نصف صدی سے مسنگ پرسن حر سالار فقیر امین منگریو


فقیر امین منگریو کا تعلق جیسلمیر کے گاؤں کھاڈار سے تھا، ان کا خاندانی پیشہ بھیڑ بکریاں پالنا تھا، لکڑی اور گھاس پھوس سے بنی ہوئی جھگیوں اور چونئروں میں رہتے تھے بعد میں وہاں سے مال مویشی کے لئے اچھے چراگاہوں کی تلاش میں عمرکوٹ کے قریب گاؤں ٹیبھری میں آ کر آباد ہوئے۔

1952ء میں پیر صاحب پگاڑا کی گدی ایک دہائی کے بعد بحال ہوئی تو درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں بہت زیادہ کام ہونے والا تھا، پیر صاحبان کی حویلی اور پیر محمد راشد روضے دھنی کا مقبرہ نئے سرے سے تعمیر کرنے تھے، پیر صاحب کی سینکڑوں ایکڑ زمینیں بھی حر مارشل لا کے دوران پولیس کی کارروائیوں کی وجہ سے دس سال تک غیر آباد رہنے سے جنگلات میں تبدیل ہو گئیں تھیں ان کی بحالی کا کام بہت مشکل تھا، پیر شاہ مرداں شاہ اور ان کے بھائی پیر نادر علی شاہ یہ سارے کام اپنے لوگوں میں بانٹ دیتے اور ان کی نگرانی خود کرتے، سیکڑوں لوگ اگلے کئی سال تک یہ کام کرتے رہے، جن لوگوں نے اپنے مرشد کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس وقت درگاہ شریف کے یہ کام بہت ہی منظم طریقے سے بڑی جفاکشی، ایمانداری، کفایت شعاری اور تابعداری سے سرانجام دیے ان میں سے فقیر امیں منگریو سب سے تگڑے ثابت ہوئے، انہوں نے پیر صاحب کا ٹرانسپورٹ کا نظام بھی تشکیل دیا یہ ہی وجوہات تھیں کہ وہ پیر صاحب کے سب سے زیادہ اعتماد والے آدمی بن گئے تھے، درگاہ شریف کے روز مرہ کے تمام انتظامی و مالی معاملات، خلفاء، جماعت اور اپنے دوست و احباب سے رابطہ کاری سمیت سارے کام ان کے سپرد ہو چکے تھے، وہ پیر صاحب کے ایک طرح سے دست راست تھے۔

ان ہی دنوں میں پاکستان اور انڈیا میں رن آف کچھ میں جھڑپیں ہوئیں اور بعد میں 1965ء کی جنگ ہوئی تو اس سے پہلے صدر جنرل ایوب خاں نے سندھ رینجرز کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل برگیڈیئر خداداد خان کو پیر صاحب کے پاس بھیجا اور جنگ کے لیے ہزاروں نفوس پر مشتمل افرادی قوت کا تقاضا کیا، پیر صاحب نے فوج کی مدد سے ملک کا دفاع مضبوط بنانے کے لئے اپنے مرید حروں کو طلب کیا، رحیم یار خان، ڈھرکی، خیرپور میرس، سانگھڑ، ڈھورونارو، چھور، عمرکوٹ اور بدین سمیت کئی شہروں میں حروں کو بھرتی کر کے بنیادی جنگی تربیت دے کر بہاولپور کے چولستان صحرا سے لے کر اچھڑو تھر، تھرپارکر اور رن کچھ کی سیکڑوں کلومیٹر لنبی سرحد کے دفاع کی ذمہ داری حروں کو سونپی گئی تھی، پیر صاحب پگارا ہزاروں نفوس پہ مشتمل اس مایہ ناز حر فورس کے سالار اعظم مقرر ہوئے جبکہ ان کے بھائی پیر نادر علی شاہ چولستان اور اچھڑو تھر پہ مشتمل شمالی علاقے کے اور فقیر امین تھرپارکر اور رن آف کچھ پہ مشتمل جنوبی سیکٹر کے سالار مقرر کیے گئے تھے، اس فورس نے سندھ رینجرز اور پاک فوج کی سپورٹ سے اس جنگ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف دشمن کو پاکستان کی سرزمین پہ قدم رکھنے سے روکے رکھا تھا مگر انڈیا کی فوجوں پر جارحانہ حملے کر کے ان کو پیش قدمی پہ مجبور کیا، راجستھان کے مغلیہ دور کے دو اہم قلعوں گھوٹاڑو اور کشن گڑھ سمیت کئی فوجی تنصیبات پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا، انہوں نے انڈیا کا تقریباً 1200 اسکوائر میل علاقہ فتح کر کے ایک نئی جنگی تاریخ رقم کردی!

اس جنگ کے دوران پیر صاحب خود نے عمرکوٹ کے قلعے میں اپنا جنگی دفتر قائم کیا ہوا تھا بوقت ضرورت اگلے محاذ پہ حروں کا حوصلہ بڑھانے جاتے، نادر علی شاہ اور امین فقیر اپنے اپنے سیکٹرز میں رہتے، ایک لمبی سرحد پہ اپنے انڈر کمانڈروں اور جوانوں سے رابطہ رکھنے کے لیے پیر صاحب اور ان کے سیکٹر کمانڈرز کو فوجی ہیلی کاپٹر بھی استعمال کرنے پڑتے تھے، پیر نادر علی شاہ ہیلی کاپٹر کی سواری کے متعلق امین فقیر کی قسمت پر رشک کرتے ہوئے ان سے مذاق کرتے ہوئے کہتے ”آپ کے گھر میں کھانے کے لیے اناج دانے بھی پانی رکھنے کے لیے مٹی سے بنے ہوئے گھڑے میں رکھے جاتے ہیں مگر آپ کی قسمت بہت اچھی ہے کہ ہیلی کاپٹر پر سواری کر رہے ہو!

اس جنگ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر صدر ایوب خان کی جانب سے پیر پگاڑا، پیر نادر علی شاہ اور امین فقیر سمیت کچھ اور کمانڈروں کو بھی تمغے، ستارے اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا تھا، اس طرح فقیر امین کی شہرت آسمان چھونے لگی تھی جو نہ صرف ان کے دشمنوں مگر ان کے کئی حاسد دوستوں کو بھی نہیں بھاتی تھی۔

اسی اثناء میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی کابینہ سے مستعفی ہو کر پیپلز پارٹی قائم کی اور سندھ کے ضلع سانگھڑ سے تعلق رکھنے والے پیر پگاڑا کے قریبی ساتھی جام صادق علی، شاہ نواز جونیجو، علی بخش جونیجو اور خانصاحب علی خان جونیجو سمیت کئی اہم شخصیات ان سے منحرف ہو کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئی تھیں، 1970ء کے انتخابات قریب آنے لگے تو ووٹوں کے چکر میں ان شخصیات نے حر جماعت کے حامیوں کو ڈرا دھمکا کے یا بول بچن دے کر پیپلز پارٹی کی حمایت کرنے پر مجبور کرنا شروع کیا، پیر صاحب کے مریدوں پر بھی ڈورے ڈالنے لگے، مریدوں نے اس عمل کی مزاحمت کی تو یوں وہ سیاسی مخالفت ذاتی دشمنی میں بدلنے لگی، ذوالفقار علی بھٹو نے انتخابی مہم کے دوران سانگھڑ میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا اور پیر صاحب کے حر مریدوں نے اس کو سبوتاژ کرنے کا فیصلہ کیا، اس دن سانگھڑ میں حالات بہت کشیدہ تھے، جلسہ علی بخش جونیجو کے پٹرول پمپ کے پاس جاری تھا، بھٹو صاحب، غلام مصطفی کھر، مولانا کوثر نیازی، مخدوم طالب المولی اور دیگر رہنما اسٹیج پر براجمان تھے، معراج محمد خان جلسے سے خطاب کر رہے تھے کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی، لوگوں نے بھٹو صاحب کو گھیر کے بچا کر گاڑی میں بٹھایا اور شہر سے باہر لے گئے، فائرنگ سے پی پی کے ایک مقامی رہنما حاجی عثمان چانہیوں کا ڈرائیور ابراہیم راہموں ہلاک ہو گیا اور کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے یوں سانگھڑ کا وہ جلسہ افراتفری کی نذر ہو گیا، اس واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا، دشمنی میں شدت آ گئی، پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو جام صادق علی صوبائی وزیر بلدیات مقرر ہوئے اور انہوں نے بھٹو صاحب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کا سانگھڑ کا جلسہ بگاڑنے والوں سے انتقام لینے کا فیصلہ کیا، سب سے پہلے اپنی پسند کے ڈی سی امداد اللہ انڑ اور ایس پی غلام شبیر کلیار مقرر کروائے اور پیر صاحب کے مریدوں کے خلاف پکڑ دھکڑ شروع کردی نہ صرف سانگھڑ مگر تھرپارکر اور عمرکوٹ سمیت پورے سندھ میں انتقامی کارروائیاں شروع ہو گئیں، انگریزوں کے بعد پیپلز پارٹی کا یہ دور حروں کے لیے ایک اور سیاہ دور ثابت ہوا، اسی دوران سانگھڑ میں جن بھی حروں کو گرفتار کیا جاتا تو سیشنز کورٹ سانگھڑ کے کراچی سے تعلق رکھنے والے جج سید اویس مرتضی ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے کر رہا کر دیتے، جام صادق علی کے حروں سے انتقام لینے کی راہ میں رکاوٹ بننے والے اس سیشن جج کو بھی پولیس نے ان کے چیمبر سے گرفتار کر کے لاک اپ کر دیا!

بعد میں سندھ ہائی کورٹ کی مداخلت پر جج کو رہائی ملی اور ان کا وہاں سے تبادلہ کر دیا گیا۔ ان دنوں فقیر امین سینٹرل جیل سکھر میں قید تھے وہاں سانگھڑ میں جام صادق علی کے دیرینہ دوست اور پیپلز پارٹی رہنما علی بخش جونیجو یکم اکتوبر 1973 کو دن دھاڑے بھرے بازار میں قتل ہو گئے، جام صادق علی کو حروں کے اس قتل میں ملوث ہونے کا شک تھا مگر قانونی طریقہ اختیار کرنے کی بجائے ان کے اشارے پر پولیس نے شاہ پور جاکر کے نواحی گاؤں میں چھاپہ مارکر کچھ حروں کو گرفتار کر لیا اور تین دن بعد ان میں سے 6 افراد کو شہر سے باہر لے جا کر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

اس سے اگلے روز سانگھڑ پولیس امین فقیر کو جعلسازی سے بنائے گئے کاغذات پر سکھر سینٹرل جیل سے اپنی تحویل میں لے کر سانگھڑ آئی جہاں کہا جاتا ہے کہ دو تین دن تک ان کے پیپلز پارٹی رہنماؤں اور سرکاری افسروں سے مذاکرات چلتے رہے اور مذاکرات کی ناکامی پر ان کو قتل کر کے لاش کسی نامعلوم مقام پر دفن کر دی گئی، اس طرح یہ حر سالار اور پیر پگاڑا کے دست راست فقیر امین منگریو نصف صدی سے مسنگ پرسن ہیں۔

Facebook Comments HS