ریلوے اسٹیشن پر تین مناظر؟ (3)


دوسرا نظارہ یہ تھا کہ کچھ فاصلے پر پلیٹ فارم 9 سے تھوڑا ادھر میرے کانوں نے ایک غیر معمولی شورو غل سنا۔ مجھے ایسا لگا کہ غائب سے آواز آ رہی ہے ’بسکٹ نہ کھانا یہ SOOPER نہیں ہیں۔ ‘ پیکٹ کو مسجد کی دیوار کے ساتھ بنائے گئے کنکریٹ کے چبوترے پر بنا تردد چھوڑ آیا تاکہ بروز قیامت نیک گواہی سند رہے۔ داغ مفارقت دیتی ہوئی دھوپ کی سمت کا جائزہ لینے کے لیے اٹھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگوں کا ایک جم غفیر ریلوے لائن پر کھڑا، ایک بوگی کو بنظر تاسف دیکھ رہا ہے۔

میں بھی بھاگا۔ دیکھوں کیا تماشا ہوا ہے۔ لوگوں کے جتھے نے مجھے اتنی جگہ بھی میسر نہ ہونے دی کہ ریلوے ٹریک پر جو انہونی ہوئی ہے اسے بچشم خود ملاحظہ کر سکوں۔ میں نے اپنے خدشے کو حقیقت کا روپ دھارنے کا ثبوت ان تماشائیوں سے پوچھ گچھ کر کے حاصل کر لیا جو موقع ملاحظہ کرنے کے بعد لوٹ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا بوگی احتجاجاً پٹری سے نیچے اتر گئی ہے تاکہ وہ آئندہ پیدا والی اپنی جدید نسل کی کوچز کا مستقبل محفوظ بنا سکے۔

کچھ ہی دیر بعد نارووال جانے والی گاڑی پلیٹ فارم 9 پر آ گئی، کافی مسافر ریل پر سوار ہونے کے لئے چلے گئے۔ مطلع قدرے صاف ہوا تب میں نے دیکھا کہ انہونی نہیں ہوئی تھی بلکہ ہونی ہوئی تھی جس نے بلڈ پریشر کی گولی کھانے کا میرا دعویٰ درست ثابت کر دیا۔ شنٹنگ کے دوران، انجن کے ساتھ منسلک واحد بوگی کے آہنی پہیوں کا چیٹی پاڑھ دونوں طرف کی پٹریوں سے اتر کر زمین میں دھنس چکا تھا۔ ورکشاپ کی طرف سے مدد گار ایک ٹرین پلیٹ فارم 6 پر پہنچی، پانچ ریلوے ورکرز ایک نابغہ روزگار ٹھیلے کو ریلتے ہوئے جائے حادثہ پر لے آئے، جس پر دو دیو ہیکل ہیوی ڈیوٹی جیک لدے ہوئے تھے۔

ایک ایک جیک بوگی کے اطراف فٹ کر کے مزدوروں نے قوت بازو کے سہارے آدھا گھنٹا اپنا پسینہ بہا کر پہیوں سے منسلک تختے (فریم) کے لئے جگہ بنا کر پہیوں کو واپس پٹری پر رکھ دیا۔ یہ بات الگ ہے کہ پٹریوں کا اندرونی اور بیرونی جھکاؤ اپنی جگہ برقرار رہنے دیا جائے گا تاکہ کچھ دنوں بعد پھر سے مزدوری دینے کے لئے مزدوروں کا پسینہ بہایا جا سکے۔

جب وہ کچھ میرے سامنے ہو گیا جس کا دس پندرہ منٹ قبل میں خودکلامی کر کے خدشے کا اظہار کر رہا تھا تو اس وقت میرے ذہن میں آیا کہ کوئی تو میرے واہمے کو عملی صورت اختیار کرتا دیکھتا تو میری روح بڑی شادماں ہوتی۔ میرے جیسے اور بھی لوگ ہوں گے جو اس قسم کی انہونی کو ہونی میں تبدیل ہونے کی پشین گوئی کرتے ہوں گے جو واقع ہو بھی جاتی ہوگی۔ ایسے لوگوں کو گواہ بھی مل جاتے ہوں گے۔ لیکن کیا یہ مسئلے کا حل ہے یا محض اپنی انا کی تسکین۔

مسئلہ ٔ تو اپنی جگہ رہے گا۔ کیا وقتی حل، مستقبل حل سے نجات دلا سکتا ہے یا یہ کہ مستقل حل، وقتی حل کی ضرورت ہی پیش نہیں آنے دے گا۔ میں نے بہت تماشا دیکھ لیا تو خیالات کے اس بھنور میں گھرے رہنے کی بجائے پلیٹ فارم 3 پر واپس آ کر باریک باریک سوراخوں والے ایک سٹیل بینچ پر بیٹھ گیا۔ اتفاق سے اس پر نشتہ آدمیوں میں سے ایک اٹھ کر چلا گیا تبھی وہاں میرے لیے گنجائش بن گئی۔ میں دائیں بائیں بیٹھے مسافروں کی باتیں غور سے سننے لگا اس خیال سے کہ ان میں سے شاید کوئی تو ہو گا جو میرے تحیر سے مطابقت رکھتا ہویا عین ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی تو ریلوے کے ناقص نظام بارے میری بھڑاس سہ لے گا۔

میرے خیال میں یہ شخص مناسب رہے گا جو مجھے وہاں براجمان ہونے تک دیکھتا جا رہا تھا۔ میں نے آج کا سارا واقعہ اس کے ساتھ مذکور کر کے سوال کیا ”کچھ اس کا بھی علاج ہے چارہ گر کہ نہیں؟“ اس کے علاوہ میں نے ایک اور سوال رکھا ”اگر ہمیں کسی محکمے کی خراب کارکردگی کا علم بروقت ہو جائے تو ایسا کیا ہونا چاہیے کہ محکمے کے سربراہ کو اس خرابی کا علم فی الفور ہو جائے اور وہ کم سے کم تاخیر کے ساتھ رفع بھی ہو۔“ مسافر کہنے لگا ”آپ تند کی بات کر رہے ہیں یہاں تو تانی ہی بگڑی ہوئی ہے۔ لہذا تان اس پر ٹوٹی کہ ہم سب کا خون ایک نسل سے تعلق نہیں رکھتا اسی لئے چبھنے والے کانٹے کی درد کسی دوسرے کو محسوس نہیں ہوتی۔“

ناگاہ میری نظر ایک بوڑھی خاتون پر پڑی جو دستکاری کر رہی تھی۔ کریشیے اور سلائیوں کی مدد سے دستانے بن رہی تھی۔ میں نے سوچا یہ ایک فاتر العقل بڑھیا ہے، بینچ سے ذرا پیچھے بیٹھی بے کار وقت ضائع کر رہی ہے۔ آج کل کہاں رواج ہے دستکاری دستانے پہننے کا ۔ اگر ہے بھی تو یہاں اس سے کون یہ خریدے گا۔ لوگ آ رہے ہیں، جا رہے ہیں۔ مگر میرے علاوہ کسی کے ریڈار میں یہ خاتون نہیں تھی۔ وہ ایسی فیکٹری تھی جس کی وہ مالک تھی اور مزدور بھی۔ لیکن شاید ایسی مالک جسے ان منڈیوں تک رسائی نہ تھی جہاں اس کا تیار مال مناسب داموں پر فروخت ہو سکتا ہو۔ میری دانست میں ایسی کوشش نتیجہ خیز کیسے ہو سکتی ہے؟ مفلوک الحال آدمی باوجود اپنے پاس قابل عمل منصوبہ رکھنے کے، سرمایہ دارانہ ماحول میں کیسے ترقی کر سکتا ہے؟

Facebook Comments HS