ہیں اور ان کی سنوائی بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح کوئی پولیس اہلکار اپنی شناخت اور وجہ بتائے بغیر کسی شہری کی باز پرس نہیں کر سکتا۔ اسی طرح دوسرے قوانین ہیں جو شہری کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔

جبکہ تیسری دنیا صبر و شکر۔ جادو ٹونے۔ پیر فقیر اور باباؤں کی کرامات نے عام آدمی کو اپنے حصار میں جکڑ رکھا ہے وہ اپنے اوپر ہونے والے مصائب جو قدرت کی طرف سے نہیں بلکہ ناقص سسٹم کی وجہ سے ہوتے ہیں ”آزمائش“ سمجھ کر قبول کر لیتا ہے اور صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کرتا کہ شاید اسی میں کوئی ”مصلحت“ ہے اور یہی ہماری ”آزمائش“ ہے جبکہ اللہ کا قرآن میں فرمان ہے کہ تمھارے اوپر جو پریشانیاں اور مشکلیں آتی ہیں وہ تمھاری وجہ سے ہوتی ہیں اللہ تو اپنے بندوں کے لیے آسانی چاہتا ہے۔

قرآن میں اللہ بندوں سے مخاطب ہے کہ
” لیس النسان الا ما سعی“ ( انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے )

لیکن ہم اپنے اوپر ہونے والے ہر جبر کو اللہ کی مصلحت سے تعبیر کرتے ہیں اور صبر شکر پر قانع ہو جاتے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اگر بجلی چلی جائے تو کہا جاتا ہے صبر کرو اور بجلی آ جائے تو اللہ کا شکر ادا کرو کوئی یہ نہیں کہے گا بھائی یہ اللہ نے بجلی بند نہیں کی تھی بلکہ سسٹم کی ناکامی ہے اسی طرح سر راہ کوئی لٹ جائے تو تسلی دی جاتی ہے شکر کرو جان بچ گئی جبکہ یہ ”آفت اور ڈکیتی“ قدرت کی طرف سے نہیں بلکہ قانون کے عدم نفاذ کی وجہ سے ہوئی۔ لیکن ہم مجبور لوگ اسے اللہ کی آزمائش سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ۔

” لوگوں کو اتنا مذہبی بنا دو کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے ہر جبر۔ ظلم اور نا انصافی کو مشیت خداوندی اور امتحان سمجھ کر قبول کر لیں اور کوئی آواز نہ اٹھائیں“

تیسری دنیا میں مذہب کو سیاسی اور مذہبی طبقہ عوام الناس کے استحصال کے لیے ایک ٹول کی طرح استعمال کرتا ہے اور سادہ لوح عوام مذہب میں اس قدر غرق ہوچکے ہیں یا کر دیے گئے ہیں کہ وہ اپنے اور ہونے والے ہر ستم کو صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرلیتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے اور یہی ہوتا رہے گا۔

دنیا کو پہلا قانون دینے والے حمورابی سے بھی پہلے میسوپوٹیما ( آجکا عراق) میں سب سے پہلا انسانی سماج وجود میں آیا اور گندم کی کاشت شروع ہوئی جس کو بونے والی ایک لڑکی تھی اسے تاریخ میں Harvest Girl کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ کہ سماج کے وجود میں آنے کے بعد ہی

تین طبقات نے ایک اتحاد قائم کر لیا اور تینوں نے مل کر عوام کا استحصال شروع کر دیا کیا۔
پہلا طبقہ بادشاہ یا حکمران تھا۔ جو خدا کے مظہر کی نشانی بن بیٹھا۔

دوسرا طبقہ مذہبی پیشوا تھا جس نے مقدس کلمات اور کتاب کی تشریح کا ٹھیکہ لے لیا اور عام آدمی تک اس کی رسائی ناممکن بنا دی۔ اس طبقے نے بادشاہ سے گٹھ جوڑ کر کے اسے

ظل الہی کا خطاب دیا اور عوام کو یقین دلایا کہ اس پر خدا کا سایہ ہے اس کے خلاف سوچنے کو بھی خدا کی ناراضگی قرار دیا۔

تیسرا گروہ جنگجو یا واریئرز کا تھا جنہوں نے بادشاہ کی حفاظت کا ذمہ لیا اور فتوحات کیں اس طرح ان تینوں طبقات کے مفادات ایک ہو گئے اور ان تینوں نے مل کر عوام کا خون چوسا۔ ان کو غلام بنایا۔ ان کی محنت سے لگائی فصلوں پر لگان لگائے۔ رعایا کی عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور اپنے معبد و مندر میں داسی بنا کر رکھا۔

آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے بس نام وقت اور طریقہ بدل گیا ہے۔

کہنے کا مقصد یہ کہ تیسری دنیا کے لوگ جب تک معاشی طور پر مستحکم اور بے فکر نہیں ہو جاتے۔ ان کے روزمرہ کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ امن و امان۔ بجلی پانی۔ روزگار اور عزت نفس بحال نہیں ہوجاتی وہ اسی طرح مذہب اور عقیدہ کے بھنور میں پھنسے رہیں گے اور ان کا استحصال ہوتا رہے گا۔

جس دن ان کو بھی غصب شدہ حقوق مل گئے۔ تعلیم عام ہو گئی اور معاشی خوشحالی میسر آ گئیں جو فرسٹ ورلڈ کے لوگوں کو نصیب ہیں تو تیسری دنیا بھی بدل جائے گی اور مذہب نئی تشریحات سامنے آئیں گی جس سے نئی نسل خود کو ریلیٹ کرسکے گی۔

فی الوقت تو صدیوں پہلے مشہور فلاسفر ابن رشد کا کہا ایک جملہ یاد آ رہا ہے۔
” اگر جاہلوں پر حکومت کرنا ہے تو مذہب کا لبادہ اوڑھ لو“

Facebook Comments HS