فکرمند پاکستان


مشتاق احمد یوسفی کا کہنا ہے کہ بادشاہوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مستقل اور دل پسند سواری در حقیقت رعایا ہوتی ہے۔

پاکستانی بھی گزشتہ کئی سالوں سے ایک ایسے کڑے وقت سے گزر رہے ہیں جو شاید پہلے کبھی کسی نے اس ملک میں دیکھا ہو۔ اس قدر شدید سیاسی محاذ آرائی ہے کہ ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بدتر دکھائی دیتا ہے۔ جمہوریت بہترین انتقام لگنے لگی ہے اور اس کمزور ناتواں جمہوریت کو جس قدر خطرہ آج اسی کے اپنوں سے ہے شاید پہلے کبھی نہ ہو۔ سیاسی رہنما ایک دوسرے کی دشمنی اور اقتدار کی رسہ کشی میں عوام کو یکسر فراموش کر بیٹھے ہیں۔

گزشتہ پانچ سالوں میں رعایا نے صرف مہنگائی بے روزگاری، معاشی تنگی سیاسی رسہ کشی اور گزشتہ ایک سال سے تو یہ حال ہے کہ غریب کے گھر کا چولہا بجھ گیا متوسط طبقہ غربت کا شکار اور صاحب حیثیت ملک سے فرار کے راستے ڈھونڈتے دکھائی دے رہے ہیں کوئی پرسان حال نہیں صاحب اقتدار عوام کا خون ٹیکسز اور مہنگائی کے صورت میں مسلسل نچوڑ رہے ہیں عوام جن کو کسی غیر ملکی قرضے کا جب معلوم ہوتا ہے جب کوئی نئی حکومت آتی ہے اور بتاتی ہے کہ اب آپ کتنے بیرونی قرض تلے دبے ہوئے ہیں۔

کمال یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے مقروض عوام کو معلوم ہی نہیں کہ ان کے نام پر قرضہ کب کب لیا گیا، کہاں خرچ ہوا کیا، اس کے کیا فوائد ملے، کن شرائط پر ملا اور مزید کتنے مقروض ہوچکے ہیں۔ اگر اس قرضے کا بوجھ بھی عوام نے ہی اٹھانا تھا تو قرضہ لینے کی کیا ضرورت تھی ایسے ہی مہنگائی، سبسڈی کے مکمل خاتمے اور مزید ٹیکسوں کے نفاذ سے عوام کو پیس دیا جاتا ہماری عوام نے کون سا اپنے جائز حقوق کے لئے سڑکوں پر نکلنا ہے۔

یہ مسند اقتدار پر بیٹھے حکمران کرسی ملنے سے پہلے تک ہی عوام کے ہمدرد ہوتے ہیں اس کے بعد یہ اپنے مفادات کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ موجودہ حکمرانوں کا شمار بھی ان میں سے ہی ہوتا ہے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ان کی زبان پر بڑھتی مہنگا عوام کے مسائل اور غریب کی فکر کا چرچا عام تھا جیسے ہی حکومت ملی سوائے پچھلی حکومت کو کوسنے اور مہنگائی میں بتدریج اضافے کے انہیں اور کچھ سوجھ ہی نہیں رہا۔ آئی ایم ایف سے ملنے والے قرض کی رقم سے کئی گنا زیادہ عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسنے کے باوجود بھی مزید قرضے کی تمنا ہی ان کے پاس واحد حل دکھائی دیتا ہے۔

ملک میں غربت کے خاتمے کا دعوے دار پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت اپنے فیصلوں اور عوام پر مہنگائی کے بوجھ کے سبب عوام میں انتہائی ناپسندیدگی کے سفر پر تیزی سے گامزن ہے جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہی ہو رہا ہے آج ملک میں تاریخ کی بدترین ریکارڈ مہنگائی موجودہ حکومت کے جمہوری انتقام کے سوا کچھ نہیں جس کے نرغے میں ہر خاص و عام ہے سوائے حکمرانوں کے۔ بظاہر پی ڈی ایم بالخصوص نون لیگ نے گزشتہ حکومت کی خراب کارکردگی کا بوجھ اپنے اوپر لاد رکھا ہے اور اس کا فائدہ پی ٹی آئی کو ہی ہو رہا ہے جس نے اپنے وقت اقتدار میں صرف زبانی کلامی اور بلند و بانگ دعووں کے طفیل ہی اقتدار کے مزے لوٹے خانصاحب کی تقاریر اور ان کے اسٹائل کو اگر ان کی حکومت سے علیحدہ کر دیا جائے تو پیچھے صرف خوش گمانیاں اور آسرے ہی باقی بچتے ہیں جو کہ تمام پی ٹی آئی اور ہماری شخصیت پرست عوام کا اثاثہ ہیں۔

یہاں حیرت انگیز امر یہ بھی ہے کہ گزشتہ ادوار میں حزب اختلاف عوامی مسائل کو اجاگر کر کے خصوصاً مہنگائی کو اپنا ہدف بنا کر اقتدار میں آتی تھی مگر موجودہ اپوزیشن کے مقبول ترین لیڈر عمران خان کے گزشتہ ایک سال کا بیانیہ صرف اور صرف اپنی پبلسٹی اور عوام کو یہ باور کروانا کہ ان سے بہتر کوئی شخص اس ملک میں تھا نہ ہے نہ ہو گا کے ساتھ ساتھ اداروں بالخصوص افواج پاکستان پر بھرپور حملہ آور ہونے کے سوا کچھ نہیں۔

ان کے ایک سال کے متضاد بیانات ثابت کرتے ہیں کہ سوائے اقتدار کے حصول وہ بھی ہر قیمت پر، کے علاوہ خان صاحب کو بھی عوام سے کچھ لگاؤ نہیں۔ اپنی تقریباً چار سالہ خراب کارکردگی اور متواتر یو ٹرنز پر شرمندگی نہ عوامی مسائل کا ادراک نہ آگاہی نہ آئندہ کے لئے کوئی معاشی یا سیاسی روڈ میپ بس دیوانگی کی حد تک اقتدار کی چاہت اور کچھ نہیں۔ اداروں سے ٹکراؤ بالخصوص افواج اور ان سے منسلک افراد پر جس طرح کے الزامات وہ بھی بنا ثبوت عمران خان نے لگائے یہ بھی اس ملک میں کبھی نہیں ہوا۔

عمران خان ملک کے ان خوش نصب شخصیات میں سے ہیں جن کے دور میں انہیں اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اہم اداروں کا بھرپور ساتھ ملا جس کا وہ بطور وزیراعظم بارہا اقرا کرچکے ہیں مگر اس کے باوجود بھی خان صاحب کی کارکردگی اوسط درجے سے بھی کم رہی جب ہی ان کے پاس اس وقت بھی اپنی کارکردگی بتانے کو صرف دوسروں پر الزامات اور اپنے خلاف مبینہ سازش کے سوا کچھ نہیں۔ اور تو اور آئے روز اپنے قتل کی سازش کا الزام ہر کسی پر لگانا اور اپنے کارکنوں کو ورغلانے کے سوا انہوں نے کون سی قوم کی خدمت کی ہے؟ جو کہ ملک کی جگ ہنسائی کا سبب بھی ہے۔ کیا برا تھا کہ وہ عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر بے تحاشا مہنگائی، بے روزگاری کو ہدف بنا کر احتجاج اور آئندہ کے لئے اس عفریت کے نجات کا پروگرام پیش کرتے۔ جس طرح انہوں نے اپنے چاہنے والوں کو اداروں کے خلاف کیا اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے دوسروں پر الزامات کی بوچھاڑ کی اپنی صفر کارکردگی اور کسی بھی وعدے، دعوے کی تکمیل نہ ہونے پر بھی کوئی پچھتاوا نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ ان میں اور دوسرے سیاست دانوں میں رتی برابر فرق نہیں۔

تبدیلی، نیا پاکستان، ریاست مدینہ، نوے دن میں کرپشن کا خاتمہ، عوام پر ڈالروں کی برسات، بیرونی قرضوں سے مکمل نجات، کروڑوں نوکریاں غریب طبقے کے لئے لاکھوں گھر کا وعدہ صرف مسند اقتدار سے منسلک طاقت اور آسائشوں کے حصول کے لئے ہی تھا۔ اس وقت جو ملک کے موجودہ حالات ہیں وہ صاف دکھائی دے رہا ہیں کہ تمام کے تمام سیاستدان جلد ایک نئے میثاق جمہوریت کی تیاری میں ہیں جو یقیناً ملک سے باہر لندن یا دبئی کے پر فضا ماحول میں ہی ہوگی کیونکہ پاکستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر کوئی ڈکٹیٹر جمہوریت کا بستر لپیٹ چکا ہو گا اور یہ سیاست دان مظلوم بن کر ایک دوسرے سے گلے شکوے کر کے ایک ہوجائیں گے لیکن اس تمام وقت میں جو نقصان اس ملک کا مظلوم، غریب عوام کا ہوا اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟

صرف بھاشن ہیں میرے سب وعدے
جیت کر سب میں بھول جاتا ہوں۔

Facebook Comments HS