دور کی کوڑی یا خوش فہمی

گزشتہ پانچ سال سے تباہ کن صورتحال اور تمام تر معاشی سیاسی اور سماجی بحرانوں کے باوجود پتہ نہیں کیوں مجھے چند دن سے خوش فہمی سی ہو رہی ہے کہ شاید ہم اخلاقی سماجی، سیاسی اور آئینی تباہی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں اس لئے اب مزید تباہی ممکن نہیں بلکہ اب ہم واپس اصلاح ترقی اور بہتری کی جانب سفر شروع کریں گے۔
پراجیکٹ عمران ناکامی سے دوچار ہو کر اپنے اختتام کو پہنچا۔ نتیجتاً نواز شریف اور زرداری کی مشترکہ سوچ کے مطابق پالیسی شفٹ (امریکہ اور مغرب کی بجائے علاقائی تعاون) کو توجہ دی گئی۔ چین ایران اور افغانستان کے ساتھ تعلقات تیزی کے ساتھ بہتر بنائے جا رہے ہیں بلکہ علاقائی تعاون کے بڑے بڑے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ ایک سال سے جاری آئی ایم ایف کی منت سماجت بند کر دی گئی۔ اور عالمی اداروں کی تمام تر خدشات کے باوجود پاکستان ڈیفالٹ سے بچ گیا ہے۔
کئی سال بعد سختی سے قانون کی عملداری شروع ہو گئی ہے۔ امریکی مخالفت کے باوجود ایران اور روس کے ساتھ معاہدے ہو رہے ہیں۔ اللہ کرے کہ میری خوش فہمی حقیقت بن جائے اور ہم امریکی اور آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات حاصل کریں اور علاقائی تعاون تجارت اور امن کو فروغ دیں۔ یہاں بعض ناقدین سوال اٹھا سکتے ہیں کہ علاقائی تعاون نواز زرداری کا مشترکہ منصوبہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ان کے لئے عرض ہے کہ میں اب کی نہیں 2011 سے 2017 تک کی بات کر رہا ہوں۔
2013 میں زرداری نے اپنی حکومت کے آخری ایام میں ایران کے صدر احمدی نژاد کے ساتھ مل کر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح کیا۔ اگرچہ امریکہ کی من مانی اور سپر میسی کی وجہ سے اس پراجیکٹ کو ابھی تک مکمل نہیں کیا جا سکا۔ مگر اب اس پر پیش رفت کا کافی امکان ہے۔ اور اس مقصد کے لئے وزارتی سطح پر تندہی سے کام جاری ہے۔ دوسری جانب سی پیک کے ابتدائی خد و خال پر بات چیت بھی زرداری کے دور میں شروع ہوئی تھی۔
2013 میں نواز شریف اقتدار میں آئے تو انھوں نے تمام تر توجہ سی پیک کی تکمیل پر مرکوز کردی۔ توانائی کی ضروریات پورا کرنے اور علاقائی ترقی کے لئے نواز شریف نے ترکمانستان، افغانستان اور بھارت کے ساتھ مل کر 10 ارب ڈالر کے تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح کیا۔ جو 1800 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے ترکمانستان سے گیس کو ان تین ممالک کو فراہم کرنا تھا۔ ان دونوں عظیم منصوبوں کا مقصد سستی توانائی کا حصول اور علاقائی تجارت اور تعاون کو فروغ دینا تھا۔
اور ظاہر ہے کہ اگر سی پیک، تاپی اور پاک ایران انڈیا پائپ لائن منصوبے بروقت مکمل ہو جاتے تو آج پاکستان تمام تر کرپشن اور بد انتظامیوں کے باوجود ان معاشی مشکلات کا شکار نہ ہوتا۔ اب تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ نے ان منصوبوں پر عملدرآمد روکنے کے لئے نواز شریف کو ہٹایا۔ اب بھی ان منصوبوں کی ازسر نو شروعات اور تکمیلی مراحل اتنا آسان نہیں۔ مگر خوش فہمی یہ ہے کہ شاید موجودہ آرمی چیف اور ان کے ساتھی گزشتہ دس سال میں رونما ہونے والے واقعات کی اصلیت جان چکے ہیں۔ چنانچہ وہ سیاسی قیادت اور علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر عالمی اسٹیبلشمنٹ کے منصوبوں سے اس خطے کو بچانے اور معاشی ترقی کے لئے یکسو ہیں۔ دوسری بات یہ کہ روس یوکرین جنگ کے بعد اب چین اور روس بھی زیادہ کھل کر امریکی مخالفت اور علاقائی تعاون کے فروغ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ پاکستان چند مہینے میں مشکلات سے نکلے گا۔ بلکہ اگر عالمی اسٹیبلشمنٹ رکاوٹ بننے میں کامیاب نہ بھی ہوئی تو پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں کم از کم 4 سے 5 سال لگیں گے۔
لیکن انشا اللہ مستقبل روشن ہو گا۔ اس لئے میری خوش فہمی کو خوش فہمی سمجھئے مگر غلط فہمی مت سمجھیے۔ ایک اور اہم بات یہ کہ چین سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کی مدد کو تو آگے آئے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بات بھی پاکستان پر واضح کر دی ہے کہ ملک کے اندر عیاشیوں اور بد انتظامیوں کا سلسلہ اب لازما رکنا چاہیے اور یہ بار بار مانگنے کا سلسلہ بھی ختم ہونا چاہیے۔ اور ان دونوں باتوں پر موجودہ سیاسی و عسکری قیادت اتفاق کر چکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ سیاسی و عسکری قیادت، سیاسی افراتفری، آئینی و معاشی بحران کی موجودہ صورتحال سے ملک و قوم کو کس طرح نکالتی ہے۔

