کیا نو مئی آپ کے لیے سرپرائز تھا؟

نو مئی 2023 ایک زبردست سرپرائز تھا بالکل ایسے جیسے نظام تولید کے اسرار و رموز سے مکمل طور پر ناواقف ایک لڑکے اور لڑکی کی شادی کرا دی جائے اور اگلے چند مہینوں میں حمل ٹھہر جانے کی خبر ایک سرپرائز ہوتی ہے۔ جو بویا تھا وہی کاٹو گے۔ لوگ حیرانی سے پوچھتے ہیں کہ کیا لاہور میں کوئی جناح ہاؤس بھی تھا؟ بھئی حیرانی کی کون سی بات ہے جہاں ہمارا بڑا صاحب رہتا ہو گا وہ ہاؤس جناح ہاؤس ہی بن جائے گا۔
ہمیں اوریا مقبول جان، زید حامد اور وینا ملک نے بتایا ہے کہ ہم بہت سپیشل قوم ہیں۔ ورنہ کوئی عام ملک ہوتا تو انہوں نے ”فادر آف دی نیشن“ کے گھر میں کوئی میوزیم، لائبریری یا آرٹ سنٹر وغیرہ بنا کر مکان ضائع کر دیا ہوتا۔ ہم نے اس میں ایک سرکاری ملازم کو رہائش دے دی تاکہ فادر آف نیشن کی نشانی کسی کام تو آ سکے۔ اس استعمال کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ فادر آف دی نیشن کے گھر کے رہائشی گرینڈ فادر آف دی نیشن بن گئے۔
شہریار آفریدی صاحب نے ”فادر آف دی نیشن“ کے تصور میں بھی مناسب تبدیلی کر دی تھی تاکہ یہ سیٹ خالی نہ رہے۔ ایک پیج کا دور تھا اس لیے ان کا خیال تھا کہ نئے تصور کے مطابق ”باپ“ کا عہدہ کبھی خالی نہیں ہو گا۔ ایکس ٹینشن یعنی ملازمت میں توسیع مل جائے گی یا پھر پاک فوج کا نیا چیف آ جائے گا۔ ہوا تو بالکل ایسا ہی، پہلے ایکس ٹینشن ملی اور پھر نیا ”ابا“ آ گیا لیکن ایک خاص قسم کی جنت میں رہنے والوں کے لیے سرپرائز بھی ساتھ ہی آیا۔
اگر نو مئی آپ کے لیے ایک سرپرائز تھا تو مبارک ہو، کہ آپ ابھی سے جنت میں رہتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ مرنا ابھی باقی ہے۔ پاکستان میں بہاریں اسی جنت کے باسیوں کی بدولت ہیں۔ ہم نے یہ جنتی بڑی مشکل سے تراشے ہیں۔ اس جنت میں خوش و خرم رہنے کے لیے ہم آپ کے کان اس غیرت مند مواد سے بناتے ہیں جو گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کو دریا برد کر دیتا ہے اور ہماری قومی غیرت پر آنچ نہیں آنے دیتا۔ گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی جتنی منت سماجت مرضی کر لے کچا گھڑا اس کو ”پار نہیں لگاتا“ ۔
مزید احتیاط کے لیے ہم ان دو کچے کانوں کے درمیان پڑے ایک بے کار سے گودے کو مکمل فریز کر دیتے ہیں۔ ہم یہ کام بہت کامیابی سے کر رہے ہیں۔ یہ جنت اس دنیا میں ہم پاکستانیوں کا سب سے بڑا ٹھکانہ ہے۔ سب سے بڑا سہارا بھی ہے۔ یہیں ہماری ملاقات ان غیر ملکیوں سے بھی ہوتی ہے جو ہٹلر کو مسیحا مانتے تھے اور اب ان کے بچے ٹرمپ، مودی اور برگزٹ کے لیے ووٹ ڈالتے ہیں۔ صرف کپتان ہی نہیں ان کے مرید بھی بین الاقوامی شہرت کا دعوہ کر سکتے ہیں۔
نو مئی 2023 پر جدید افغانستان کے معمار جنرل حمید گل، ریمنڈ ڈیوس فیم جنرل پاشا، دھرنا ماسٹر جنرل ظہیر اسلام، سعودی عرب والے جنرل راحیل شریف، عقل کل فیم اور ایکس ٹینشن ماسٹر جنرل قمر جاوید باجوہ اور جادو نگری کے کھلاڑی اور فیض آباد دھرنا کے سرپنچ جنرل فیض حمید کی صحت، تندرستی اور خیر خیریت کے بارے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ابھی تک کسی نے بھی چلو بھر پانی کو گدلا نہیں کیا۔
ان جمہوریت پسند جرنیلوں کے تبدیلی، ایمانداری اور فن سپاہ گری بارے خیالات میں حالیہ دنوں میں ایک ہلچل دیکھی گئی ہے۔ موجودہ آئی ایس آئی چیف پر اعتبار کم ہونے کی وجہ سے ان میں سے کوئی بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن کو تیار نہیں ہے۔ ان کے خیال میں اب ان وردی والوں پر اعتبار ممکن نہیں رہا، انہیں تو نواز شریف نے خرید لیا ہے۔ سنا ہے کہ یورپ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے فیملی سمیت مستقل رہائشی پاک فوج کے بیسیوں سابق جرنیل اس تجویز پر غور کر رہے ہیں کہ آئی ایس آئی کا اگلا چیف شیخ رشید، چوہدری پرویز الہی یا زلمے خلیل زاد کو بنایا جائے۔ جنرل سنتھیا رچی کا نام اس لسٹ میں شامل نہ ہونا حیران کن ہے۔ خاص طور جب ہمیں جنرل رانی کے سنہرے دور کا تجربہ بھی ہے۔
ہماری پچھتر سالہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہم ایک عظیم قوم ہیں اور ہم مستقبل کو دیکھ لیتے ہیں۔ ہماری تو گھاس کھانے کی خواہش (اور پیشن گوئی) تک پوری ہو گئی ہے۔ ہمارے جرنیل تو بہت ہی جمہوریت پسند ہو گئے ہیں۔ اب تو وہ کم بخت پڑوسیوں کی ساس کی خواہش پر بھی مارشل لاء لگانے کو تیار نہیں ہیں۔
خیر اب جب کہ نو مئی کھل کر ہو گیا ہے تو پوری قوم کو چاہیے کہ اس واقعہ کو فوج کی ساکھ بحال کرنے کے لیے استعمال کریں۔ ان پیادوں کو سخت سے سخت سزا دیں جنہیں ہم نے تشدد اور جلاؤ گھیراؤ ہی کے لیے تیار کیا تھا۔ ہاں انہیں تیار کرنے والوں کا تو اس میں کوئی قصور نہیں اس لیے ان سے مل کر خوشی کا اظہار کریں۔ انہیں ضمانت پر باعزت بری کریں اور نیک خواہشات ان کے ساتھ کر دیں۔ بچوں کی تعداد اور دفاع کے بجٹ پر دھیان نہ دیں۔ پاکستان اور ہمارا عقیدہ پچھتر سال سے جس نازک اور اندھیرے موڑ سے گزر رہا ہے وہ انتہائی مقدس ہے۔ اس اندھیرے سے نکلنے کی بات غداری، بلاسفیمی اور کفر کی سازش ہے۔
ہم ایک غیرت مند قوم ہیں۔ اپنے نوجوانوں کی تربیت اسی طرح جاری رکھنی ہے۔ جیسے پہلے ہم نے دیوبندی نوجوانوں کو مجاہدین اور طالبان بنا کر اسلام کے تحفظ کے عہدے پر کھڑا کیا۔ پھر بریلوی نوجوان کو رسالت کے تحفظ کا منصب دیا اور اب ایلیٹ نوجوان کو کرپشن کے خاتمے اور میرٹ کی بحالی کا اہم کام سونپ دیا ہے۔ اب اتنے اہم عہدوں سے اپنے عام طور پر بے کار نوجوانوں کو نیچے اتارنا لمبا اور مشکل کام ہے۔ وہ لمبا اور مشکل کام تو ہم نے کرنا نہیں کیونکہ کشمیر، بیت المقدس اور ڈاکٹر عافیہ کو بھی تو آزاد کرانا ہے۔ اس لیے نو مئی جیسے سرپرائز تو پھر آتے ہی رہیں گے۔

