تبدیلی کے لیے، تشدد ناکامی اور عدم تشدد کامیابی کا راستہ


ہمارا نوجوان ہمیشہ خوش نما انقلابی نعروں کے پیچھے بھاگنے کو کامیابی کا راستہ سمجھتا ہے۔ اور اس کے نتیجے کے طور پر وہ ہر مرتبہ بآسانی سسٹم کے ہاتھوں استعمال ہو کر نہ صرف اپنا بلکہ خاندان، ملک و قوم کا مستقبل تاریک کر دیتا ہے۔ اور جو پس پردہ قوتیں اس کو استعمال کر رہی ہوتی ہیں۔ ان کو حیات نو مل جاتی ہے۔ اور ان کا کام چلتا رہتا ہے۔

ہمارے نوجوان نے کبھی اپنے خطے و اردگرد کے ممالک میں آنے والی حقیقی تبدیلیوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی۔ بلکہ چند من پسند اینکر پرسنز یا لکھاریوں کو سن اور پڑھ کر اپنے جذبات کی تسکین کر لیتا ہے۔ پھر جب وہی لوگ اپنی وفا داریاں تبدل کر لیتے ہیں۔ تو اسے کچھ سجائی دینا تو در کنا بلکہ وہ مایوس کا شکار ہو جاتا ہے۔ آخر میں ایک ہی بات رہ جاتی ہے۔ ”کہ اس ملک میں کچھ نہیں ہو سکتا“ جب کہ دوسری طرف وہی نام نہاد دانش ور جو کبھی اس کے آئیڈیل رہ چکے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے حصے کا نذرانہ نظام سے وصول کر کے اپنی من پسند و پر تعیش زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ نام نہاد تبدیلی کا نعرہ لگانے والی نظام کی آلہ کار قوتوں نے ہمارے نوجوان میں مطالعہ کی حس، سوال کی طاقت کو ختم کر کے سوچ کو مفلوج کر دیا ہے، اسے آئیڈیل ازم و شخصیت پرستی کا شکار بنا دیا ہے۔ جس طرح ماضی میں مروجہ نام نہاد سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے اندر دقیانوسی پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔ اسی کا شکار یہ روشن خیال نوجوان بھی ہمیں نظر آتا ہے۔ نتیجہ پھر یہی ہوتا ہے۔ جیسے قوم تمام مروجہ جماعتوں کے آلا کار کارکنان سے بد زن ہوتی ہیں۔ ان سے بھی وہ ایک وقت میں بد زن ہو جاتی ہیں۔ اس سے قوم میں مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ اور کچھ کرنے کا جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔ بلکہ جذبات کی جگہ مردہ ضمیری لے لیتی ہے۔

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہمارے پڑوسی ملک ایران میں، ایک بہت بڑی تبدیلی عمل میں آئی جس کو انقلاب ایران کا نام دیا جاتا ہے۔ جب ایران میں تبدیلی آ رہی تھی تو شاہ ایران کی فوج کا شمار دنیا کی صف اول کی افواج میں ہوتا تھا۔ شاہ ایران کی طرف سے یہ آرڈر جاری کر دیا گیا کہ انقلابیوں کو سر عام فائر سے آڑا دیا جائے۔ مگر اس وقت کی حقیقی انقلابی قوت نے یہ فیصلہ کیا کہ جب ان کو سر عام گولی مارنے کا عمل کیا جائے گا تو وہ سامنے سے بے خوف اور صبر استقامت کا پہاڑ بن کر پھول نچھاور کریں گے۔

جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فوج جس کا تعلق اپنی ہی قوم کے طبقات سے ہوتا ہے۔ وہ ایک دن اپنے اس سفاک عمل سے پیچھے ہٹ گئی۔ اور شاہ ایران کو مشکلات سے دوچار ہو کر ملک چھوڑنا پڑا۔ یوں ایک کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اور آج ایرانی قوم سامراجی پابندیوں کے باوجود، نت نئے سیاسی و معاشی معاہدات، اور خود کفالت کی طرف بڑھنے میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ سب شعور، حکمت، دانش اور تزکیہ کی ہی بدولت ہوا۔ تشدد کرتے تو اسی وقت مٹا دیے جاتے۔

اس کے برعکس ہمارے ہاں نام نہاد سسٹم کی ہی آلہ کار قوتیں ہمیشہ تشدد پر ابھارتی ہیں اور بعض اوقات تو ان تحریکات کے اندر خود سے پر تشدد عناصر ایک سازش کے تحت شامل کر دیے جاتے ہیں۔ اور نتائج وہی ظالمانہ سسٹم خود سمیٹتا نظر آتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے نوجوان کو چاہیے کہ وہ کم از کم اردگرد کے ممالک، تاریخ کا مطالعہ کرے۔ جس سے اس کو درست سمت کے تعین میں بھی مدد ملے گی۔ اور مایوسی کا خاتمہ بھی ممکن ہو گا۔ وگرنہ اغیار و سسٹم کے ہاتھوں استعمال ہونے کا عمل پون صدی سے جاری ہے۔ جس کا نتیجہ صفر بلکہ نا امیدی، بد عملی و بے عملی کے سوا کچھ نہیں۔

Facebook Comments HS