کچھ ریاست بہاولپور کے آخری نواب کی بابت!
بہاولپور ایک حیرت کدہ ہے۔ جو شخص اس شہر کو پہلی بار دیکھتا ہے، خوشگوار حیرت میں ہی مبتلا ہو جاتا ہے۔ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ جنوبی پنجاب کے نسبتاً پسماندہ خطے میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت آباد کردہ، اس قدر منظم، ترقی یافتہ، صاف ستھرا، سر سبز، اور انتہائی دیدہ زیب محلات اور تاریخی عمارات سے مزین شہر بھی واقع ہو سکتا ہے۔ ایک زمانے میں یہ ریاست بہاولپور کا دارالحکومت تھا کہ جس میں بہاولنگر اور رحیم یار خان کے اضلاع بھی شامل تھے۔ وہ کون تھا جو اس شہر کا معمار تھا؟
نواب صادق محمد خان عباسی پنجم ریاستِ بہاولپور کے آخری نواب، تقریباً ساٹھ سال تک اس عہدے پر متمکن رہے۔ آپ نے ناں صرف بہاولپور کی تعمیر و ترقی اور اس کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کلیدی کردار ادا کیا بلکہ تقسیمِ ہند کے بعد نوزائیدہ مملکتِ پاکستان کو بھی اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے بھرپور مدد کی۔ ایک مطبوعہ روایت کے مطابق ایک سال تک پاکستان کے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ریاستِ بہاولپور کے خزانے سے ادا کی گئیں۔
ایک اور روایت کے مطابق ریاست کی فوج کو بھی پاکستانی فوج میں ضم کر دیا گیا۔ پرل کانٹی نینٹل ہوٹل لاہور اور میریٹ اسلام آباد میں کھڑی بیش قیمت کیڈلک اور رولز رائس گاڑیاں بھی ہمیں اس تحفے کی یاد دلاتی ہیں جو نواب صاحب نے قائد اعظم کو بطور گورنر جنرل ان کے سرکاری استعمال کے لیے دیں۔ نواب صاحب نے نوزائیدہ مملکت کی ائر لائن کی بنیاد رکھنے کے لیے بھی مالی معاونت فراہم کی۔ اور اس نوعیت کی اور بہت سی نوازشات!
اب ایک ایسے شخص کہ جس کے احسانات نا صرف اہلِ بہاولپور پر ہیں بلکہ جس نے آزادی کے بعد ابتدائی ایام میں پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں بھرپور مدد کی، اور جس نے ہندوستان کی تمام تر ریشہ دوانیوں اور اس کی دلفریب پیشکشوں کو ٹھکرا کر اپنی ریاست کو پاکستان میں ضم کر دیا کہ جو آج پنجاب کے سب سے بڑے ڈویژن کی صورت میں صوبے کے تقریباً پانچویں حصے پر موجود ہے، ہم 24 مئی کو اس کی برسی کو خامشی سے کیسے گزر جانے دیں؟
پس فیصلہ کیا ہے اس روز بہاولپور کے تمام اضلاع میں مقامی تعطیل ہو گی، نئی نسل کو ان کی خدمات سے آگاہ کرنے اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس دن کا آغاز ان کے مقبرہ پر گارڈ آف آنر پیش کرنے سے کیا جائے گا۔ ہم امید کرتے ہیں یہ روایت آنے والے سالوں میں بھی جاری و ساری رہے گی۔
اس حوالے سے آپ کا بھی ایک مشورہ درکار ہے کہ اس محسنِ پاکستان کو آپ کی رائے میں کیا لقب ملنا چاہیے؟ اپنے دوستوں، رشتہ داروں سے بھی مشورہ کیجیے۔ چاہیں تو اس پیغام کو دوسروں سے شیئر کر لیجیے۔ اہل علم و اہل قلم سے بھی رہنمائی لیجیے۔
جس لقب پر سب سے زیادہ لوگ متفق ہوں گے، ہم حکومت سے اس حوالہ سے سفارش بھی کریں گے۔
بے شک زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں!
(احتشام انور ایک سرکاری ملازم ہیں اور آج کل کمشنر بہاولپور ڈویژن کے عہدے پر فائز ہیں۔ )



