ڈاکٹر عرفان شاہ کا اعزاز: محمد شان الحق حقی دہلوی پر پہلا ڈاکٹریٹ مقالہ (1)
ممتاز ماہر تعلیم، محقق، مصنف، صحافی، مدیر، مولف اور اردو زبان و ادب کے ہر دلعزیز استاد پروفیسر ڈاکٹر عرفان شاہ حلقۂ علم و ادب کی ایک معروف اور کثیر الجہت شخصیت ہیں۔ بزم اساتذۂ اردو سندھ کے روح رواں، فروغ نفاذ اردو کے لیے سرگرم عمل جبکہ بطور مصنف اور مولف خیر کثیر اور طبقاتی کشمکش جیسی اعلی معیاری کتب کے نام ہی کافی ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عرفان شاہ گزشتہ تقریباً چھتیس برس سے اردو ادب کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ان دنوں سراج الدولہ گورنمنٹ ڈگری کالج نمبر1 کراچی میں صدر شعبۂ اردو ہیں۔ اعلی ثانوی مدارس سے جامعات کی مختلف حوالوں سے نمائندگی اور ایم فل اور پی۔ ایچ۔ ڈی کے ممتحن ہونے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔ یہ اعزازات کیا کم تھے کہ ایک اور قابل رشک اعزاز بھی ڈاکٹر عرفان شاہ کو حاصل ہوا اور وہ یہ کہ پاک و ہند کے ممتاز ماہر لسانیات، محقق، نقاد، مترجم، معلم، مصنف، مولف، قادر الکلام شاعر اور نابغۂ لسان و ادب جناب محمد شان الحق حقی دہلوی کی شخصیت، فن اور خدمات کے حوالے سے سب سے پہلا، عمدہ اور تحقیق و تنقید کے اعلی معیار کا پی۔ ایچ۔ ڈی مقالہ تحریر اور منظور کروا کر پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ قرار پائے۔
جناب محمد شان الحق حقی دہلوی علیگ کو بلا شبہ ایک ملٹی ڈائمینشنل پرسنیلیٹی، ایک کثیر الجہت شخصیت کے طور پر اردو زبان ادب میں قابل رشک مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ بحیثیت ماہر لسانیت بھی ان کے بیان و فرمان اور موقف و رائے کو سند کا درجہ حاصل ہے۔ صاحبان فہم و فراست میں شمار کیے جانے والے جناب محمد شان الحق حقی دہلوی علیگ نے درجن بھر سے زائد شعبہ جات میں اپنی علمی، فنی، فکری، تنظیمی اور تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ان کے معاصرین کی اکثریت نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کی پذیرائی بھی۔ جناب شان الحق حقی دہلوی علیگ کے ساتھ پندرہ سولہ سے زائد ملاقاتوں کی حسین یادیں ہمارے ذہن میں بھی محفوظ ہیں اور کہیں قافلہ پڑاؤ کی رپورٹس میں بھی ہوں گی ۔ پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے متعدد بار سید فخرالدین بلے کی قائم کردہ بین الاقوامی شہرت کی حامل ادبی تنظیم قافلہ کے پڑاؤ میں بھی بھی شرکت کی اور خصوصی لیکچرز بھی دیے اور تو اور دو، تین مرتبہ تو انہوں نے لاہور میں اپنے قیام کی نصف سے زیادہ مدت سید فخرالدین بلے کی میزبانی میں بلے ہاؤس میں گزاری۔
ایک مرتبہ تو ایسا بھی اتفاق ہوا کہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ تو لاہور پہنچ گئے لیکن ڈاکٹر وزیر آغا وزیر کوٹ سے اور اپنے شہر سرگودھا سے اپنے دوست کی میزبانی کے لیے بروقت لاہور نہ پہنچ سکے۔ قصہ مختصر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے اپنے لیکچر میں شان الحق حقی دہلوی علیگ کی تحریروں کے دو یا تین حوالے بھی دیے تھے۔ جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سید حامد لاہور تشریف لائے تو ان کی میزبانی کا اعزاز بھی سید فخرالدین بلے کے حصے میں آیا۔
ڈاکٹر سید حامد کے اعزاز میں سید فخرالدین بلے نے قافلے کا خصوصی پڑاؤ ڈالا۔ حسب روایت قافلہ کے اس پڑاؤ کا مقام بھی سید فخرالدین بلے کی اقامت گاہ تھا۔ اس پڑاؤ میں بھی مستقل شرکائے قافلہ پڑاؤ کے ساتھ ساتھ (وابستگان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) علامہ سید غلام شبیر بخاری علیگ، مختار مسعود علیگ، سید آل نبی جعفری علیگ، اداکار منور سعید، ڈاکٹر برہان فاروقی علیگ اور جناب محمد شان الحق حقی علیگ نے بھی شرکت کی۔ نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل نیازی اور سرفراز سید نے انجام دیے۔ جبکہ اشفاق احمد خاں، ڈاکٹر آغا سہیل، شان الحق حقی، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر سلیم اختر، ممتاز شاعر و ادیب جناب خالد احمد اور مہمان خصوصی جناب پروفیسر ڈاکٹر سید حامد نے گفتگو میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
ایک مرتبہ تو ایسا بھی ہوا کہ جناب احمد ندیم قاسمی نے فون پر بابا جانی قبلہ سید فخرالدین بلے کو مطلع فرمایا کہ علامہ طالب جوہری کی متوقع آمد بوجوہ مؤخر ہو گئی ہے لہذا ان کے اعزاز میں کل کے لیے کسی قسم کا اہتمام نہ کیجے گا۔ سید فخرالدین بلے نے جناب سے دریافت کیا کہ آپ کی آج دوپہر میں کوئی خاص مصروفیت ہے تو قاسمی صاحب نے فرمایا کہ کوئی قابل ذکر مصروفیت نہیں بس روزمرہ کے امور زیر نظر ہیں۔ یہ سن کر سید فخرالدین بلے نے احمد ندیم قاسمی صاحب کو مطلع فرمایا آپ کا فون آنے سے دو چار منٹ قبل ہی جناب شان الحق حقی علیگ صاحب تشریف لائے ہیں گویا کہ ہم علامہ طالب جوہری کی آمد مؤخر ہونے کے باوجود بھی آپ کی زیارت سے محروم نہیں رہیں گے کیونکہ شان الحق حقی علیگ صاحب آج اور کل تو یہیں ہیں البتہ پرسوں صبح ان کی روانگی ہوگی اور وہ آپ سے ملنے کے خواہش مند ہیں۔
مختصر یہ کہ احمد ندیم قاسمی صاحب اور برادر محترم خالد احمد ظہرانے پر تشریف لائے اور سلسلۂ گفتگو ظہر تا مغرب کے بعد تک جاری رہا۔ ڈائننگ ٹیبل پر براجمان ہوتے ہی اللہ جانے شان الحق حقی صاحب کو کیا سوجھی کہ انہوں نے مجھے مخاطب کر کے کہا ظفر معین ہم نے بلے صاحب کی فرمائش پر آواز جرس کے لیے آپ کو گزشتہ ماہ چند غزلیات اور نظمیں ارسال کی تھیں کیا وہ شائع ہو گئی ہیں؟ میں حقی صاحب کی یہ بات سن کر حیران سا ہوا اور عرض کیا کہ نہیں مجھے تو آپ کا کلام موصول ہی نہیں ہوا۔ یہ سن کر حقی صاحب نے سید فخرالدین بلے کو متوجہ فرمایا اور کہا کہ آپ کی فرمائش پر ہی تو بھجوایا تھا ہم نے کلام تو بابا جانی سید فخرالدین بلے نے معاملے کو بھانپتے ہوئے فرمایا حضور آپ واپس پہنچ کر میرے نام پر دوبارہ ارسال فرما دیجے گا۔ (جاری ہے )


