پاکستان میں اعلیٰ تعلیم (ہائر ایجوکیشن) کا تنقیدی جائزہ

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اعلٰی تعلیم کو افراد اپنے لئے پروفیشنل ڈیویلپمنٹ، روزگار کے حصول اور کاروبار کی ترویج، جبکہ حکومتیں اور ریاستیں اسے ملکی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتیں ہیں۔ اس لئے اعلٰی تعلیم کو وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لئے مسلسل کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن ہماری یونیورسٹیاں سائنس، سوشل سائنسز اور ہیومینیٹیز کے مختلف ڈگری پروگرامز کے نصاب کو جدید مارکیٹ کے تقاضوں سے مربوط کرنے میں

Read more

تاریخ کا مطالعہ آسان نہیں

تاریخ گاڑی کے فرنٹ مرر یعنی آئینے کی طرح ہوتا ہے جس میں آ پ کو گاڑی کے پیچھے کا پس منظر دکھائی دیتا ہے. آگے کی طرف ڈرائیو کرنے کے لیے پیچھے دیکھنا بھی ضروری ہے.. افراد اور قوموں کا حال اور مستقبل میں آگے بڑھنے کے لئے اپنے آپ کو ماضی اور آپنی تاریخ کے آئینے میں دیکھنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے. جہاں تاریخ اپ کو شناخت عطاء کرتا ہے وہیں پہ غلطیوں سے سیکھنے, اقدار و

Read more

بیانیوں کا تصادم

جدیدیت کے جن تجربات اور ہیجانات سے ترقی یافتہ قومیں تین سو سال کے عرصے میں گزری ہیں، ہمارے ہاں ان کی جھلک پچھلے بیس سالوں میں نظر آ رہی ہے۔ جب تبدیلی اتنی تیز ہو تو اس کو سمجھنا اور سمت دینا آسان نہیں ہوتا۔ ہم سب اپنے اپنے خول میں بند تھے اور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے اچانک اس خول کو توڑ کر ہمیں ایک عالمی بھیڑ بھاڑ والی شاہراہ پہ لا کھڑا کیا ہے۔ ہماری پرائیویسی کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ گئی ہے اور بہت کچھ آشکار ہو رہا ہے۔

ایسی صورت حال میں ہم میں سے اکثر اپنی اپنی شناخت کو منوانے اور دوسروں کی شناخت کو سمجھنے کے عمل سے گزر رہیں۔ ہیں۔ ہم یکا یک اپنے سے مختلف کلچرز، سیاسی نظریات، صنفی شناختیں اور مذہبی عقائد کے لوگوں سے روبرو ہو رہے ہیں۔ لیکن ہمارے تعلیمی نظام نے ہمیں اس انسانی گونا گونی کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں کیا ہے۔

Read more

عقلی زندان اور معنی کے خزانے

زبان و بیاں کو معنی کے پس منظر میں دو لیولز پہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک لیول معلومات کے تبادلے کا ہوتا ہے اور اس کا زیادہ تر تعلق ان مادی حقائق کے اظہار اور ابلاغ سے ہوتا ہے جن کا ہم اپنے حواس خمسہ کے ذریعے مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً موسم کا حال، اخبار میں چھاپی گئی کوئی خبر، کسی سائنسی مفروضے یا تجربے کا بیان، کسی قانونی حکم کا متن، یا کھانا پکانے کی کوئی ترکیب وغیرہ۔

Read more

مظلوموں کی تعلیم

مظلوموں کی تدریس پاولو فرارے کی لکھی ہوئی کتاب ہے جس کو تعلیم کے میدان میں وہی مقام حامل قرار دے سکتے ہیں جو انگریزی ادب میں شیکسپیئر کے ڈرامے جولیس سیزر کو حاصل ہے۔ پاولو فرارے موجودہ دور کے چند گنے چنے ماہرین تعلیم میں سے ہیں جنہوں نے تعلیم کے تصور کو اور فلسفے کو ایک نئی سمت دی ہے۔ اگر آپ تعلیم کو ترقی، خود اعتمادی، سماجی انصاف کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں تو اس کتاب

Read more