سیاست دانوں کی آمدنی: حلیمہ سعدیہ کے معصومانہ سوالات


میری چھوٹی بیٹی حلیمہ سعدیہ جو کہ ابھی نویں جماعت کے امتحانات سے فارغ ہوئی ہے گزشتہ شب کو اس نے اچانک ایک سوال پوچھ لیا کہنے لگی کہ بابا یہ جو سیاست دان ہوتے ہیں ان کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے اس کے غیر متوقع اور اچانک سوال میں گڑ بڑا گیا اور چند لمحے کے لئے خاموش ہو گیا کہ اسے کیا جواب دوں اس سوال سے اندازہ ہوا کہ ہماری آج کی نسل جس گھٹن زدہ ماحول اور سرمایہ دارانہ نظام پروان چڑھ رہی ہے اور اپنے گرد و پیش میں جس ماحول کا مشاہدہ کر رہی ہے اس کے لاشعور میں اپنے ملک کی اشرافیہ کے متعلق ایسے سوالات جنم لے رہے ہیں جن کا جواب حقیقی شاید ہم نوجوان نسل کو نہیں دے سکتے۔

میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ بیٹا سیاست دانوں کی تنخواہ نہیں ہوتی بلکہ ان کے اپنے کاروبار ہوتے ہیں جن سے یہ اپنے روز مرہ کے اخراجات پورے کرتے ہیں البتہ جب یہ اسمبلی کے ممبر بن جاتے ہیں تو تنخواہ اور متعلقہ مراعات قانوناً ان کو مل جاتے ہیں۔ حلیمہ کہنے لگی یہ تو ہر وقت ٹی وی پروگراموں میں بیٹھے ہوتے ہیں یہ کاروبار کس وقت کرتے ہیں اور یہ کون سا ایسا منافع بخش کاروبار کرتے ہیں جس سے ان کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں آجاتی ہیں اور یہ بڑے بڑے عالیشان گھروں میں رہتے ہیں۔

حلیمہ کے اس سوال سے جڑے سوالات کے جوابات بھی میرے پاس تھے لیکن میں نے اس کے ناپختہ ذہن کو مزید کسی ذہنی الجھن سے بچانے اور اس کا اپنے ملک کے رہنماؤں پر اعتبار قائم رکھنے کے لئے اس کے سوالوں کے کسی حد تک تسلی بخش جواب دے کر اسے سمجھانے کی حتی المقدور کوشش کی جس میں کسی حد تک کامیاب تو گیا لیکن اس چھوٹی عمر کی بچی کے سوالوں نے میرے پختہ ذہن میں ہلچل مچا دی کہ ہمارے بچوں کے ناپختہ ذہنوں کی سوچ کس قدر پختہ ہو گئی ہے اور اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ جس معاشرے اور معلومات کے بے بہاؤ کے جس دور میں جوان ہو رہے ہیں اس سے ان کے معصوم ذہنوں میں اس طرح کے سوالات کلبلا رہے ہیں اور وہ ان کے جواب کے متلاشی ہیں۔

سیاست دانوں کی تنخواہوں سے یاد آیا کہ گزشتہ دنوں ہمارے ملک کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کی ماہانہ تنخواہ کے متعلق ذرائع ابلاغ میں یہ خبر گردش میں تھی کس عہدے پر کتنی تنخواہ وصول کی جا رہی ہے۔ اس میں صدر مملکت، وزیر اعظم، وفاقی وزراء، ممبران اسمبلی، عدلیہ کے معزز جج صاحبان کے علاوہ بائیسویں گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا چرچا رہا ہے۔ اس تنخواہ لیک خبر سے ایک حقیقت تو سامنے آئی ہے کہ ہمارے سیاستدان جو بڑی تگ و دو اور الیکشن میں کثیر رقوم خرچ کر نے کے بعد ان بڑے عہدوں پر متمکن ہوتے ہیں وہ ان عہدوں پر پہنچتے ہیں سرکاری مراعات کے حقدار ٹھہرا دیے جاتے ہیں اور یہ مراعات لا تعداد ہوتی ہیں جن میں سرکاری گاڑیوں سے لے کر سرکاری گھر، پٹرول، یوٹیلٹی بل، نوکر چاکر، ہوائی سفر کے اخراجات کے علاوہ ہر طرح کا خرچ جو کسی انسان کی بنیادی ضرورت ہوتا ہے وہ سرکار اپنے ذمہ اٹھا لیتی ہے صرف کھانے پینے کے اخراجات متعلقہ عہدیدار کی جیب سے ہوتے ہیں۔

بڑے عہدوں پر متمکن یہ چھوٹے لوگ حقیقت میں عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھے کیے گئے پیسے سے اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں جس کے لئے قانون سازی کا اختیار بھی ان کے اپنے پاس ہی ہے اسمبلی میں ممبران کی مراعات کا بل جب پیش ہوتا ہے تو حزب اقتدار کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف بھی ہاں میں ہاں ملانے میں دیر نہیں کرتی۔ اسمبلی کے فلور، پریس کانفرنسوں، جلسوں اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں ایک دوسرے کے پرخچے اڑانے والے بیانات داغنے اور تقریریں کرنے والے یہ صاحبان یکا یک ہم نوالہ ہم پیالہ بن جاتے ہیں اور متفقہ طور پر ایسی مراعات کا بل فوری طور پر منظور کر لیا جاتا ہے جوان کی جیبوں کو گرم کرتا ہے اور یوں قانونی طور پر ملک کی یہ نام نہاد اشرافیہ اپنے اللوں تللوں کے لئے سرکار کے بجٹ کا بے دریغ استعمال کرنے میں حق بجانب ہو جاتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے امیدوار صرف وہی ہوتے ہیں جن کے پاس زر کثیر ہوتا ہے البتہ یہ زر کثیر کس طرح اور کن ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے اس کے بارے میں تبصرے سے گریز ہی کرنا چاہیے کیونکہ اسمبلی میں جو نئے قوانین زیر تجویز ہیں اس طرح کے تبصروں سے معزز ممبران کا استحقاق مجروح ہو سکتا ہے لہذا خاموشی ہی بہتر ہے۔ الیکشن کے اخراجات میں جس قدر اضافہ ہو چکا ہے وہ کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے لہذا یہ جو الیکٹیبلز کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے دراصل یہ وہی لوگ ہیں جن کے پاس مال و متاع کی کوئی کمی نہیں ہے اور یہ اپنی اس مال و متاع کا بر موقع استعمال کر کے الیکشن میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کوشش میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں کہ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ پیسے میں بڑی طاقت ہوتی ہے اور ہمارے ہاں تو یہ اصطلاح اکثر سچ ہی ثابت ہوتی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ الیکشن مہم پر بھاری اخراجات کے بعد جب یہ ممبر منتخب ہو کر اسمبلی اور بعد ازاں اس کے طفیل کسی اور بڑے عہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو ان کو بغیر کسی تنخواہ اور مراعات کے کام کرنا چاہیے اور ایسی قانون سازی کرنی چاہیے جس سے ایک عوامی نمائندے کو عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ مراعات کا خاتمہ ہو جائے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ عوام کی خدمت کے لئے جس دکھ اور درد کا اظہار یہ عوامی نمائندے اپنی الیکشن مہم میں کرتے ہیں اس دکھ درد کو یہ عوامی نمائندے سرکاری مسند پر بیٹھتے ہی بھول جاتے ہیں اور عوام سے اظہار ہمدردی کر کے ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کے وعدے پر ووٹ حاصل کیے ہوتے ہیں اسی دکھیاری عوام پر رعب جمانے کے لئے بڑی بڑی گاڑیوں میں ہٹو بچو کی صدا لگاتی ہوٹر والی گاڑیوں کے جلو میں یہ ان کے پاس سے دھول اڑاتے گزر جاتے ہیں ایسی وڈیوز دیکھ کر اور خبریں پڑھ اور سن کر ہی حلیمہ سعدیہ جیسی بچیوں کے ناپختہ ذہنوں میں سیاستدانوں کے ذرائع آمدنی کے متعلق سوالات کلبلاتے ہیں ان سوالات کے حقیقی جوابات ایک باپ کے پاس بھی ہیں اور ان سوالات کے حقیقی جواب ہماری اشرافیہ کے پاس بھی ہیں لیکن ہماری اشرافیہ شاید یہ کڑوا سچ بولنے کو تیار نہیں ہو گی۔

Facebook Comments HS