پاکستان میں اعلیٰ تعلیم (ہائر ایجوکیشن) کا تنقیدی جائزہ


دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اعلٰی تعلیم کو افراد اپنے لئے پروفیشنل ڈیویلپمنٹ، روزگار کے حصول اور کاروبار کی ترویج، جبکہ حکومتیں اور ریاستیں اسے ملکی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتیں ہیں۔ اس لئے اعلٰی تعلیم کو وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لئے مسلسل کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن ہماری یونیورسٹیاں سائنس، سوشل سائنسز اور ہیومینیٹیز کے مختلف ڈگری پروگرامز کے نصاب کو جدید مارکیٹ کے تقاضوں سے مربوط کرنے میں بہت پیچھے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کوششوں کے باوجود تعلیمی نصابوں میں سائنس کے مضامین کے علاوہ کوئی خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی۔ فلسفہ، تاریخ، تعلیم، سماجیات، معاشیات، اسلامیات اور سیاسیات کے ڈگری پروگرامز کو جدید خطوط پر ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

ان سوالوں پہ سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے ڈگری پروگرامز مسائل کا حل ( پرابلم سولونگ ) سکھاتے ہیں؟ کیا بشریات اور سماجیات کے کورسز میں سوچنے سمجھنے، مسائل کا تجزیہ کرنے اور حل نکالنے کی تربیت دی جاتی ہے؟ کیا تعلیم کے اطلاقی پہلو پہ توجہ دی جاتی؟ میرا مشاہدہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ صرف معلومات دی جاتی ہیں جن کی بنیاد پر نوکری حاصل کرنے یا کاروبار شروع کرنے میں کوئی خاص مدد نہیں ملتی۔ اسی طرح ریاضی، فزکس کیمسٹری اور بائیالوجی کی تعلیم بھی معلومات کی ترسیل کے ایک فرسودہ میکنزم کا عکاس ہے۔

گریجویشن اور پوسٹ گریجویٹ لیول کا ریسرچ ایک علامتی رسم بن کے رہ گیا ہے۔ بہت ساری یونیورسٹیوں میں مرکزی ریسرچ ریپوزٹری موجود نہیں اس لیے اگر کئی طالب علم ایک ہی ریسرچ کو متغیر اکائیوں (ویریبلز ) کو بدل بدل کے جمع کر وائیں تو جانچنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔ اب تو سوشل میڈیا پہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو دیدہ دلیری سے محض چند ہزار روپوں کے عوض ماسٹرز کا پورا مقالہ لکھ کے دینے کا وعدہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کسی بھی لیول پہ طالب علموں کے انجام دیے ہوئے ریسرچ کا اطلاق نظر نہیں آتا۔ نہ مارکیٹ اس سے استفادہ کر سکتا اور نہ ہی سماجی اداروں میں اس کا کوئی مصرف نظر آتا ہے۔

مختلف ڈیپارمنٹس میں پڑھا نے والے اساتذہ کی اکثریت ٹیکنالوجی اور ما بعد جدیدیت کے علمی رجحانات اور مباحث میں دلچسپی لیتے نہیں دکھائی دیتے ہیں۔ اور اس وقت مختلف شعبوں میں جدید مارکیٹ کے رجحانات کو سمجھنے والے اساتذہ کی اشد ضرورت ہے ساتھ ہی ساتھ موجودہ اساتذہ کے لیے روایتی ڈگریوں سے ہٹ کر پروفیشنل ڈیولپمنٹ پروگرامز ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پاکستان کے اعلٰی تعلیم کو ایک نئی زندگی عطا کر سکیں۔

اعلٰی تعلیم کی اطلاقی پہلو کے ساتھ اس کا پالیسی اور سیاسی پس منظر پہ بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس سوال پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارا اعلیٰ تعلیمی پالیسی ترقی کے کسی متعین ہدف کو حاصل کرنے میں مدد گار ہے یا یہ محض ڈگریوں کے حصول اور طاقت کے مروجہ میکینزم کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اگر اعلٰی تعلیم کے پالیسی پہلو کو سنجیدہ نہ لیں تو معاشرہ انتشار اور جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور اگر تعلیمی نظام، تنقیدی شعور کی آبیاری، انسانی اقدار کی تدریس، آرٹ کی ترویج، انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی، اور جدید مہارتوں اور ٹیکنالوجی میں مہارت پیدا کرنے کی بجائے طاقت کے ایک فرسودہ نظام کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے مندرجہ ذیل خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں :

1۔ معاشرے میں مختلف سطحوں پہ قیادت کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔ قیادت کے فیصلے حکمت اور دانش کی بجائے جذباتیت، دقیانوسیت، متشدد عصبیت، اور کھوکھلے نعروں پہ مبنی ہوتے ہیں۔

2۔ افراد تاریخی نرگسیت، اجتماعی سائیکوسس اور گروہی غرور کا شکار ہو کر اپنے آپ کو عظیم ترین سمجھنے لگتے ہیں، اور انہیں اپنی کمزوریاں نظر نہیں آتیں جس کی وجہ سے وہ اپنی ناکامیوں کا جواز سازشی نظریات میں ڈھونڈتے ہیں۔

3۔ سیاسی و نظریاتی چسکے اور قبائلی عصبیت انسانی اقدار پہ غلبہ پاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں معاشرہ پارسائی کا دعویدار تو نظر آتا ہے، لیکن اپنی باطن میں افراد روحانی اور اخلاقی زوال اور بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ بحران ایک طرف عدم برداشت، نفرت اور مورل پولیسنگ کی شکل اختیار کرتا ہے تو دوسری جانب حلال اور حرام کا فرق مٹ جاتا ہے۔ ہر بندہ اپنی حیثیت اور طاقت کے مطابق کرپشن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ناپ تول میں کمی، اپنی ذمہ داریوں کا ادا نہیں کرنا، موقع سے فائدہ اٹھا کر مارکیٹ اور لوگوں کا استحصال کرنا اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہوتا ہے کہ ہر بندہ اپنے لیے اس کو جائز اور دوسروں کے لیے نا جائز قرار دے کر نصیحت کرتے ہوئے نہیں تھکتا۔

4۔ تعلیم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے، ایسے افراد کو تعلیمی نظام سے دور رکھا جاتا ہے جن میں صلاحیت، اور قابلیت ہو اور وہ جدت اور تنقیدی شعور کے حامل ہوں۔ نصابوں اور تدریسی سرگرمیوں کے ذریعے تنقیدی شعور، سوال پوچھنے اور جوابات حاصل کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔ جس کے نتیجے میں فارغ التحصیل طالب علموں کے پاس ڈگریوں کے پلندے تو ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے علم کو کاروبار یا معاشی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

5۔ شخصی نفسانفسی جنم لیتا ہے جو ملک، قوم، اجتماعیت اور مفاد عامہ کے احساس کو نگل جاتا ہے۔

6۔ سائنس کی تعلیم اور تدریسی کو سیاست اور نظریاتی فریم ورکس کے تابع بنانے کی وجہ سے طالب علموں اور اساتذہ میں تخلیقیت، اور جدت کا فقدان پیدا ہو جاتا جس کا نتیجہ ٹیکنالوجی اور جدید علوم سے دوری کی صورت میں نکلتا ہے۔

7۔ سماجی علوم اور بشریات پس منظر میں چلے جاتے ہیں، آرٹ اور تخلیقیت کو گھٹن زدہ معاشرہ نہ صرف رد کرتا ہے بلکہ اس کی حوصلہ شکنی بھی کی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں اظہار کے محتاج جذبات اور احساسات غصہ، جنسی بے راہروی اور جرائم کی صورت میں نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔

آج کی دنیا میں علم طاقت ہے۔ علم پے مبنی معاشی نظام میں تنقیدی شعور، ٹیکنالوجی اور جدت سے مسائل کو حل کرنے کی تربیت دینے والا اعلٰی تعلیمی نظام ناگزیر ہے۔ اگر ہم اپنے نو جوانوں کو جو ملکی آبادی کا ساٹھ فیصد ہیں کے لئے اعلیٰ تعلیم کے نظام کی ترتیب نو نہ کرسکیں تو خدا نخواستہ انہیں ایک غیر تربیت یافتہ افراد کے مایوس ہجوم میں تبدیل کر دیں گے۔ اس وقت اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ریاستی لیول پہ سیاسی مفادات سے قطع نظر سائنس، سوشل سائنسز اور بشریات کی تعلیم کو اکیسویں صدی کی مہارتوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔

Facebook Comments HS